تشیع الفاحشہ – افشاں نوید




پاکستان بھر کے چینلز کی میڈیا ٹیمیں موٹر وے پہنچی پوئی ہیں ۔ پراگرام کے میزبان کیمرہ مین سے کہتے ہیں وہ جگہ دکھائیں جہاں واقعہ ہوا ۔ کیمرہ وہاں جاتا ہے ۔ چینل بدلا ……… ایک دوسرے میزبان انسانی حقوق کی تنظیم کی ایک عہدیداراور اپوزیشن کو لیے بیٹھے تھے ۔
نوجوان بیٹا میرے ساتھ بیٹھا تھا ۔ دم گھٹ رہا تھا زبان پاس نہ تھی کہ ہم اس موضوع پر ڈسکشن کرتے ۔ اس کا بھی اصرار کہ چینل بدلیں ۔ مگر ہر چینل پر آج کی شب یہی ایک موضوع ہے ۔ سب یہی دیکھ رہے ہیں , یہی سوچ رہے ہیں , وہ مظلوم خاتون…….. اس کے بچے , موٹر وے پولیس کہاں تھی ؟‌ ڈاکو اور وحشی درندوں کی سرپرستی کون کرتا ہے ۔ پاکستان کے 22 کروڑ لوگ غم سے نڈھال ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ نہ عوام کو موٹر وے کے اس مقام سے کوئی دلچسپی ہے , نہ اپوزیشن کے منہ سے جھاگ اڑاتے سیاستدانوں سے,نہ حکومتی زعماء سے جو اظہار غم کررہے ہی ں۔ ابھی اسکرین پر سلائیڈ چل رہی تھی کہ وزیراعظم بہت غمگین ہیں اس حادثے پر ۔ اگر وہ بھی غمگین ہیں تو پھر آسمان سے اترنے والی ابابیلوں کا انتظار کرنا ہوگا۔
حضرت عمر فاروقؓ جاگتے تھے راتوں کو تو رعایا چین سے سوتی تھی …….. جہاں حکمران سوتے ہیں وہاں رعایا یونہی بے آبرو ہوتی ہے۔ اس موضوع پر اتنا زیادہ بحث مباحثہ تو بجائے خود نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے ۔ عوام کو اس موضوع پر ٹاک شوز اور گھنٹوں کی نشریات نہ دکھائی جائیں ان کو صرف یہ بتایا جائے کہ مجرموں تک رسائی کے لیے کیا اقدامات کیے گیے اور ان کے لیے کیا سزا تجویز ہوئی؟؟؟؟؟ جولوگ پھانسی کو غیر انسانی سزا گردانتے ہیں وہ بتائیں کہ ایسے وحشی درندوں کو موت سے کم کیا سزا دی جائے۔موت بھی سر عام ہو۔ خدارا میڈیا ریٹنگ کے لیے اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی چونچیں نہ لڑواۓ, معاشرے میں ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی بہت بڑی وجہ ان کی اس قدر تشہیر بھی ہے . مدینہ کی ریاست میں جب واقعہ افک عوامی موضوع بنا توقرآن نے سرزنش کی کہ کیوں فضا کو آلودہ کیا گیا۔
اسکے لیے “تشیع الفاحشہ” کی اصطلاح استعمال کی۔ فحش کی اشاعت خود پسندیدہ نہیںموٹر وے کی اتنی گھناؤنی واردات کے بعد, میڈیا کی بھر پور تشہر کے بعد,جن کا کام فیصلے کرنا اور سزائیں دینا ہے وہ اپنا کام نہ کریں تو اس تشہیر سے آپ ملک کے چہرے پر کالک ہی مل رہے ہیں!!! سوال تو ایک ہی بنتا ہے چاھے کراچی میں بلڈنگ کا گرنا اور بارش کی تباہی ہو یا حوا کی بیٹی کی تنہائی کہ ریاست کہاں ہے ؟؟؟؟ ریاست کی باگ دوڑ ہم نے کن ہاتھوں میں دی ہوئی ہے؟؟؟؟ ہم لوڈ شیڈنگ,اسٹریٹ کرائمز, مہنگائی,بے روزگاری کو مقدر سمجھ کر قبول کرچکے تھے مگر یہ پاکستان کے چہرے پر ملی سیاہی ہر تکلیف سے بڑھ کر ہے۔ جرائم کی تشہیر سے جرائم بڑھ رہے ہیں۔ خدارا جرائم کو روکنا ہے تو اس کی تشہیر کو روکیں۔ تشہیر سے نہیں عملی اقدامات سے رکتے ہیں جرائم۔۔۔ واقعہ افک مدینہ کی پاکیزہ سوسائٹی میں ایک غلیظ مائنڈ سیٹ کا عکاس تھا۔۔۔ کیا کیا گیا؟؟
سورۀ نور نازل کرکے ان کھڑکی دروازں , دراڑوں کو بند کیا گیا ۔ آج ہم چاھتے ہیں کہ اس مائنڈ سیٹ کو شکست دیں تو سورہ نور واحزاب کو ہر گھر کا نصاب بنائیں اور آئندہ ایسے حکمران لائیں جو ریاست کو ماں جیسا بنائیں جہاں رات کی تنہائی میں بھی عورت محفوظ ہو۔ پٹرول ختم ہونے پر قوم کی کسی بیٹی کی عزت خطرے سے دوچار نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں