قائد کا احسان اور ہمارا رویہ – روبینہ اعجاز




25 دسمبر کی تاریخ بانی پاکستان کی پیدائش کا دن ہے . یہ صرف ان کی پیدائش کا ہی دن نہیں ہے بلکہ ایک ایسی شخصیت کی پیدائش کا دن ہے جو پورے ایک عہد کی یادگار ہے ۔ جس کے زیر سایہ ایک بہت بڑی ہجرت کی گئی ۔مسلمانوں کے خوابوں کی تعبیر پوری ہوئی ۔

اس دن میں ہمیں اپنے بانی پاکستان کے احسانات کا اعادہ کرنا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے انتھک محنت کرکے یہ پاک وطن حاصل کیا انہوں نے کس طرح دن رات محنت کی۔ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور اور ایک ارض پاک حاصل کرنے کے لئے یہ پیغام دیا کہ اگر انسان کا ارادہ پختہ ہو اور اس کا ایمان ہو کہ اللہ کے نام پر ایک ایسا ملک حاصل کیا جائے جس میں اسلام کا بول بالا ہو اور اس میں مسلمان آزادی سے رہ سکیں تو وہ ضرور پورا ہو گا ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں یہ ملک نصیب ہوا اور اب اس کو لمبا عرصہ گزر چکا ہے ۔ہمیں اپنے قائد کا احسان کس طرح ادا کرنا ہے ۔قربانی دینے والوں نے تو اپنی جان و مال کی قربانی دی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پاک وطن حاصل کیا۔

ہم قائداعظم کی شخصیت کو دیکھیں تو انہوں نے ذاتی زندگی کو اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی صحت کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ ایک پوری قوم کو بنانے کے لئے وہ ڈٹے رہے اور بالآخر اپنے عزم میں کامیاب ہوگئے۔مگر نیا پاکستان بنانے کیلئے گوناگوں مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود بھی چٹان کی طرح مضبوط رہے اور یہاں کے لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک وطن قائم کیا ۔ مگر بد قسمتی سے بانی پاکستان کی صحت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ پاکستان بننے کے صرف ایک سال بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ اللہ تعالی انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے لیکن اب ہم کیا کر رہے ہیں ؟ کیا ہم اپنے بڑوں کی قربانیوں کی لاج رکھے ہوئے ہیں ؟ کیا ہم اپنے وطن کو مضبوط بنا رہے ہیں ؟ کیا ہم اسلام کے نام پر قائم کی ہوئی مملکت میں اسلامی نظام رائج کر رہے ہیں ؟ کیا ہم یہاں کی عوام کی جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں؟

جہاں یہاں کی محنت کش اور پرخلوص عوام اپنے وطن کے لیے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ وہاں پر لمبا وقت گزرنے کے بعد بھی قائد کا بنایا ہوا پاکستان نظر نہیں آتا۔ اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا کہ اللہ کے نام پر قائم کئے گئے ملک میں اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ ہر کسی کی بلا امتیاز خدمت کرنی ہے۔ اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے ہر طرح سے قائد اور وطن عزیز کی خاطر قربانیاں دینے والوں کے خوابوں کو پورا کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں