ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 9 – طلعت جہاں صدیقی




لانس نائیک محمد محفوظ شہید:
حارث نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو ایک اندھیری جگہ پر پایا ۔ پلکیں جھپکا کر جب اس نے آنکھوں کو اندھیرے کا عادی کیا اور گردن گھما کر اردگرد نظر دوڑائیں تو اطراف میں صرف فلک بوس پہاڑوں کو پایا۔ ذرا اور قوت بصارت پر زور دے کر دیکھا تو ایک ٹیلے کے پیچھے اسے کچھ روشنی نظر آئی۔ حارث نے اس جانب قدم بڑھا دیئے۔
قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک فوجی وردی میں ملبوس شخص بیٹھا ہے جس کا چہرہ دوسری طرف تھا۔ وہ شخص زمین پر موجود مٹی کو مٹھی میں بھر بھر کر پھر گرا کر دیکھ رہا تھا۔ روشنی کا ماخذ بھی حارث کو نظر نہیں آیا لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس شخص کے وجود سے نور پھوٹ رہا ہے جو ماحول کو منور کر رہا ہے۔ اس نے تھوڑا اور آگے بڑھ کر اس انجان شخص کا چہرہ دیکھنا چاہا تو اُس شخص کو بھی کسی کی موجودگی کا احساس ہوگیا اور اس نے حارث کی جانب دیکھا۔حا رث ایک لمحے کے لئے دم بخود رہ گیا۔اُس اجنبی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جو حارث کو مسحور کر رہی تھی اور اِسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ بالآخر حارث کے سلے ہوئے لں کھلے اور اس نے اجنبی سے پوچھا
“آپ۔۔۔ آپ کون ہیں؟” اس اجنبی نے غور سے حارث کو دیکھا اور پوچھا
“تم کون ہو؟ پاکستانی لگتے ہو؟” حارث نے کہا ، “جی میں پاکستانی ہوں لیکن آپ کون ہیں؟”
“کیا تم واقعی میں پاکستانی ہو؟” اجنبی نے پوچھا تو حارث نے اثبات میں سر ہلایا۔ اجنبی ایک لمحے کے لئے خاموش ہوگیا۔ پھر گویا ہوا
“کافی دکھ اور تکلیف پہنچی ہے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کو یہ جان کر کہ آج کے پاکستان کا نوجوان اس قدر نا واقف ہے اپنی تاریخ اور اس کے کرداروں سے .” حارث جس کا سر اب جھک چکا تھا اس نے شرمندگی سے پوچھا ،
” لیکن آپ ہیں کون ؟” اس نے کہا ، “تم جاننا چاہتے ہو تو سنو , میرا نام لانس نائیک محمد محفوظ ہے اور میں پاک وطن کا ایک ادنیٰ سا سپاہی تھا لیکن 1971ء کی جنگ میں مادرِ وطن کی خاطر جان قربان کرکے شہادت کے رتبے پر فائز ہوگیا اور نشانِ حیدر کا حقدار ٹھہرایا گیا .”
لانس نائیک محمد محفوظ شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں پنڈاں ملکاں، جو اب ان ہی سے مبسوب ہے اور محفوظ آباد کے نام سے جانا جاتا ہے، میں 25 اکتوبر 1944ء کو پیدا ہوئے۔ 1961 میں میٹرک کیا اور 25 اکتوبر 1962ء کو پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ محمد محفوظ کو کھیلوں میں بہت دلچسپی تھی اور وہ مڈل ویٹ باکسنگ چیمپئن بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ فوج میں پاکستانی محمد علی کے نام سے مشہور تھے۔ نومبر 1971ء میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں سیاسی میدان میں سازشوں کے بعد جنگی میدان میں بھی باقاعدہ حملہ کر دیا۔ پھر دسمبر 1971ء میں مغربی پاکستان کی سرحدوں پر بھی جنگ چھڑ گئی۔ پاک فوج کی 15 پنجاب رجمنٹ نے زبردست لڑائی کے بعد پل کنجری پر قبضہ کرلیا۔ لانس نائیک محمد محفوظ بھی اسی رجمنٹ کی پلاٹون نمبر 3 کا حصہ تھے۔ 16دسمبرکو جنگ بندی کا اعلان ہوا تو پاک فوج نے اپنی کاروائیوں کو بند کر دیا۔ مکار دشمن نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر رات کی تاریکی میں پل کنجری کا علاقہ واپس لینے کے لیے شب خون مارا۔ یہ سترہ اور اٹھارہ دسمبر کی درمیانی شب تھی اور حملہ زبردست تھا۔
لانس نائیک محمد محفوظ کی پلاٹون نمبر تین ہراول دستے کے طور پر سب سے آگے تھی چنانچہ اسے خودکار ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا۔ لانس نائیک محمد محفوظ نے جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کلاشنکوف سے کئی بھارتی فوجیوں کو بھون ڈالا اور دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ اسی اثناء میں دشمن کے مورچے سے ایک بارودی گولا داغا گیا جو محمد محفوظ کی گن پر آ کر گرا اور ساتھ ساتھ ان کی ٹانگ کو شدید زخمی کر گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے ایک شہید ساتھی کی گن لے کر دشمن کے مورچے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا جہاں سے ہونے والی فائرنگ سے ان کی پلاٹون کو بے حد نقصان پہنچ رہا تھا۔اسی دوران ایک اور فائر ان کے ہاتھ سے یہ گن بھی گراگیا۔ قوم کے اس سرفروش نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور غیر مسلح اور زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے مورچے میں گھس کر دم لیا۔ وطنِ عزیز کے اس بہادر سپوت کی جسمانی توانائی رفتہ رفتہ ماند پڑھ رہی تھی لیکن جذبۂ ایمانی اپنی حدوں کو چھورہا تھا۔
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتاہےیقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامین پیدا
لانس نائیک نے اسی جذبۂ ایمانی کے بل بوتے پر اپنی پلاٹون کی طرف گولہ باری کرنے والے ایک بھارتی کو دبوچ لیا اور اسے انجام تک پہنچادیا ۔ لیکن ایک دوسرے ہندوستانی فوجی نے آپ پر پیچھے سے بزدلانہ وار کیا اور پیٹھ میں اپنی گن کی سنگین گھونپ دی ۔ شجاعت و جواں مردی کے اس پیکرِ مجسم نے 17 دسمبر 1971ء کو اس حالت میں جامِ شہادت نوش کیا کہ مرنے کے بعد بھی دشمن کی گردن ان کے ہاتھوں کے آہنی شکنجے میں تھی ۔ 23 مارچ 1972ء کو وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی شجاعت و بہادری کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا جس کے والد محترم نے وصول کیا۔ آپ کا مزار محفوظ آباد میں واقع ہے۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید اور ان کے جیسے ہزاروں شہداء کی روحیں ……. جنہوں نے اپنے پاک لہو سے اس خاقِ وطن کو پاکیزہ تر بنا دیا، ہم نوجوانوں سے اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم خود کو پہچانیں ، اپنی تاریخ کو پہچانیں،اپنے قومی مقصد کو پہچانی ں، دشمنانِ وطن اور ان کی سازشوں کو پہچانیں ، غفلت اور مغلوبیت کی اس کیفیت سے نکلیں اور وطن عزیز کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ان کی جاوداں ہوجائیں۔
خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تُو ہے
حارث نے آخری لفظ صفحۂ قرطاس پر رقم کرتے ہوئے قلم کو اس کے ہولڈر میں رکھا اور ایک عجیب طمانیت کا احساس پایا ۔ یہ اس کا ایک نئی اور باامقصد زندگی کی جانب پہلا قدم تھا ۔ ابھی تو اسے اس مٹی کا قرض اتارنے کے لئے بہت کچھ کرنا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں