میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار – افشاں مراد




میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن
7 ستمبر یوم فضائیہ ……. 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان، ستمبر کا مہینہ آ تے ہی دل میں حب الوطنی کا سمندر جوش مارنے لگتا ہے۔۔بچپن سے ہی چھ ستمبر کی تمام نشریات ہم بہت زوق و شوق سے دیکھا کرتے تھے جب پی ٹی وی پر ہمارے فوجی ہیروز پر ڈرامے بنا کرتے تھے اور پورا گھرانہ دل میں جوش اور آ نکھوں میں آنسو لیے وہ ڈرامے اور شہیدوں اور غازیوں کے انٹرویوز دیکھا اور سنا کرتے تھے. اسکولوں میں باقاعدہ پروگرام ہوتے تھے۔جس میں جوش و ولولے سے بھرپور قومی ترانے گائے جاتے تھے۔
ہمیں بھی بےشمار ملی نغمے یاد تھے جو ہم اسکول میں پڑھتے تھے۔ ایم ایم عالم …… راشد منہاس …….. راجہ عزیز بھٹی ……..محمد طفیل …….. وغیرہ ، ہمارے وہ شہداء اور ہیروز تھے جو ہمارے دلوں میں بستے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ اس دن ہمارے دشمن نے اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیش قدمی کی کوشش کی اور اس دشمن کے آگے ہماری فوج اور ہماری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی۔نوجوان اپنے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آ گے لیٹ گئے تھے۔ گاوموتر پینے والے اس بزدل دشمن نے کب ایسی قوم دیکھی تھی نتیجتاً ہر میدان میں منہ کی کھا کر اپنے زخم سہلاتا ہوا بھاگا ۔ اس وقت ہر فرد اپنے اپنے شعبے میں اپنی حب الوطنی ثابت کر رہا تھا ، چاہے وہ کوئی فوجی ہو،چاہے کوئی عام آ دمی ہو،کوئ ڈاکٹر ہو،کوئ گلوکار ہو،کوئ انجینئر ہو ، کوئی ٹیچر ہو یا کوئی سیاستدان ہر فرد اپنی اپنی جگہ مجاہد بن گیا تھا ۔
وہ جذبہ اور وہ جوش ہی جدا تھا ۔ لوگوں نے اپنے گھروں کا پورا پورا سامان ، عورتوں نے اپنے زیور اور گہنے اپنے وطن پر نچھاور کرنے کے لئے پیش کر دیئے تھے۔قوم تو اب بھی وہی ہے جو کڑا وقت آنے پر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہے ۔ جذبہ تو اب بھی موجود ہے . اسی لیے سیلاب ہو یا زلزلہ اپنی فوج کے ساتھ ہر مشکل میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ اپنی جان لٹانے کو تیار۔لیکن کیا ہمارے حکمران آ ج ویسے ہیں ؟ جو اپنی فوج اور اپنی عوام کے درمیان پل بن سکیں ، جو اپنی فوج اور دوسرے اداروں کے درمیان حد بندی کر سکیں جو فوج اور سیاست کو جدا رکھ سکیں ، جو بہادرانہ ، اور بھرپور فیصلے کرسکیں ۔ اس وقت ہماری فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں شمار کی جاتی ہے۔ جس کے پاس صلاحیت اور جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے .
ایک سے بڑھ کر ایک جہاز، ایک سے بڑھ کر ایک ہتھیار موجود ہے ……. جو اپنے وطن کی پکار پر دشمن کو ملیامیٹ کرسکتی ہے لیکن دیر ہے تو ایک اشارے کی ۔ ہمارے جوان آج بھی تازہ دم،ہر گھڑی تیار کامران ہیں ، ان کی بہادری ، ان کا شوق شہادت آسمان کی رفعتوں کو چھوتا ہے۔ بس دیر ہے اک اشارے کی …….!

اپنا تبصرہ بھیجیں