ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 7 – ج.ا




میجر شبیر شریف شہید:
“میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں.”
(الزاریات – ٥٦)
قرآن کی یہ آیت ہم اکثر پڑھتے ہیں، لیکن اکثریت اسکا مطلب سمجھ نہیں پاتی۔ انسانی تخلیق کا کوئی مقصد ہے، یہ بیکار پیدا نہیں کیا گیا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی بندگی!! انسان اپنی زندگی میں ایسے کئی چھوٹے چھوٹے کام کرتا ہے جن کے پیچھے کوئی لالچ یا مطلب نہیں ہوتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام خلوصِ نیت کے ساتھ بے لوث انداز میں کئے جائیں تو یہ کام عبادت بن جاتے ہیں اور انسان کو بہت بڑا بنا دیتے ہیں۔۔۔۔
“سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت” یہ جملہ انسانی زندگی کا مقصد، خواہش، سب نہایت جامع انداز سے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ شہادت حاصل کرے۔ جو لوگ اپنے ملک و قوم کی خاطر بہادری اور جرات مندی سے لڑتے ہیں، اپنی بے لوث خدمات کی بدولت یاد رکھے جاتے ہیں۔ قائد کے پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اسکے خلاف کافی سازشیں کی گئیں مگر قوم کے نوجوانوں، بہادروں اور جرات مندوں نے ان سازشوں کا خاتمہ گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے موقع پر انڈیا کی طرف سے ہونے والے حملے کو روکنے کے لئے پاک فوج کے جوان حاظر تھے، (یہ پوری الگ کہانی ہے کہ کس طرح اسی پاک فوج کے بڑوں نے بڑی بے رحمی سے ملک کا بازو کٹوا دیا) اور بڑی ہمت سے انکا سامنا کر رہے تھے۔ اسی جنگ میں ایک جوان چاک و چوبند، نہایت مستعدی سے اپنے ٹارگٹ پر حملہ کر رہا تھا۔
یہ ٦ دسمبر ١٩٧١ء کی درمیانی شب تھی جب اس نے آسام (بھارت) رجمنٹ کی کمپنی کمانڈر کو ہلاک کر کے اہم دستاویزات پر قبضہ کرلیا۔ اسی رات دشمن نے ایک خوفناک جوابی حملہ کیا۔ اس حملے میں وہ، جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کر رہا تھا، جام شہادت نوش کرچکا تھا۔۔!!حکومت پاکستان کی طرف سے “میجر شبیر شریف” کو اعلیٰ عسکری خدمات پر “نشان حیدر” کا اعزاز عطا کیا۔ پاکستان کا یہ عظیم سپوت ٢٨ اپریل ١٩٤٣ء کو ضلع گجرات میں پیدا ہوا۔ ١٩ اپریل ١٩٦٤ء کو انہوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ١٩٦٥ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی اپنی وطن سے محبت کو ثابت کیا اور ستارۂ جرات عطا کیا گیا۔
دسمبر ١٩٧١ء کو انہوں نے پھر جنگ میں حصہ لیا اور اہم ترین مہم سر کی اور بالآخر شجاعت و بہادری کا یہ ستارہ ٦ دسمبر ١٩٧١ء کی رات اللہ کے حضور حاضر ہوگیا اور ہمیشہ کے لئے اپنا نام چھوڑ گیا، جسکو آج تک محبت و عقیدت سے لیا جاتا ہے۔ میجر شبیر شریف کا نشان حیدر کا اعزاز ٣ فروری، ١٩٧٧ء کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں انکی بیوہ نے حاصل کیا۔
پاکستان زندہ باد _ پاک فوج پائندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں