ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 4 – ج.ا




میجر راجہ عزیز بھٹی:
“جوان! تم مسلسل محاذ پر ہو، چھ دن اور چھ راتیں بغیر آرام کے گزاری ہیں۔ واپس آجاؤ تھوڑی دیر آرام کر لو۔ تمہاری جگہ دوسرا آفسر آجائے گا۔” اسے آفسر کی طرف سے پیغام ملا۔
“مجھے مت بلائیں۔ میں واپس آنا نہیں چاہتا۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنی سرزمین کا دفاع کرونگا۔” وہ اپنے عزائم سے انہیں آگاہ کر چکا تھا۔
وہ چھ راتوں کا مسلسل جاگا ہوا، افسر کی بات سن کر بھی جنگ سے واپس نہیں آیا۔ اس کی آنکھوں میں نیند کا نشان تک نہیں تھا۔ چیتے کی طرح چوکنا مسلسل دشمن کے پرخچے اڑا رہا تھا۔ دشمنوں اسکے چٹانی جذبوں کی فصیل پھلانگنے میں ناکام ہوچکا تھا۔ آسمان پر اس کے استقبال کی تیاریاں مکمل تھیں اور پھر۔۔۔۔! دشمن کی توپ گولا اگلتی ہے جو اس کا سینہ چیر جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید ہو جاتا ہے، کیونکہ شہید مرتے نہیں!! جس عظیم مرتبے کو پانے کی ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے وہ اس پر فائز ہو چکا تھا۔ درخت پر بیٹھے پرندوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ میجر راجہ عزیز بھٹی اپنی پاک سرزمین کا دفاع کرتے کرتے آسمانوں پر جا چکے تھے۔۔۔!!
میجر راجہ عزیز بھٹی شہید 6 اگست، 1928 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد محمد عبداللہ خان بھٹی ایک ٹیچر تھے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ خاندان اپنے آبائی گاؤں گجرات واپس آگیا۔ اپنے شوق کی خاطر پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا اور غیرمعمولی کامیابیاں سمیٹیں۔ اعزازی شمشیر اور نارمن گولڈ میڈل ان کی فوجی کامیابیوں میں شامل ہیں۔ ترقی کی راہوں پر گامزن رہے اور 1956ء میں میجر کا عہدہ سنبھال لیا۔ 6 ستمبر 1965ء کی شب ہمسایہ ملک نے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح پاکستان پر حملہ کیا لیکن سرزمینِ پاک کے محافظ جاگ رہے تھے۔ لاہور جم خانہ میں دشمن کی چائے پینے کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ انہوں نے یہ سوچ کر شب خون مارا کہ رات کی تاریکی میں اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے لیکن شاید ان کو اندازہ نہیں تھا کہ شیر سویا ہوا ہو، پھر بھی شیر ہی ہوتا ہے!
اس جنگ میں پاکستانی شاہینوں نے بھی حصہ لیا اور دشمن فضائیہ کی کمر توڑ دی جب کہ بری فوج میں میجر راجہ عزیز جیسے جوان دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں مصروف تھے۔ ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپوں اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور پوزیشن پر ڈٹے رہے۔ آفیسر کے واپس بلانے پر بھی واپس نہیں آئے۔ رات اور دن بغیر آرام کے مسلسل جنگی حالت میں رہے صرف وطن سے شدید محبت کی وجہ سے۔۔!! اسی جاں فشانی سے لڑتے رہے اور بالآخر 11 ستمبر 1965 میں دشمن کے حملے روکتے ہوئے ایک توپ کا گولا انکا سینہ چیرتا ہوا گزر گیا اور انہوں نے شہادت کی اپنی دلی مراد پا لی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی بہادری پر ان کو اعلی ترین اعزاز “نشان حیدر” سے نوازا گیا۔ اس وقت وہ ملک کے تیسرے سپوت تھے جنہیں یہ اعزاز دیا گیا۔
میجر عزیز بھٹی جیسے لوگ بہت کم نظر آتے ہیں، جو اتنی جاں فشانی سے ملک کی خدمت کرتے ہیں اور دونوں جہانوں میں سرخرو ہوتے ہیں۔ ان کی بہادری کی وجہ سے آج تاریخ میں انکا نام سنہری الفاظ میں رقم ہے۔ پاک سرزمین کا حق انہوں نے تو اپنی جان دے کر ادا کر دیا۔۔ مگر ہم بھی تو سوچیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟؟ اس موقع پر یاد دلائیں خود کو کہ یہ ملک ہمارے لئے۔۔۔ یہ سر زمین، پاک سرزمین۔۔ ہمارے لئے کیا حیثیت رکھتی ہے؟؟ اور آیا کہ ہم اس کا حق ادا کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔۔!!!
پاکستان زندہ باد …….. پاک فوج پائندہ باد..!!

اپنا تبصرہ بھیجیں