محترمہ نصرت بھٹو ۔ مسعود ابدالی




ایرانی نژاد (ایرانی صوبہ کردستان کی رہائشی) نصرت اصفہانی کی شادی 1951ء میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے ہوئی جب وہ زیر تعلیم تھیں۔ واضح رہے کہ نصرت اصفہانی سے نکاح کے وقت جناب بھٹو شادی شدہ تھے۔1943ء میں بھٹو صاحب کا پہلا نکاح شیریں امیر بیگم سے ہواتھا اور 1979ء میں پھانسی کے بعد انکی میت بھی امیر بیگم ہی نے وصول کی تھی۔

عجیب اتفاق کہ نصرت اصفہانی اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں ہی سیاسی اعتبار سے لبرل اور خواتین کے حقوق کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک مرد کی ایک سے زیادہ شادی سخت معیوب اور عورت کی تذلیل ہے لیکن بیگم صاحبہ بلا تردد بھٹو صاحب کی دوسری بیوی بننے پر راضی ہوگئیں۔ جناب بھٹو نے نکاح ثانی کے بعد نہ تو اپنی پہلی بیوی کوطلاق دی اور نہ ہی انھیں آبادکیا۔ اپنی رخصتی کے بعد سے امیر بیگم نے تنہا زندگی گزاری اور 2003ء میں انتقال پر انھیں کراچی میں خاموشی سے دفنا دیا گیا۔

بھٹو صاحب کی اس پہلی شریک حیات کوبعد ازمرگ بھی گڑھی خدابخش کے قبرستان میں اپنے محبوب شوھر کا پہلو نصیب نہ ہوسکا۔بیگم نصرت بھٹو کی پوری زندگی قربانی اور جدوجہد سے عبارت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کے وقت بیگم صاحبہ کی عمر صرف22 سال تھی۔ آپ نے بے مثال ازدواجی رفاقت اور شوھر کے مشن سے لازوال وفاداری و وابستگی کا ثبوت دیا۔

بھٹو صاحب کی گرفتاری، مقدمے اورسزا کے دوران جب پیپلز پارٹی کے اکثر رہنما دبک کر بیٹھ گئے تھے، بیگم صاحبہ خم ٹھونک کر میدان میں آئیں، پارٹی کی قیادت سنبھالی اور مارشل لا کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ قیدو بند کی صعوبتوں کے دوران بھی آپ نے کارکنوں سے رابطہ رکھا اور انکا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔

بیگم نصرت بھٹو کی انتھک محنت اور کارکنوں سے قریبی ربط ضبط ہی کا نتیجہ تھا کہ 1988ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر اکثریتی جماعت بن کر ابھری۔ اس کامیابی پر وہ وزارت عظمیٰ سنبھال سکتی تھیں لیکن انھوں نے اپنی چہیتی بیٹی بینظیر بھٹو کو مسندِ اقتدار پر بٹھایا۔ ڈاکٹر مبشر حسن، ممتاز علی بھٹو اور بھٹو مرحوم کے دوسرے قریبی رفقا کا خیال ہے کہ بیگم صاحبہ اپنے صاحبزادے مرتضیٰ بھٹو کو آگے لانا چاھتی تھیں لیکن بینظیر بھٹو اور انکے شوھر آصف علی ذرداری کی شدید مزاحمت کے آگے بیگم صاحبہ نے ہتھیار ڈالدئے۔

ستمبر 1996ء میں مرتضیٰ بھٹو کےقتل نے بیگم صاحبہ کو ذہنی طور سے ماؤف کردیا۔ محبوب شوھر کی پھانسی، قیدو بند کی صعوبت، تشدد اور خاوند کی جدائی کےصرف چھ برس بعد جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹوکی موت کے صدمات کو بیگم صاحبہ نے بڑے حوصلے سے جھیلا لیکن مرتضیٰ کی جدائی ان سے برداشت نہ ہوسکی اور وہ اپنے بیٹےکے آخری دیدار کے وقت بچوں کی طرح بلک بلک کر روپڑیں۔ میت اٹھنے کے بعد بھی وہ اپنی یتیم پوتی فاطمہ سے لپٹ کر گھنٹوں روتی رہیں حتیٰ کہ انکے دیدے سفید ہوگئے اور عارضی طور پر انکی بینائی جاتی رہی۔ اس صدمے سے بیگم صاحبہ ذہنی توازن کھو بیٹھیں۔

کافی عرصہ قبل انھیں کینسر کی شکائت تھی جس سے وہ مکمل طور پر شفا یاب ہوچکی تھیں لیکن یہ موذی مرض دوبارہ حملہ آور ہوگیا اور اسکے ساتھ ہی انکے معالج نے Alzheimer کا مرض تشخیص کیا جس میں مریض اپنی یادداشت کھو بیٹھتاہے۔ بیگم صاحبہ علاج کی غرض سے دبئی تشریف لے گئیں اوراسکے بعد انکی میت ہی پاکستان واپس آئی۔

بیگم صاحبہ کی دبئی روانگی کے بارے میں متضاد آرا ہیں۔ انکے انتقال کے بعد ایک نجی ٹیلی ویژن سے باتیں کرتے ہوئے بھٹو صاحب کے قریبی رفیق ڈاکٹر مبشر حسن نے کہا کہ بیگم صاحبہ کو قید کردیا گیا تھا۔ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور ذوالفقار علی بھٹو کے کزن ممتاز علی بھٹو کاکہنا تھا کہ نصرت بھٹو کی زندگی کے آخری دس سالوں میں بھٹو خاندان کے کسی فرد کو بیگم صاحبہ کی کوئی خبر نہ تھی حتیٰ کی انکی بہو غنویٰ اورلاڈلی و اکلوتی پوتی فاطمہ بھٹو کا بھی اپنی دادی سےکوئی رابطہ نہ ہوسکا۔

بیگم صاحبہ کے دونوں بیٹوں کی موت پراسرار طریقے پر ہوئی۔ شاہنواز بھٹو فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے اور پوسٹ مارٹم کے مطابق انکی موت زھر خورانی کے باعث ہوئی۔ بیگم نصرت بھٹو کو کو یقین تھا کہ کہ شاہنواز کی افغان نژاد اھلیہ ریحانہ نے انکے کھانے میں زھر ملایاہے لیکن برسوں تحقیق کے باوجودفرانسیسی محکمہ سراغرسانی ریحانہ پر یہ الزام ثابت نہ کرسکا۔ اسی طرح مرتضیٰ کی موت انکے گھر کے سامنے پولیس مقابلے میں ہوئی۔ زبردست فائرنگ کے نتیجے میں مرتضیٰ بھٹو اور سابق وزیراٰعلیٰ سندھ، غلام مصطفےٰ جتوئی کے برادر نسبتی عاشق جتوئی سمیت چھ افرادقتل کردئے گئے۔ اسوقت بینظیر صاحبہ وزیراعظم تھیں لیکن اس اندوھناک کاروائی کے مرتکب افرادکیفر کردار تک نہ پہنچ سکے۔

شوھر کی پھانسی، دو جوان بیٹوں کی پراسرار موت اور ایک بیٹی کے قتل کا صدمہ سہنے والی مضبوط اعصاب کی اس خاتون پر آخری چند سال کیسے گزرے اسکے بارے میں کوئی بات واضح نہیں اور یہ راز انکے ساتھ ہی زمین میں دفن ہوگیا کہ محترمہ نے اپنی زندگی کے آخری دس بارہ سال کیسے اور کہاں گزارے؟ کیا وہ اپنی مرضی سے دبئی میں مقیم تھیں یا عملاً ایک قیدی تھیں؟۔حقیقت کچھ بھی ہو اب بیگم صاحبہ نامہ اعمال کے ساتھ اپنے رب کے پاس پہنچ چکی ہیں جو حقیر نیکیوں پر کثیر اجر عطاکرتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو معاف کرنے کی قدرت رکھتاہے۔ بیگم صاحبہ نے اپنے کئی پیاروں کے جنازے دیکھے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیگم صاحبہ کی ان پریشانیوں کو انکے درجات کی بلندی کا سبب بنادے اوران کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں