اقبال اور پاکستان – ماہین خان




ہے مملکت ہند میں ایک طُرفہ تماشہ
اسلام ہے محبوس,مسلمان ہے آزاد

پاکستان ایک ایسی اسلامی ریاست ہے جس کا خواب بند آنکھوں نے نہیں , بلکہ اقبال کی جیتی جاگتی اور عقابی نگاہوں دیکھا تھا ۔ یہ خواب کسی خواب گاہ کی ایک افسانوی داستان یا شعری مجموعے کا کوئی محور نہیں بلکہ اس خواب کے اصول کچھ اور ہی نرالے تھے ۔ اس خواب کو حقیقت کی کھلی آنکھ , ایمان سے پرنور دل , خودی سے بھرپور کردار , تیر کی تیزی لیے نگاہیں , عقاب کی سی بلند اور آگے کے آسمانوں میں پرواز کرنے کی امید لئے اس شخص نے دیکھا جس نے پوری مسلم اُمّہ کی ایک وقتِ خاص میں تقدیر بدل ڈالی ۔

؎دلِ مردہ دل نہیں, اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ

جی ہاں ۔۔۔۔۔۔ ! علامہ اقبال , جنہوں نے پوری مسلم دنیا کی خدمت میں اپنی شاعری کے وہ جوہر دکھائے جس کی بدولت آج دنیا بھر میں ان کی شاعری پر تھیسس بنتے ہیں ۔ لوگ اسے سمجھتے ہیں ورکشاپس ارینج کرتے ہیں , دین سیکھنے کے لیے ایک موزوں تشریح بھی تصور کرتے ہیں ۔
جی ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہی اقبال ہیں جنہوں نے ملک کی تعمیر کے لیے کتنے ہی سچے اور کھرے مسلم معمار لاکھڑے کیے ۔ جن کو قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیے اپنی شاعری کے ذریعے جگانے کی کوشش کی ۔ ان کے اندر خودی کا وہ پودا لگایا جو ایک عرصے تک تناور درخت بنا رہا ۔ اقبال نے فرمایا

؎نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبعیت نے
یہ رعنائی, یہ بیداری , یہ آزادی, یہ بے باکی

آئیے! اب ذرا ہم اس اسلامی بلکہ دنیا کی دوسری ” ریاست مدینہ ” کا کچھ احوال جانتے ہیں ۔
جی ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں آپ کو ملک کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر غرباء کی ایک بڑی تعداد ہوں ہی بے سر و سامان پڑی نظر آئے گی ۔ یہاں کے تعلیمی معیار کا یہ حال ہے کہ اسکولوں کی فیسیں آسمان سے باتیں کرتے ہوئے بچوں کو پڑھائی اور اخلاق , دونوں سے محروم کردیتی ہیں ۔ یہاں جو جوان پڑھ لیتے ہیں , انہیں نوکریوں کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں یا وہ سڑک پر اپنے معصوم بچوں سمیت بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔

یہاں آپ کو کشمیر تا بلوچستان ۔۔۔۔۔ ہر تیسری ماں, بہن, بیٹی اپنی عزت کو بچاتے ہوئے یوں ہی سڑکوں پر لٹتی نظر آئے گی ۔ یہاں کی جنس آدم اب اس قابل نہیں کے ان کی نظروں پر بھروسہ کیا جاسکے ۔ اب یہاں بارشوں میں مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ لوگ گٹر اور گندے پانی کی بھی مزہ لیتے ہیں جن سے کئی وبائیں آئے دن حملہ آور ہوتی رہتی ہیں ۔ یہاں روز کئی گھر گرتے ہیں ۔ کتنے ہی لوگوں کے ضمیر بکتے ہیں ۔ یہاں عوام روٹی کو روتی ہے ۔ یہاں کے حکمران صداقت , امانت , شجاعت , دیانت کا سبق بھول چکی ہے ۔ یہاں اب وہ قیادت نہیں رہی جو ایک قوم بنا سکے ۔ اب یہاں آپ کو گلی گلی , کوچہ کوچہ فرقہ واریت نظر آئے گی ۔ کوئی سندھی , کوئی بلوچی , پٹھان اور کوئی پنجابی نظر آتا ہے ۔

؎فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟

اب یہاں وہ عدالت نہیں رہی جو انصاف دلا سکے ۔ جو انصاف کا تقاضہ کرسکے ۔ جو انصاف کا علم اٹھا سکے ۔

؎نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھوٹے بگوں کی ریزہ کاری ہے

تو جناب یہ ہے اقبال کا وہ پاکستان جس کا خواب دیکھا گیا تھا ۔ جس کے اصول اور حصول کی جدو جہد کتنی خوبصورت اور قربانیوں سے آراستہ تھی ۔ جہاں کوئی تفریق نہیں تھی ۔ جنہوں نے اس کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا ۔

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

اب اس دور کے شاہین کو بھر برگ و بر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ تو اقبال کا وہ خودی کا آشنا عقاب تھا جو اس شان سے جھپٹتا تھا کہ ستاروں کی چمک بھی کیا ہوگی ۔ اس شاہین کو اب اپنا جہاں بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ایسا جہاں , جہاں یہ اس اسلامی ریاست کا خواب دوبارہ شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔ اب اس ملک کے معماروں کو علم کے دریا میں غوطے لگانے کی ضرورت ہے ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ یہ ملک پھر سے اقبال کے سنہری خواب کا عکس بن سکے ۔انشاللہ

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہوجا, خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا, محبت کی زباں ہوجا

اپنا تبصرہ بھیجیں