حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا




تحریر : عمیر سعود قریشی

5وہ  چھ جنوری 2013 کی درمیانی رات تھی  میں نے حسب معمول کھانا کھایا نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر کے لیے گھروالوں سے بات کی اوردس بچے سونے کے اپنے کمرے میں چلا گیا اور کچھ ہی دیر میں نیید کی گہری وادی میں اتر گیا ۔ رات 12بجکر کر30 منٹ پر ایک عجیب سی کیفیت میں میری آنکھ کھل گئی یوں لگا جیسے دل کی دھڑکن بے قابو سی ہو گئی ہے ۔ اٹھ کر پانی کا ایک گلاس پیا کچھ چہل قدمی کی اور دوبارہ لیٹ گیا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور دل کی بھی عجیب ہی کیفیت تھی۔ اسی دوران میرے موبائل کی گھنٹی بجی کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف میرا دوست حامد علی تھا۔ اس نے دکھ بھری آواز میں اطلاع دی کی محترم قاضی حسین احمد انتقال کر گئے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پہلے تو مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا ٹی وی آن کیا تو بریکنگ نیوز چل رہی تھی ۔ آنسوؤں کا سیلاب تھا کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
زمیں پیروں سے نکلی تو یہ ہوا معلوم
ہمارے سر پہ کئی دن سے آسماں بھی نہیں
تین دن تک نہ کھانے کا ہوشں اور نہ کسی سے بات کرنے کا حوصلہ۔۔۔۔
ایک ایسا احساس گویا والدین کے زندہ ہوتے ہوئے یتیم ہو گیا ہوں ۔
میری زندگی میں کوئی اور ایسا موقع نہیں آیا جس نے مجھے اس قدر رلایا ہو ۔ 1987میں جب قاضی صاحب امیر بنے تو میں دوسری کلاس میں تھا ابو کی زبانی ان کا نام سنا. پھر ایک دن وہ قاضی صاحب کی ایک تصویر لائے سفید و سیاہ ریش شخصیت بہت بھلی لگی ۔ دعوت محبت کاروان میں ابو کی شرکت کے بعد قاضٰی صاحب کی شخصیت کے تذکرے گویا قاضی صاحب کی شخصیت کا جادو بچپن میں ہی چل گیا تھا۔ 1993 میں پاکستان اسلامی فرنٹ اور پاسبان کے پلیٹ فارم سے ظالمو قاضی آرہا ہے ۔ آجا قاضی تینو آکھیاں اڈیکدیاں نے تو اس سحر کو مزید جلا بخشی۔ 1996 کا دھرنا تو اس حوالے سے انتہائی یاد گارتھا. یہ میرا جمعیت کا بالکل ابتدائی دور تھا دھرنےمیں بھرپور شرکت اور پہلی بار جیل کی سیر بھی قاضی صاحب سے اورتحریک سےمحبت کا نتیجہ تھا .1998 میں پہلی بار قاضی صاحب سےبالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا وہ ان دنون علیل تھے اورمعالجین کے مشورے پر بغرض آر ام کچھ دنوں کے لیے مری تشریف لائے اورکشمیر پوائنٹ پر اپنے ایک دوست کے ہاں قیام کیا. میں اپنے ابو کے همراه مغرب کے بعد وہاں پہنچا تو وہ ٹیرس پر کچھ اور مہمانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئےتھے میں جب ان سے ملا تو انھوں نے ملتے ہوئے میری پیشانی پر بوسہ دیا جس کا لمس میں آج بھی اپنی پیشانی پر محسوس کرتا ہوں۔گفتگو کا ایسا انداز کہ نہ اتنی طویل کہ لوگ بوریت محسوس کریں اور اتنی مختصر کہ کسی کی سمجھ نہ آئے بلکہ اعتدال سے مزین کہ
وہ کہے اور سنا کرے کوئی
دوران گفتگو فرمانے لگے کہ مری کا مزاج ہو کچھ عجیب سا ہے رات گئے تک لوگ سوتےنہیں اور دن چڑھے تک اٹھتے نہیں، میں فجر کی نماز کو جاتاہوں تو اکا دکا لوگ ہی نماز میں ملتے ہیں اور ساتھ ہی ہمیں بھی فجر کی نماز کا اہتمام کرنے کی تلقین کی. اسی دوران ایک صاحب کا فون آیا اور انھوں نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہنے لگے کہ کل عشاء کی نمازکے بعدملاقات کے لیے آؤں گا تو قاضی صاحب نے کہا کہ بھائی عشاء کے بعدملاقات کا کون سا وقت ہوتا ہے میں تو اس وقت آرام کر رہا ہوتا ہوں۔ قاضی صاحب کے اس جواب پر سب ہنس دیئے .
زندگی کا سفر گزرتا گیا بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کا سفر قاضی صاحب کی شخصیت کے سحر میں گم سا نظر آتا ہے کہیں خبر مل جائے کہ قاضی صاحب پنڈی اسلام آباد کے کسی پروگرام میں آ رہے ہیں تو کانوں میں رس گھولنے والے الفاط سننے کی جستجو سی لگ جاتی اور پروگرام کی طرف کچھے چلے جاتے اور جب وہ ” میرے عزیزو میرے جگر گوشوں” کے کہہ کر مخاطب کرتے تو سرورومستی کا ایک کرنٹ سا دوڑ جاتاتھاجاتاتھا۔ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دل و دماغ قاضی صاحب کی رحلت کو تسلیم کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی یاد سے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور انھیں مرحوم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ اٹھتے ہیں..
اللہ تعالٰی قاضی بابا کی قبر کو نور سے بھر دے اور جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کی دعوت کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قاضی صاحب سے لیا گیا آٹو گراف

5 تبصرے “حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

  1. ماشااللہ عمیر بھای کیا یاد کرا دیا یہی حالت کم و بیش ہر اس کارکن کی رہی ہوگی جس کے دل میں قاضی حسین احمد اسی طرح بستے تھے جس طرح آج بھی ہیں اللہ ان کو اپنی جنتوں مین اعلی مقام عطا فرمایں

  2. جزاک اللہ خیر عمیر بھائی آپ نے ہمارے جذبات کی ترجمانی کی،قاضی صاحب محترم کا خلاء کبھی پر نہ ہو سکے گا

  3. جس اذیت ناک رات کو میں بھولنا چاہ رہا تھا آپ نے دوبارہ یاد دلا دی ،

اپنا تبصرہ بھیجیں