غم کے ماروں کے لئے یہ عمر اب رونے کو ہے – حمیرا حیدر




آٹھ اکتوبر آتا ہے تو وہ دن دوبارہ سے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔  اوائل اکتوبر کا وہ دن  جب چند سیکنڈ کا زلزلہ بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی سے غائب کر گیا۔ رمضان کے مہینے کی وہ صبح اپنے معمول کے ساتھ شروع ہوئی یہ پہاڑوں میں میں گھری ایک خوبصورت بستی تھی۔ جہاں لوگ صبح سویرے اپنے کام پر نکل جاتے ہیں۔

بچوں کے سکول میں آج دوسرے پارے کی مختصر تفسیر اسمبلی میں سنائی اور پھر سب بچے اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ پہلا پیریڈ چل رہا تھا اور ناظرے کا پیریڈ تھا۔ میں میڑک کلاس کی بچیوں کو پڑھا رہی تھی۔ یہ سکول کا ٹاپ فلور تھا باہر کھلا چھت تھا۔ 8:56 منٹ جب کلاس تقریبا مکمل ہی ہونے والی تھی کہ زور دار جھٹکا محسوس ہوا۔ بچیاں خوف سے قرآن چھوڑ کر باہر کھلی جگہ پر بھاگ گئیں۔ جب سب کمرہ خالی ہوا تو میں بھی جلدی سے نکل آئی۔  آس پاس کی سب کلاسوں کے بچے اور سٹاف وہیں جمع ہو گئے تھے۔  وہ چیخ و پکار تھی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ چھت کے گرد چاردیواری کی اینٹیں ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہی تھیں۔سب کو اک ساتھ سمیٹ کر درمیان میں کیا ہوا تھا۔ بچے مجھ سے ایسے چپک کر کھڑے تھے کہ شاید اس خوفناک زلزلے سے ان کی مس ان کو بچا لے گی۔  مس ۔۔مس ۔۔امی۔۔ ابو مما ۔۔۔ مورے۔۔۔۔ کی چیختی لرزتی آوازیں تھیں۔

میں  آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی کہ اے اللہ تو ہی بچانے والا ہے یا حی القیوم بچا لے ہمیں۔جھٹکے کچھ کم ہوئے تو تمام بچوں کو احتیاط سے سکول سے  باہر نکالا گیا اور بڑے کھلے گراونڈ میں جمع کیا۔یہ گاوں کا واحد پرائیویٹ سکول تھا اردگرد سے مائیں روتی ہوئی بھاگتی آ رہی تھیں بہت سے گھر رہنے کے قابل نہیں رہے تھے بڑی بڑی واضح دراڑیں تھیں۔ خوف سے سب لوگ کھلے کھیتوں  میں تھے۔ بچوں کے والدین کے ساتھ خیریت سے رخصت ہونے تک ہم سکول میں  رکے تھے۔ اطراف کے گاوں سے اچھی خبریں نہیں آ رہی تھیں اب جو کچھ بچے ہی تھے جن کے والدین پہنچ نہ سکے تھے۔ کیونکہ ان کا پورا گاوں تباہ ہو چکا تھا۔ ہنستے مسکراتے بچوں کے چہرے خوف سے لرز رہے تھے۔ میری نانی سب سے پہلے میرا اور بچوں کا پتا کرنے سکول پہنچیں۔ ہم خیریت سے تھے تو وہ باقی گاوں کو دیکھنے کے لئے گئیں۔ میری پھوپھی جان جس گاوں میں بیاہی تھیں وہ ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا۔

ابو شدید پریشانی میں نکلے تھے اللہ کا شکر ہے کہ وہ سب خاندان محفوظ تھا۔ مگر گاوں میں ایک ساتھ کئی جنازے اٹھے تھے۔ آس پڑوس کے لوگ ہمارے گھر کے سامنے کھلے کھیت میں جمع ہو گئے تھے۔ افطاری کے لئے نانی نے دیگ بنوائی کہ کوئی اس حالت میں نہ تھا کہ گھروں میں پکا سکے۔ شام سے پہلے تک آسمان صاف تھا مگر رات ہوتے ہی  شدید بارش شروع ہو گئی۔ سردی کا آغاز ہو چکا تھا اور رمضان بھی تھا۔ اس لئے بارش میں رہنا محال تھا۔ اس لئے کھلے برآمد مین سب آ گئے ۔ گھر کے دروازے چوپٹ کھلے تھے جیسے ہی زلزلے کا جھٹکا آتا سارے باہر بھاگتے تھے۔ وہ رات بہت طویل تھی۔ سحری میں روٹی توے پر ہوتی اور ویسے ہی چھوڑ کر باہر بھاگنا پڑتا۔زلزلے میں سکول بہت متاثر ہوئے تھے۔ بہت سے بچے ان میں دب کر شہید ہو گئے تھے۔ مائیں روتیں تھیں صبر نہیں آتا تھا۔ میری یونیورسٹی فیلو کا تعلق کشمیر سے تھا وہ کہتی ہیں :

ہمارے خاندان کے 12 لوگ شہید ہو گئے تھے اور جب رات کو بارش شروع ہوئی  تو ہمارے پاس نہ خود کو چھپانے کے لئے کچھ تھا نا میتوں کو۔ پھر ایک پلاسٹک شیٹ تھی جو ہم نے میتوں پر ڈال دی کہ کم از کم ان کا آخری اکرام ہم کر سکیں۔پھوپھو کے گاوں میں بہت اموات ہوئی تھیں ہماری کولیگ کے والد اس کے بھائیوں کو بغل میں دبا کر باہر نکلنے لگے تو شیدید جھٹکے سے ان کے گھر کے شہتیر گر گئے وہ جان بچانے کو پچھلی دیوار کے ساتھ لگ گئے مگر وہ پچھلی دیوار پڑوس کی اگلی دیوار تھی،  وہ بھی گر گئ اور وہ دب گئے۔ اسی طرح بچوں کے ساتھ ان کو نکالا گیا۔ امی کے پاس ایک بوڑھی خاتون آیا کرتی تھیں ان کا معمول تھا وہ امی سے دس پندرہ دن کے لئے قرض لے جاتیں پھر مقررہ دن واپس لے آتیں تو امی ان کو کچھ پیسے دے دیتیں اسی طرح ان کا معمول تھا۔ وہ اسی گاوں کی طرف گئیں تھیں اور زلزلہ ہو گیا اور وہ ملبے میں دب گئیں کوئی نہیں جانتا تھا وہ کہاں ہیں .

کئی روز بعد کھدائی میں سفید بال نظر آئے تو لوگ سمجھے کوئی بکری ہو گی مگر جب مزید کھودا تو ان کی لاش تھی۔ ایک کزن کی نئی شادی ہوئی تھی جب وہ باہر بھاگنے لگیں تو شہتیر ان پر آ گرا اور پھر باقی ملبہ۔۔۔۔ زندگی رکتی نہیں ہے انسان وہ مخلوق ہے جو وقت لے ساتھ خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔آفٹر شاکس کا سلسلہ کئی ماہ تھا جاری رہا۔ انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے رفتہ رفتہ ان کے بھی عادی ہو گئے ۔ مگر عرصے تک آنکھ لگتی اور بچوں کی وہ چیخ و پکار اور دیواریں گرنے کا منظر آنکھوں میں آ جاتا سو نہیں سکتی تھی۔ پھر حال یہ تھا کہ میں اور نانی جان ساتھ سوتے تھے تو جب جھٹکا آتا تو میں اٹھ کر بیٹھ جاتی نانی جان بھی اٹھ جاتیں پوچھتیں گزر گیا میں کہتی جی پھر ہم لیٹ جاتے تھے۔لوگ بھی واپس اپنے گھروں میں لوٹ گئے تھے کہ شدید سردی کا آغاز ہو گیا تھا۔ کئی ماہ بعد جب سکول کھلے تو ہم نے سکول میں ایک پروگرام رکھا جس کا موضوع ” زلزلہ ” تھا۔ مجھے ایک نظم آج بھی یاد ہے بچوں نے پڑھی تھی۔

حادثہ گزرا نہیں ہے حادثہ ہونے کو ہے
غم کےماروں کےلئےیہ عمراب رونےکوہے
آج اس کو ماں بھی لینے آ گئی اسکول میں
اس کا یونیفارم سارا اٹ گیا ہے دھول میں 
واسطے دیتی ہے سب کو چھت ذرا سرکاو
میرا لعل ہے یہیں اس سے مجھے ملواو تو

اپنا تبصرہ بھیجیں