زیتون کی گرافٹنگ – ڈاکٹر فیاض عالم




2004 کا واقعہ ہے- اسلام آباد میں واقع اٹلی کے سفارت خانے کے ایک افسر رافیل ڈیلسیما نے ایک نوجوان سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے تمہارے علاقے میں جانا ہے- نوجوان محمد اسرار کا تعلق خیبر پختون خوا کے دور دراز ضلع لوئر دیر کے علاقے تالاش سے تھا- اسرار سفارت خانے میں چھوٹے درجے کے کنٹریکٹ ملازم تھے- انہیں بہت حیرانی ہوئی کہ رافیل کو تالاش جانے سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے-

رافیل نے انہیں بتایا کہ تمہارے علاقے میں ایک درخت ہے جو لاکھوں کی تعداد میں جنگل کی طرح موجود ہے- یہ کہو کہلاتا ہے اور دراصل زیتون کا درخت ہے- میں ان درختوں پر بڑے زیتون کی گرافٹنگ کے ایک منصوبے پر کام کررہا ہوں اور اس کے لیئے اٹلی سے کئی ہزار گرافٹ بھی لے کر آیا ہوں- اسرار رافیل کے ساتھ تالاش گئے اور کچھ مقامی نوجوانوں کے ساتھ مل کر دس ہزار درختوں پر اعلی معیار کے اٹلی کے پودوں کے گرافٹ لگا دیئے گئے- اگلے کچھ سالوں میں ان لوگوں نے مزید کئ لوگوں کو تربیت دی اور کچھ سالوں میں 5 لاکھ سے زیادہ درختوں پر گرافٹنگ کردی گئی – چار سالوں کے بعد ان درختوں سے فی درخت 80 تا 120 کلو زیتون ملنے لگے اور علاقے کے لوگوں کی قسمت بدل گئی – مجھے اور شکیل خان کو چند سال قبل ان درختوں کے باغ کو دیکھنے کا موقع ملا- آج میں، سہیل جمالی، ناصر عباسی اور محمد اسرار کشمیر کے علاقے دھیر کوٹ آئے ہوئے ہیں-

اس علاقے میں کہو کے لاکھوں درخت ہیں- ان پر جنگلی زیتون لگے ہوئے ہیں- ان شاء اللہ ہم کل سے 200 درختوں پر زیتون کی گرافٹنگ شروع کریں گے ۔ مجھے یقین ہے کہ کشمیر میں سیکڑوں لوگ اس تجربے سے استفادہ کریں گے اور اس مفید کام کو آگے بڑھائیں گے! ان شاء اللہ زیتون کا درخت 1000 سال تک پھل دیتا ہے ۔ اندازہ کیجئے کہ کسی اچھے کام کی اس سے زیادہ طویل المدت سرمایہ کاری اور کیا ہوسکتی ہے؟ اللہ ہمیں توفیق مزید عطا فرمائے، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں