انصار عباسی کی ٹوئٹ اور لبرلز کا شور – رقیہ اکبر چوہدری




آجکل انصار عباسی صاحب کا نیشنل ٹی وی پر چست لباس میں ایکسرسائز کرتی ماڈل کے حوالے سے ٹوئیٹ زیربحث ہے . کچھ لوگ عباسی صاحب کے ٹوئیٹ پر ایسے سیخ پا ہو رہے ہیں جیسے ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا ہو ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی لبرل ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ آپ کو اپنے لئے تو ہر طرح کی آزادی چاہیئے مگر دوسرے کی آزادی آپ کی خواہشات کی مرہون منت ہونی چایئے کیوں؟

اگر لباس آپ کی اپنی چوائس ہے تو کس ملک میں رہنا ہے کہاں …… نہیں یہ بھی تو آپ کی ہی چوائس ہے ناں ؟ تو کیا آپ بھول گئے ہیں کہ یہ ملک لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا تھا اور اس بنیاد کا کم سے کم تقاضہ تو یہ ہے کہ سرکاری پیسے اور سرکاری تحویل اور نگرانی میں چلنے والے اداروں میں کوئی ایسی حرکت کسی صورت قبول نہیں کی جانی چاہیئے جو اس ملک کی اساس پہ ضرب لگائے۔ آپ کے پاس کیبل اور ڈش کی صورت میں کئی غیر ملکی چینلز کا آپشن موجود ہے . جہاں چست لباس تو کیا بنا لباس کے بھی آپ کو سب کچھ دیکھنے کو مل سکتا ہے تو آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ ساری خلقت کو وہ سب دیکھنے پہ مجبور کریں جو وہ دیکھنا نہیں چاہتے اب یہ مت کہئے گا کہ جس کو نہیں دیکھنا وہ ٹی وی بند کر دیں ۔ جناب ہم ٹیکس پے کرتے ہیں ہمارے ٹیکس پر ہی سرکاری ٹی وی کے ملازمین کو تنخواہیں دی جاتی ہیں تو ہمارا حق ہے کہ ہم سرکار سے یہ مطالبہ کریں کہ آئین پاکستان کے مطابق ہی سرکاری اداروں کے ایس او پیز تیار کئے جانے چاہیئں۔

رہے غیر سرکاری تو ظاہر ہے جس ملک میں آپ اپنے ادارے بناتے ہیں اس کے آئین اور قانون سے متصادم کوئی بھی سرگرمی کرنا آپ کیلئے قانونا جرم گردانا جائے گا اگر آپ کو وہ شرائط قبول نہیں جو اس ملک کا آئین آپ پر لاگو کرتا ہے تو آپ اپنا سرمایہ ایسی جگہ لگانے کیلئے آزاد ہیں جہاں کے آئین و قوانین آپ کی مرضی سے میل کھاتے ہوں۔
نوٹ: اس پوسٹ کا ہرگز کوئی مطلب اس بیانئے کی حمایت نہیں کہ “عورت کا لباس ہی برائی کی وجہ ہے” میں مرد اور عورت دونوں کے حوالے سے انتہائی چست لباس جس سے جسمانی ساخت بےحد نمایاں ہو کے خلاف ہوں کیونکہ ستر پوشی کا مقصد “جلد”(skin) چھپانا نہیں ہوتا۔۔۔یہ میرا خیال ہے آپ کا اس سے متفق ہونا ہرگز ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں