ذرا سوچیے….! – سماویہ وحید




حال ہی میں کافی خبریں موصول ہوئی. آئیے ہم بھی پڑھتے چلیں…..
*عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی…..
* مروہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا…..
* گوجرنوالہ میں ایک اور لڑکی کے ساتھ زیادتی…..
* تونسہ میں عورت کے ساتھ زیادتی….
* ایک اور لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش لیکن مجرم پکڑ لیا گیا…..
* پھر ایک اور لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش لیکن مجرم پکڑا گیا…..وغیرہ وغیرہ
مزید کافی خبریں بھی ان خبروں کی عکاسی کررہی ہیں . چلیں ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے …. !!! کیا اس کے پیچھے عوام کا ہاتھ ہے؟؟مجرم کا ؟؟ یا حکمرانوں کا ؟؟ فرض کریں …. اگر آپ کہتے ہیں کہ مجرم کا ہاتھ ہے …… تو میں آپ کو غلط کہتی ہوں . اگر آپ مجرم پر تنقید کر رہے ہیں تو میں آپ پر تنقید کرتی ہوں . میں یہ نہیں کہتی کہ مجرم غلط نہیں ہے . مجرم بھی غلط ہے …. لیکن میرے نزدیک عوام مجرم ہے …. کیسے مجرم ہے؟؟ یہ بھی پڑھتے چلیں …..عوام کے ووٹ کی ہی بدولت آج یہ حکمران ہمارے پر حکمرانی کر رہے ہیں ….. سننے میں آیا تھا کہ عورت نے سب سے پہلے موٹر وے پولیس سے مدد مانگی لیکن ان کا جواب نہیں تھا. جب اُدھر سے مدد نہ ملی تو اُس نے اپنے شوہر کو بلایا….. سب سے پہلے خبر پولیس والوں کو موصول ہوئی……شوہر کے پہنچنے سے پہلے وہ زیادتی کا نشانہ بن گئی.
اب ذرا سوچیے……!! کہ ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایسا ہونے دے گا…..؟؟ کبھی نہیں…. اب آیا پیچھے کون ہے…..؟؟ پولیس والوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کی خدمت کرے….لیکن وہ عورت کی مدد کے لیے نہ پہنچے……اب پولیس والے کس کے ملازم ہے…..گورنمنٹ کے…..تو یہ گورنمنٹ کس کے بل بوتے پر آج کھڑی ہے…..؟؟ تو جواب کیا ہے…..عوام کے….. عوام ہی نے ایسی حکومت چنی ہے….. خیر ذرا سوچیے……!!! کہ اگر حکومت اس طرح کے مجرموں کو سرِ عام سزائے موت سنائے تو کیا کسی کے اندر دوبارہ اس طرح کی جرات کرنے کی کوشش ہوگئی….؟؟ کبھی نہیں…..
ذرا سوچیے……!!! کبھی حکومت نے اس طرح کے درندوں کو سزائے موت دی ہے…..؟؟؟ کبھی نہیں جب ہی تو اس طرح کے واقعات رونما ہورہے ہیں……
ذرا سوچیے…..!!! اگر حکومت اس طرح کے درندوں کو سزائے موت سنادے گئ تو کسی کی دوبارہ مجال نہ ہوگی…….اس لیے ذرا سوچیے…..!!! کیا حکومت غلط ہے…..؟؟؟ جی بلکل حکومت غلط ہے….
ذرا سوچیے……!!! کہاں ہے وہ عورتیں جو کہتی تھی ہمارا جسم ہماری مرضی….؟؟؟ کیا اب وہ چپ بیٹھ گئیں ہیں….؟؟ اب وہ عورتوں کے حقوق کے لیے آواز کیوں بلند نہیں کر رہیں…..؟؟ یہی وہ موقع ہے جس پر عورت کی حقوق کے لیے آواز بلند کرنی ہی…… نہ کہ بے حیائی کے مواقع پر……
ذرا سوچیے…..!!! اب تک کن خواتین نے اس کے لیے احتجاج کیا ہے…..؟؟ کیا وہ ہی لبرل طبقے نے…..؟؟ ، حکمرانوں نے…..؟؟ ، تبلیغی جماعتوں نے….؟؟ یا پھر جماعت اسلامی نے…..؟؟ اگر آپ نہیں جانتے تو میں اب جواب دیتی ہوں…..صرف احتجاج کرنے والی خواتین جماعت اسلامی کی ہیں…..تو اب آپ کی مرضی زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے……!!!! کیا پوسٹیں یا خبر چڑھا لینے سے عورتوں کو حقوق مل جائیں گئے…..؟؟ یا غلط حکمرانوں کا انتخاب کر کے…..؟؟ یا جماعت اسلامی جیسی تنظیم کا انتخاب کر کے…..جو عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے…..؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں