Home » سقوط ڈھاکہ , ایک رِستا ہوازخم – کرن وسیم
پاکستان

سقوط ڈھاکہ , ایک رِستا ہوازخم – کرن وسیم

” آدھی سے زیادہ اردو بولنے والی آبادی موت کے گھاٹ اتاری جا چکی ہے، اور جو بچ گئی ہے وہ جاں کنی کے عالم میں ہے۔ ہماری عزت، ہماری آبرو، ہمارا وجود سب کچھ خطرے میں ہے۔۔۔ اس لئے ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مسائل حل کرے اور اقوام متحدہ اور دنیا کی بڑی طاقتوں پر دباؤ ڈالے کہ ہمیں بنگلہ دیش سے جلد از جلد باہر نکالا جائے۔۔۔ ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر پاکستان ہمیں فوری طور پر قبول نہیں کرتا ہے تو ہمیں اپنے یہاں پناہ دے۔ ”

یہ اعصاب شکن الفاظ ہیں اُن عرضداشتوں کے جو 16دسمبر1971 کے بعد مشرقی پاکستان کی اردو بولنے والی آبادی کی طرف سے اس کڑے وقت کے دوران لکھے گئے تھے۔ ’مہذب دنیا‘ کے نام لکھی گئی اپیلوں کو پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان سے ان کی بے بسی اور لاچارگی اور انتہائی خوف میں مبتلا زندگی کا اندازہ ہوتا ہے جب بنگلہ دیش کے وجود میں آتے ہی وہ اپنے ہی ملک میں اجنبی ہو گئے تھے۔ شکست خوردہ پاکستان کچھ کرنے کی حالت میں نہیں تھا نہ ہی یہاں کے ارباب اختیار کے ذہن اس طرف مائل تھے۔ان کا مؤقف تھا کہ عالمی قانون کے تحت اب وہ بنگلہ دیش کی ذمّہ داری ہیں۔ کیسا بےدرد مؤقف اختیار کیا گیا کہ آج بھی دل و دماغ سن ہوجاتے ہیں اس نارسائی پر.. ادھر بنگلہ دیش کی حکومت نہ صرف یہ کہ ان کی طرف سے بیزار تھی بلکہ مکتی باہنی کے کارکنان کو کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ ان پر اپنا غصّہ نکالے….

چنانچہ مکتی باہنی کے کارکنان ’ بہاری مسلمانوں‘سے موسوم بہار اور اتر پردیش سے ہجرت کر کے آنیوالی اردو بولنے والی آبادی پر بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑے۔پورا ملک ان کی نسل کشی کی پالیسی پر گامزن ہو گیا۔ انہیں سرکاری، نیم سرکاری، پرائیویٹ اداروں اور فیکٹریوں کی ملازمتوں سے یکسر برخاست کر دیا گیا۔ ان کا پروویڈنٹ فنڈ ضبط کر لیا گیا۔ انہیں بینکوں میں جمع شدہ رقم نکالنے سے باز رکھا جانے لگا۔ ان کے گھروں پر زبردستی قبضے کیئے جانے لگے….پچھلے چند سالوں سے شیخ حسینہ واجد کی حکومت ان شہریوں پر مقدمہ چلا رہی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے1971 میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر مجاہدین آزادی پر ظلم ڈھایا تھا….. شیخ حسینہ نے اس کام کے لئے جو انٹرنیشنل وار ٹریبونل بنایا ہے اس پر جانب دار ہونے کا الزام پوری دنیا میں اور خود بنگلہ دیش کے اندر بھی لگ رہا ہے….

متعدد بین الاقوامی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی رہنماؤں نے اس پر اعتراضات کیئے ہیں اور اس کی شفافیت پر سوال اٹھایا جاتا رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وکلاء اور گواہوں کو ہراساں کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔بنگلہ دیش کی حکومت کی عدالتوں پر قدغن کے حوالے سے عالمی برادری اعتراض کر چکی ہے۔اب تک متعدد افراد کو اس متنازع ٹریبونل نے سزائے موت تجویز کی اور فوری طور پر اس پر عمل درآمد بھی کیا گیا..پروفیسر غلام اعظم کو نوے سالہ عمر قید اور قمرالزمان , عبدالقادر مُلا , مطیع الرحمان نظامی اور میر قاسم علی کو سرزمین پاک کی تقسیم کے خلاف جدوجہد کرنے پر پھانسی کی سزا دی گئ … بنگلہ دیش کی موجودہ سیکولر رجحان رکھنے والی حکومت کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے یہ بات واضح طور پر سامنے ہے.. لیکن ایک اسلامی مملکت کے حصول کی جدوجہد کرنے اور اس کی طرف اپنا سب کچھ لٹا کر ہجرت کرنے والوں کے لیئے یہ تقسیم ایک سانحے سے کم نہیں..

یہ ایک ایسا رِستا ہوا زخم ہے جسکی تکلیف آج بھی ان آنکھوں میں نظر آتی ہے جنہوں نے پاکستان بنتے اور دو لخت ہوتے دیکھا… سازشیں بانجھ نہیں ہوتیں .. انکے زہریلے بیج سے کانٹوں بھری فصل پیدا ہوتی ہے..جو زندگیاں زخم زخم کردیتی ہے.. تاریخ لہولہان ہوجاتی ہے.. کاش کہ ہم اور ہمارے حکمران اب بھی سمجھ لیں اور سنبھل جائیں…

لمحوں کی خطاؤں کو صدیوں بھگتنا پڑتا ہے….

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。