روٹی نہیں ملتی تو بسکٹ کھایئے – شاذیہ ظفر




گھر کی صفائی ستھرائی پر مامور جزوی مددگار ، کل جب کام پہ آئی تو کافی چپ چپ سی تھی . ہم نے طبیعت پوچھی تو تھکی تھکی آواز میں بولی …….. باجی میری طبیعت تو ٹھیک ہی ہے لیکن بڑا بیٹا جس فیکٹری میں کام کرتا ہے وہاں چھانٹی کر دی گئی ہے اور نتیجے میں اسکی نوکری ختم ہوگئی ہے ۔ اسکی بیوی آجکل پہ بیٹھی ہے پہلے بھی اسکے دو بچے ہیں ۔ بیٹا بہت پریشان ہے ۔

اور وہ میرا دوسرے نمبر والا بیٹا ، وہ جو درزی کی دکان پہ بیٹھتا تھا اس کو بھی کام سے ہٹا دیا ہے ۔ وہ درزی کہہ رہا ہے کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے اب میرا اپنا خرچہ پورا نہیں ہوتا تو تم دو تین لڑکوں کو کہاں سے دوں ……. اوپر سے مالک مکان کرایہ بڑھانے کو کہتا ہے۔ پانی کا ٹینکر دگنے پیسوں میں مل رہا ہے اور سبزیاں کوئی بھی سستی نہیں ۔ اب تو آلو بھی نہیں کھا سکتے۔ میاں کی آنکھوں میں موتیا ہو گیا ہے علاج اتنا مہنگا کر دیا ہے . دوائیں تو ہماری پہنچ میں ہی نہیں ہیں اور ویسے بھی خالی پیٹ دوا کون کھا سکتا ہے ۔ سب سے پہلے تو گھر بھر کی روٹی کی فکر کرنا ہے . دیکھیں ذرا اس تبدیلی سرکار نے تو منہ کے نوالے بھی چھین لیے ہیں ۔ آٹا تو روز روز مہنگا ہو رہا ہے ۔ باجی سچ بتاؤں ، بچے بھوکے ہوں تو مجھے ایک سے دوسری روٹی کھاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ہاتھ بڑھاتے ہوئے سوچنا پڑتا ہے . یہ المناک داستان سن کر ہم نے سوچا مسائل تو واقعی بہت ہیں تسلی دینے کے لیے کیا کہیں ۔

وہ الفاظ ہی نہیں ملتے جو دل پہ مرہم رکھ سکیں . صرف آٹے کو ہی دیکھ لیجیئے۔۔ قیمت کو یوں پر لگ گئے ہیں کہ غریب روٹی کھاتے بھی شرماتا ہے ۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ مہنگائی کی ماری عوام جب “گھبرانے” کی اجازت طلب کرنے کے لیے بنی گالہ کی جانب دیکھتی ہے تو جواب میں گھنگروؤں کی جھنکار پر ایک ھی آواز سنائی دیتی ہے ………. !!!!

” میرے دیس کا بسکٹ گالا “

اپنا تبصرہ بھیجیں