سب کا دکھ سانجھا !




تحریر: شازیہ عبدالقادر
رات کے ایک بجے تھے ، ایک کلاس اور پریزینٹیشن کی تیاری کے بعد میں نیٹ بند کرنے ہی والی تھی کہ ایک بیرونِ ملک مقیم کزن کا میسج آیا کہ ’’ قاضی صاحب انتقال کر گئےہیں۔‘‘ میں نے اس بات کو اس کی تنگ کرنے کی عادت سمجھتے ہوئے ڈانٹ دیا اور کہا کہ کبھی تو سوچ سمجھ کر بات کیا کرو ،پھر نیٹ بند کر دیا اور ٹیلی ویژن کھولا لیکن وہاں ایسی کوئی خبر موجود نہیں تھی۔اس کے بعد منصورہ ایکس چینج فون کیا ۔۔
جی۔۔!! وہاں جن بھائی نے بھرائی ہوئی آواز میں فوراََ فون اٹھایا تو دل دھڑکا۔ اُن کااس طرح فوراَ فون اٹھانا اور پیچھے بجتی فون کی گھنٹیاں یہ بتانے کے لئے کافی تھیں کہ کوئی غیر معمولی بات ضرور ہے۔دھڑکتے دل کے ساتھ ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ ’’ بھائی ،یہ افواہ سنی ہے، اُ دھر سے ان بھائی نے روتے ہوئے جواب دیا جی بہن!! کنفر م ہے۔
‘‘ فون تو بند کر دیا لیکن اس بات پر یقین نہیں آیا۔لائٹ آتے ہی جب ٹی وی کھولا تو اس کے بعد ساری رات روتے روتے گزری۔فجر میں عبد القادر صاحب کو بتایا تو وہ بھی خبر سن کر گنگ ہوگئے۔فجر پڑھ کر واپس لوٹنے میں عبدالقادر صاحب کو غیر معمولی تاخیر ہوگئی۔واپس آئے تو ان کی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں، خاموشی اور آنسو۔۔۔!! منصورہ والے چلے گئے اور ہم مجبوری کے مارے لاہور میں ایک دوسرے کو گلے لگا لگا کر تسلیاں دیتے رہے۔
یاد آیا میٹر ک میں تربیت گاہ کے موقعے پر صبح فجر کے بعد خالہ جان کی طرف چابیاں لینے جانا ہوا تو وہاں قاضی بابا کو مزے سے اکیلے مارننگ واک کرتے ہوئے دیکھا، نہ کوئی باڈی گارڈ نہ کوئی سیکورٹی۔پھر کبھی اجتماعِ عام میں ، کبھی گھر میں اپنے موزے تلاش کرتے ہوئے کبھی جلوسوں کی قیادت کرتے ،کبھی جلسوں سے خطاب کرتے یہ ہی لگا کہ مجھ یتیم کو والد کی رہنمائی مل گئی۔ شادی کے بعد جب بھی میرے سسر مدینہ سے آتے تو قاضی صاحب کے گھر آتے ملنے۔ قاضی صاحب فون کر کے ابو کا حال پوچھتے، مدینہ جاتے تو ان سے ملنے جاتے کہ دیرینہ تعلقات تھے۔جب قاضی بابا چلے گئے تو ابو کی حالت بہت خراب تھی۔ان کے برسوں کے ساتھی ، ان کے رفیق چلے گئے ۔
بس ایک دکھ ہے کہ میرے یومِ پیدائش کا دن اب ہمیشہ قاضی صاحب کی یاد سے ہمیشہ منسوب رہے گا۔سالگرہ منانے کا شوق یوں تو پہلے بھی نہ تھا لیکن اب تو یہ دن فقط اداسی کی علامت بن گیا ہے۔
میر ی جیسی کئی بیٹیاں ہیں جو راحیل باجی،خولہ باجی جیسی یتیم ہوئیں، اور ان کی دعاؤں میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں