بہت عجیب ہیں آپ – ہمایوں مجاہد تارڑ




یاد ہے ۔۔۔! آپ اِن سب مولویوں کے ہیرو تھے، پٹواریوں کے ہیرو تھے، جیالوں کے ہیرو تھے۔ بلاتفریق سب مرد و زن مریضوں کے ہیرو تھے۔
کھیل کے میدانوں میں بھاگتے دوڑتے بچوں اور نوجوانوں کے ہیرو تھے۔ نوجوان لڑکیوں کے خواب وخیال کے شہزادے، اور خواتین کی ستائشی نظروں کے مرکز و محور، آپ پوری قوم کے ہیرو تھے۔

یہی نہیں، آپ اپوزیشن جماعت بن کر بھی عمدہ کنٹری بیوٹ کر رہے تھے۔ آپ کے دباؤ میں نواز شریف گورنمنٹ کے منصوبے بگٹٹ بھاگ رہے تھے۔ شریف فیملی ترقی کا کریڈٹ لے کر دوبارہ گورنمنٹ میں آ جاتی؟ بسم اللہ، ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ آپ بیک فٹ پر رہ کر کھیلتے رہتے، اور کان سے پکڑ کر کام دوسروں سے کروائے جاتے ۔۔۔ آپ پشاور کو پیرس بنا ڈالتے، آپ سٹیل مِلز کی کارکردگی بحال کرواتے، آپ PIA اور واپڈا اور PTCL اور PTV کا چلن درست کروانے میں طوفان اٹھاتے، آپ گورنمنٹ سکولز اور سرکاری ہسپتالوں کے دروازوں پر دھرنے دے دے کر ریفارمز کرواتے، آپ خود مزید ہسپتال اور نمل کالج ایسے اداروں کی چین بنا ڈالتے ۔۔۔ آپ سارا ملک سیدھا کر کے رکھ دیتے!! اور مجھے یقین ہے اِس خدمت کے عوض آپ یقیناً ایک روز وزیرِ اعظم پاکستان بھی بنائے جاتے۔ مگر افسوس ۔۔۔ آپ استعمال ہو گئے۔ وقت برباد ہوا۔ توانائیاں غارت ہوئیں۔ فَنڈز فنا ہوئے۔ آپ اِس ملک کے اربوں بچانے نکلے تھے، کھربوں کا نقصان کر ڈالا۔

اخلاقی نقصان اِس پر مستزاد! اب آدھے مولوی آپ کے حمایتی ہیں تو باقی کے نصف آپ سے متنفّر۔ اب ہم پاکستانی یکمشت آپ کو چاہنے والے پاکستانی نہیں رہے . بلکہ ہم پٹواری ہیں، جیالے ہیں اور نجانے کیا کیا ہیں۔ اب نصف قوم جو آپ کو سپورٹ کرنے نکلی تھی، بیشتر وہ بھی نالاں ہے۔ جبکہ باقی نصف تو آپ سے کراہت کھانے لگی ہے ۔۔۔ نفرت کی یہ لکیر گہری ہوتی جا رہی۔ اب تو یوں لگتا ہے آپ آسمان سے من و سلویٰ کیوں نہ اتار لائیں، اُسے کھا پی کر بھی پٹواریوں اور جیالوں اور مولویوں کے پاس آپ کے حق میں گالیوں اور قہر آلود نگاہوں کے سوا کچھ نہ ہو گا ۔۔۔ ایک عجیب متشدد فضا بنائی ہے آپ نے۔ بہت عجیب ہیں آپ، خان صاحب۔

اپنا تبصرہ بھیجیں