ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 11 – ماریہ عبدالواسع




حوالدار لالک جان شہید:
دیکھ رسوا ہورہی ہے کفر کی تدبیر چل
توڑ کر پاؤں سے حرص و آز کی زنجیر چل
ہاتھ میں لے کر ثبات و عزب کی شمشیر چل
گر شہادت کی تمنا ہے تو کارگل چل
حوالدار لالک جان بھی ان شہیدوں میں شمار ہوتے ہیں . جنہوں نے کارگل کی جنگ کے دوران مستقل دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوۓ جامِ شہادت نوش کیا ۔ لالک جان 1 اپریل 1967 کو ضلع غذر کی جنت نظیر اور قدرتی حسن سے مالا مال وادی یاسین ہندور گلگت بلتستان میں پیدا ہوۓ ۔
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 10 دسمبر 1984 کو 17 سال کی عمر میں پاکستان آرمی میں بھرتی ہوۓ اور حوالدار کے عہدے پر تعینات ہوۓ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے علاقے کی انسانی فلاح و بہبود کے شعبے ” المدد ویلفیئر سوسائٹی” کے بانی ممبران میں سے تھے۔ جون 1999 کو جب پاکستان انڈیا تنازعہ عروج پر تھا . تو اس وقت لالک جان ” ٹائیگر ہل” پر تعینات تھے ۔ یکم جولائی 1999 کو دشمن کی افواج نے جب ٹائیگر ہل پر زبردست حملہ کیا تو اس وقت پاک فوج کے صوبیدار سکندر کی قیادت میں لالک جان سمیت 11 جوان مورچے پر موجود تھے۔ پھر 7 جولائی 1999 کو بھارت نے بھر پور حملہ کیا جس میں صوبیدار سکندر سمیت سات جوان شہید ہوگۓ اور اب صرف لالک جان سمیت چار جوان مقابلہ کررہے تھے مگر اسکے باوجود جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوۓ اور کم تعداد ہوتے ہوۓ بھی ڈٹے رہے اور لالک جان زخمی ہونے کے باوجود مورچے پر موجود رہے اور اسی دوران دشمن کی گولہ باری کا مقابلہ کرتے ہوۓ شہادت کے رتبے پر فائز ہوۓ ۔ شہادت کے وقت انکی عمر 32 سال تھی۔
لالک جان کو انکے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کیا گیا اور اگست 1999 کو انکی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
آؤ محبت سے سلام کرلیں انہیں
جن کےحصےمیں یہ مقام آتا ہے
بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ
جنکا لہو وطن کے نام آتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں