حادثوں کے منتظر – ابن فاضل




لاہورکی مشہور زمانہ نہر پر مغلپورہ کے پاس ایک جگہ ہے جسے “چوبچہ” کہتے ہیں. کچھ عرصہ قبل وہاں ایک ریلوے کا پھاٹک ہوتا تھا جو چوبچہ پھاٹک کہلاتا، اب وہاں انڈر پاس تعمیر کیا جاچکا ہے. چوبچہ پھاٹک پر ریلوے لائن سڑک کو ترچھی عبور کرتی تھیں، یعنی قائمہ زاویہ نہیں تھا. ایک دن اتفاق سے وہاں گاڑی پنکچر ہوگئی تو جانا کہ پھاٹک کے ساتھ ہی سڑک کے ایک طرف ایک پنکچر کی دکان ہے اور ایک سائیکل مرمت کرنے والے صاحب ساتھ ساتھ ٹھیہ لگائے بیٹھے ہیں.

پنکچر لگانے والے صاحب کے پاس میں ایک لکڑی کے بنچ پر بیٹھا ٹیوب سے نکلنے والے بلبلوں کی تعداد کا تعین کررہا تھا کہ ایک جوڑا موٹر سائیکل پر ریلوے لائن عبور کرتا ہوا گر گیا. ان کی موٹر سائیکل کا ٹائر لائن کے درمیان پھنس کر اس قدر ٹیڑھا ہوگیا کہ موٹر سائیکل چلنے کے قابل نہ رہی. وہ ابھی سنبھل کر حالات کا جائزہ ہی لے رہے تھے کہ سائیکل مرمت کرنے والے صاحب بھاگ کر ان کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ یہ میں آپکو درست کرکے دے دیتا ہوں.

مجھے بڑی حیرت ہوئی، ایسا لگا جیسے یہ صاحب اس حادثہ کے منتظر تھے. میں نے پنکچر والے سے پوچھا,
“بھائی کیا ایسے حادثات یہاں اکثر ہوتے ہیں؟”
جواب ملا کہ روزانہ درجن بھر تو ہوہی جاتے ہیں. دراصل ریلوے لائن ٹیڑھی ہونے کی وجہ سے ذرا سے بے احتیاطی یا بے دھیانی ایسے حادثات کا باعث بن جاتی تھی. اور وہ سائیکل مرمت کرنے والے صاحب کا سارا نظام حیات انہیں حادثات پر منحصر تھا. میں نے کہا عجیب لوگ ہو بھائی، جب جانتے ہو کہ روزانہ درجنوں لوگ خواتین وحضرات پریشان ہوتے ہیں تو یہاں کوئی سپیڈ بریکر یا تنبیہی تختہ وغیرہ کیوں آویزاں نہیں کرتے کہ اللہ کی مخلوق حادثات سے بچ جائے. ان کا خیال تھا کہ یہ سرکار کا کام ہے، ہم کیوں اپنی روزی پر لات ماریں.

سچی بات یہ کہ اس وقت میں نے بھی بطور شہری اپنا حق ادا نہیں کیا، وگرنہ مجھے چاہیے تھا علاقے کے کونسلر یا کسی دوسرے نمائندہ سے اس بابت جاکر ملتا اور اس مسئلہ کا حل کرواتا. مجھے آج بھی اس بات کا قلق ہے. لیکن اب کوشش رہتی ہے کہ ایسی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے. لیکن افسوس کی بات ہے کہ معاشرے کے عمومی رویے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی.

اپنا تبصرہ بھیجیں