دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش – عالیہ حمید




ایک ٹی وی شو میں پاکستان کی 50 سالہ مشہور کامیڈین اور منجھی ہوئی اداکارہ ماتھے پر ٹکا لگائے ،کانوں میں بڑے بڑے بندے لٹکائے، گلے میں اسی میچنگ کا بھاری ہار پہنے اور بھاری کامدار سوٹ پہنے خود کو نوعمر ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔

میں کچن سے نکل کر لاؤنج میں کسی کام سے آئی تو ان کے خیالات سن کر کھڑی ہو گئی اور کھڑی کی کھڑی رہ گئ۔ شاید ان محترمہ پر تنقید ہوئی تھی کہ اس عمر میں بھی وہ فیشن کرنے اور رقص وغیرہ کرنے سے باز نہیں آ رہی ہیں،اب اس تنقید کی وجہ سے وہ غصے میں جل بھن رہی تھیں اور ایسی ایسی خرافات کہہ رہی تھی کہ خدا کی پناہ ……! محترمہ فرما رہی تھیں کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم اب تیس پینتیس کی ہوگئ ہیں، نانی دادی بن گئیں ہیں تو اب ہمیں مر جانا چاہیے، ایک تو اس بات پر حیرت ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو پینتیس کا کہہ رہی تھیں ۔ ان کو بچپن سے میں کامیڈی پروگرام کرتے دیکھ رہی ہوں چالیس کی تو میں بھی ہو گئی ہوں اب وہ نہ جانے کس حساب سے 35 کے دائرے سے نہیں نکل سکیں۔دوسرا وہ محترمہ یہ فرما رہی تھیں کہ اب اگر شادی جلدی ہو گئی تھی، بچے بھی جلدی ہو گئے اور ان کی شادیاں بھی جلدی کر دیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ نانی بن گئیں ہیں تو کیا ہم ناچنا چھوڑ دیں ؟ بھئی ہم تو ناچنا نہیں چھوڑیں گے ہمیں ناچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔
میزبان بھی کوئی اسی ٹائپ کی تھی جو ہنس ہنس کر ان کی تائید کر رہی تھی الٹا انہیں ایک عظیم الشان خاتون ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی .

کہ جن کو اپنے حقوق کی حفاظت کرنا آتی ہے جو اپنی آزادی کی جنگ لڑ سکتی ہیں۔میں تو ہونقوں کی طرح منہ کھولے بس ان کو دیکھے جا رہی تھی کیسا تماشا لگا ہوا تھا اسی طرح کی اور بھی مہمان خواتین وہاں پر موجود تھیں ایک مشہور اداکار بھی وہاں موجود تھے جو ان عظیم الشان محترمہ کی ہر بات کے جواب میں اپنا ہاتھ ان کے بازو پر مار کر ان کی تائید کرتے۔ اور تقریبا ہر چینل پر اسی طرح کے پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں ۔۔ اللہ اللہ یہ پاکستانی چینل ہے جہاں پر خواتین مادر پدر آزاد اپنی روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جو ان کے دماغ میں خرافات آتی جارہی ہیں بلا سوچے سمجھے بولتی جا رہی ہیں۔ کم ازکم پروگرام جاری کرنے سے پہلے اس کو ایک بار دیکھ لینا چاہیے کہ اس میں کس طرح کے خیالات کا اظہار ہو رہا ہے کیا وہ ہماری مشرقی روایات کے عین مطابق ہے کیا ایسا پروگرام فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت جب کہ عالم اسلام کی خواتین عشرہ حجاب (4 سے 14) ستمبر منا رہی ہیں، دو تہذیبوں کے درمیان سرد جنگ کا وقت ہے،جو ہتھیاروں سے نہیں بلکہ نظریات کے میدان میں مقابلہ کرکے لڑی جاتی ہے،ایک یورپ کی مادر پدر آزاد تہذیب اور دوسری مشرق کی روایتوں کی پابند تہذیب ۔

دنیا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ایسی تجارت میں مسلمانوں کا خسارہ
یوں تو اس اہم موقع پر حجاب کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن اس وقت ہمارا فوکس ان تہذیبوں کے بیچ میں لٹکے ہوئے افراد کے بارے میں بات کرنا ہے۔ جی ہاں لٹکے ہوئے افراد وہ ہوتے ہیں جو رہتے تو اپنی تہذیب کے اندر ہیں، پاسدار تو اپنی روایات کے ہوتے ہیں مگر ان روایات رات کے اندر زندگی گزارتے ہوئے اپنے آپ کو قیدی سمجھتے ہیں اور جان چھڑا کر دور کسی اور آشیانے کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں جو نہ ان کا اپنا ہوتا ہے اور نہ ان کو اس کے اندر پناہ ملنے والی ہوتی ہے۔مگر یہ مسلسل اپنی رالیں ٹپکا رہے ہوتے ہیں .

” کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا “کے مصداق اپنے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور غیر مذاق اڑاتے ہیں۔ اس لیے یہ لٹکے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اپنے آپ کو کسی ایک کشتی میں سوار کرلینا چاہیے۔یا اللہ کے سپاہی بن جاؤ یا ابلیس کے کارندے کیونکہ جنگ دو تہذیبوں کے درمیان ہے جس سے ایک تہذیب کے ہو جاؤ اور اس کا ساتھ دو۔ میں ان اداکارہ سے انتہائی عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ اپنی شہرت کو اپنے دماغ پر سوار نہ ہونے دیں ،اس وقت جو مقام ملا ہوا ہے اس کی چکاچوند سے ان کے دماغ کی چولیں ہلی ہوئی ہیں ،مگر شاید ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ شہرت یہ خوبصورت جسم یہ عمر ڈھل جانے والی ہیں۔۔۔ جس کے بعد گمنامی کا ایک گھمبیر اندھیرا آنے والا ہے جس میں آپ کو پہچاننے والا کوئی نہیں ہوگا، آپ جیسے بہت آئے اور بہت گئے۔۔ وقتی خوبصورتی اور شہرت کے لیے ایسی خرافات کہنا چھوڑ دیں جو اسلام کی تہذیب کے ساتھ میل نہ کھاتی ہوں ۔ایک یوم احتساب دنیا میں ہے اور ایک یوم احتساب موت کے بعد بھی آنے والا ہے اس پر بھی آپ کے نظر رہنی چاہیے ۔

آپ کو خدا نے اگر مقام دیا ہے تو آپ اس کو استعمال کرتے ہوئے عورت کی عزت کی حفاظت چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی بات کریں ،اگر آپ کو پروگرام میں بطور مہمان بلا لیا جاتا ہے تو آپ کو اچھا پیغام دے کر جائیں۔ اس سلسلہ میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے جو مختلف ٹی وی پروگرامز اور اور ٹاک شوز کے ذریعے نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں، میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کا استعمال اگر اچھا ہو تو پوری نسل سنور جائے، مولانا مودودی کی بات یاد آ رہی ہے جنہوں نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ بندوق بذات خود خطرناک نہیں ہے بلکہ اس کا استعمال خطرناک یا مفید ہو سکتا ہے ۔ بندوق اگر ڈاکو کے ہاتھ میں ہو تو لوٹ مار اور بدامنی و فساد کا پیغام لے کر آتی ہے اگر مجاہد کے ہاتھ میں ہو تو حفاظت امن اور سکون کا پیغام لے کر آتی ہے۔اسی طرح سے میڈیا بذات خود غلط نہیں ہے بلکہ اس کا استعمال کیسے ہونا چاہیے یہ سوچنے کی بات ہے۔اگر میڈیا کے کارندے اسلامی تہذیب و ثقافت کا علمبردار بن جائیں تو معاشرے کے اندر بہت بڑی تبدیلی آجائے،نوجوان نسل کا اخلاقی بگاڑ کم ہو جائے،اور وہ ایک بامقصد اور با شعور زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں .

مگر یہی میڈیا جو کردار آج ادا کر رہا ہے اس نے نوجوان نسل کے اخلاقیات کو تباہ کردیا ہے، ان کی سماجی زندگی کو ختم کر دیا ہے۔ تقریبا ہر دوسرا پروگرام بے خیالی پر مبنی مکالمے ، خواتین کا عریانی پر مبنی لباس اور رشتوں کے تقدس کی پامالی کو پیش کر رہا ہے ، اسی قسم کے کردار کو قرآن پاک میں کلام دلفریب کہہ کر پکارا گیا ہے ، یعنی ” لھو الحدیث” جو انسانوں کو ہدایت کے راستے سے گمراہ کرکے برائی کی طرف لے جاتا ہے ، اور وہ اس نشے کے عادی ہوجاتے ہیں کوئی دوسری راہ دکھائی ہی نہیں دیتی۔میڈیا نے سب سے زیادہ نقصان حیا اور حجاب چادر اور چار دیواری کو پہنچایا ہے۔
گزارش ہے کہ اصلاحی اور اخلاقی تربیت پر مبنی ایسے پروگرامز پیش کیے جائیں . جن میں معاشرتی اور خانگی مسائل کا حل موجود ہو اور جو کردار پیش کیے جا رہے ہیں ، ان کے لباس کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ یہ اخلاقی حدود کے اندر ہو ، جو مکالمے ادا کیے جائیں وہ مہذب الفاظ اور فقرات پر مشتمل ہونی چاہئیں ۔ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ ہم اپنی تمام ذمہ داریوں کے لیے خدا کے آگے تو ضرور ہی جواب دہ ہیں۔۔۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں