یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں – عصمت اسامہ




پاکستانی اپنے وطن سے بہت محبت کرتے ہیں ۔اس محبت کا اظہار یوم آزادی، یوم پاکستان ،6 ستمبر وغیرہ کے خاص مواقع پرخوب کیا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوان جتنا اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اتنا ہی فکرمند بھی رہتے ہیں ۔اس حب الوطنی کو شعوری رنگ دینے کی ضرورت ہے اور وطن کی بقا ،سالمیت اور تشخص کو درپیش خطرات سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔

تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنے ماضی کا عکس دیکھ کر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرسکتے ہیں ۔سقوط ڈھاکہ تاریخ پاکستان کا ایک ناقابل فراموش باب ہے ،جب لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا وطن دو ٹکڑے کر دیا گیا۔16 دسمبر 1971ء کو یاد رکھنا ،اس نقصان کے اسباب ،وجوہات کا جائزہ لینا ،اس کے نتائج و اثرات کو تسلیم کرنا ،پاکستانی قوم پر فرض بھی ہے اور اس مٹی کا قرض بھی !

پھول لے کر گیا ،آیا روتا ہوا ،بات ایسی کہ کہنے کا یارا نہیں
قبر اقبال سے آرہی تھی صدا ،یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں!

آخر وہ کون سی آندھیاں تھیں جنہوں نے اتنے سالوں کی محنت ضائع کردی ؟ وہ کون سے نادیدہ ہاتھ تھے جنھوں نے ہمارا چمن اجاڑ ڈالا؟

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
کوئی حادثہ یکدم نہیں ہوتا!

پاکستان، دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تھی جو 1947 ء سے دشمنوں کی آنکھ میں کھٹک رہی تھی ۔بھارت سمیت دنیا کی سب سپر پاورز اس نوزائیدہ ریاست کے خلاف متحد تھیں۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا ۔دونوں حصوں کے عوام مختلف رنگ، زبان اور تہزیب کے ہونے کے باوجود ایک کلمہ طیبہ کی وجہ سے باہم جڑے ہوئے تھے۔یہی دو قومی نظریہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو متحد رکھا ہوا تھا ۔ دشمن نے تاک کے اس نظریے کو نشانہ بنایا ۔نظام تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی ۔ہندو اساتذہ کو مطالعہ پاکستان اور اسلامیات پڑھانے میں اپنی من مانی کرنے کے مواقع ملتے رہے اور انھوں نے علاقائ و لسانی تعصبات کو بھی خوب ابھارا اور نظریہء اسلام پر کاری ضرب لگائی۔مشرقی پاکستان کے لوگ سادہ اور دین دار تھے ۔

قیام پاکستان کے بعد پٹ سن کی پیداوار سے ملکی معیشت کو کڑے وقت میں بہت سہارا ملا تھا لیکن عوام کے احساس محرومی ،سماجی اور معاشی ناانصافی جیسے مسائل کو حل نہ کیا گیا ۔ مغربی پاکستان کے حکمران اور اسٹیبلشمنٹ نے خود کو بالاتر سمجھا اور ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا جس سے فاصلے مزید بڑھنے لگے۔پیپلز پارٹی کے سربراہ بھٹو کا یہ نعرہ “ادھر تم ،ادھر ہم “اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔سیاست دانوں نے وطن کو اپنی انا اور مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ۔1971 ء کے الیکشن میں مجیب الرحمن نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن فوجی حکمران جنرل یحیی’ خان نے انھیں اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا۔اس سے علیحدگی پسند تحریک زور پکڑنے لگی۔ ہر کوئ اپنے فرائض سے غافل نظر آتا تھا۔

وہی کارواں وہی راستے ، وہی زندگی وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں ،کبھی تم نہیں !

اور بالآخر بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد کو عبور کرکے مشرقی پاکستان میں داخل ہوگئ اور مقامی کشمکش، پاک بھارت جنگ میں تبدیل ہوگئی ۔بھارت کے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل مانک شا کا بیان ریکارڈ پر ہے ،”اگر بھارتی افواج مداخلت نہ کرتیں تو مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا “۔حقیقت میں مغربی پاکستان سے جو فوج مشرقی پاکستان گئ وہ بالکل تنہا تھی ،انھیں وہاں کوئی راستے بتانے والا نہ تھا۔ ان حالات میں البدر اور الشمس کے کارکنان نے وطن کی حفاظت کے عظیم مقصد کی خاطر پاک فوج کا ساتھ دیا اور آج بھی بنگلہ دیش میں پاکستان کی محبت کی پاداش میں جماعت اسلامی کی قیادت کو ماوراےء انصاف پھانسیاں دی جارہی ہیں اور پوری دنیا میں ان کے حق میں کوئ آواز اٹھانے والا موجود نہیں ہے حالانکہ تینوں ممالک کے مابین 1971ء کے بارے میں معاہدہ بھی موجود ہے۔

بیسویں صدی میں جو عالم اسلام پہ سب سے بڑی قیامت گزری وہ سقوط ڈھاکہ ہے جب لاکھوں معصوم مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ مکتی باہنی کے نام سے بھارت نے جو فورس بنائی تھی ،اس نے شہری آبادی پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے، مومن عورتوں کی آبرو ریزی کی گئ۔بھارت کل بھی پاکستان کا دشمن تھا اور آج بھی پاکستان کا دشمن ہے۔ وہی سانحہ آرمی پبلک سکول کا اصل کردار ہے ،وہی کلبھوشن جیسے جاسوسوں کے ذریعے آج بھی پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہے ۔ وہی بلوچستان میں حالات کو بگاڑ رہا ہے ۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی اور سفارتی معاملات وطن کی عزت و وقار کو مدنظر رکھ کر بنانے چاہئیں ۔ اگر بھارت پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کر رہا ہے تو پاکستان کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔
یہ وطن اسلامی نظام کو اپنانے اور اس پر عملدرآمد کر کے دکھانے کے لئے بنایا گیا تھا اور ہماری ریاست آئین کی رو سے اس کی پابند ہے کہ وہ نظام تعلیم، نظام عدالت ، نظام معیشت سمیت ہر شعبہ زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق چلائے ۔

اسی اسلامک آئیڈیالوجی پر قومی یکجہتی و اتحاد کا دارومدار ہے اور یہی اسلامی نظام پاکستان کو عالمی سطح پر باوقار مقام دلا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے مقتدر طبقات سنجیدگی سے حالات حاضرہ کا تجزیہ کر کے وطن کی سلامتی و استحکام کو درپیش خطرات کا جائزہ لیں اور اپنی شہ رگ کشمیر کو دشمن کے شکنجے سے چھڑانے کے لئے کوئ لائحہ عمل تیار کریں۔اگر ترکی اس وقت عالم اسلام میں نمایاں مقام رکھتا ہے تو اس کی بنیاد اس کی غیرت و حمیت پہ مبنی حکمت عملی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اس نے شام کے مسلمانوں کو پناہ دی ہے بلکہ آذربائیجان کو فوجی مداخلت کر کے آرمینیا سے آزاد کروایا ہے۔

صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب !

اپنا تبصرہ بھیجیں