ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 6 – سیما پروین




“ہیرو آف ہلی”(میجر محمد اکرم شہید):
وہ سرفروش بیٹے ملت کے پاسبان تھے
ارض خدا پہ اپنےماضی کی داستان تھے
اہداف میں عدد کے افکار نو تھے شامل
سیلِ بلا کی زد میں دیوار و در کہاں تھے
جن کے لہو نے لکھی ، تاریخ بانکپن کی
وہ مادر وطن کے پر عزم نوجوان تھے
میجر محمد اکرم شہید کا شمار پاک فوج کے ان جانباز افسروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان کے نذرانے پیش کئے۔
میجر محمد اکرم 4 اپریل 1938 کو ڈنگہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، انہوں نے 21 سال کی عمر میں 1959 میں فوج میں شمولیت اختیار کی، ابتداء میں وہ نان کمیشنڈ عہدے کے لئے منتخب ہوئے لیکن پھر خصوصی امتحانات پاس کرنے اور ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد 13 اکتوبر کو وہ بحیثیت سیکنڈ لیفٹیننٹ پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے وابستہ ہوئے۔
1965 میں انہیں کیپٹن کے عہدے پر ترقی دی گئی، 1965 کی پاک بھارت جنگ میں انہوں نے ظفروال سیکٹر میں خدمات انجام دیں اور ہندوستان کی فوج کا مقابلہ کیا۔ جبکہ 1970 میں میجر کے عہدے پر تقرر کیا گیا۔ 7 جولائی 1968 کو انہیں مشرقی پاکستان میں متعین کیا گیا۔ 1971 کی جنگ کے آغاز کے وقت وہ ہلّی ضلع دیناج پور کے محاذ پر فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے مسلسل پانچ دن اور پانچ راتیں اپنے سے کئی گنا بڑی بھارتی فوج کی پیش قدمی روک کر دشمن کے اوسان خطا کر دیئے۔
میرا دشمن مجھے للکار کے جائے گا کہاں
خاک کا طیش ہوں،افلاک کی دہشت ہوں میں
میجر محمد اکرم نے 5 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کے محاذ پر دشمن کے خلاف بے مثال جرات اور بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ شہادت ایک عظیم رتبہ ہے جو کہ ہر مومن کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں شہادت جیسے عظیم رتبہ سے سرفراز ہو ۔ میجر محمد اکرم شہید نے بھی وطن کی خاطر شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ 1971 کی جنگ میں میجر محمد اکرم شہید کی لازوال بہادری اور شجاعت پر دشمن بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے پر میجر محمد اکرم کو “ہیرو آف ہلی” کے نام سے شہرت ملی ۔ میجر محمد اکرم شہید کی بہادری اور شجاعت کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں ملک کا سب سے بڑا عسکری اعزاز “نشان حیدر” عطا کی ا۔ وہ بنگلہ دیش میں بوگرا کے مقام پر آسودہ خاک ہیں ، البتہ بعد ازاں ان کے آبائی علاقے میں یادگار تعمیر کی گئی ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں