سولہ دسمبر کی شام غریباں – افشاں نوید




اب تو سقوط ڈھاکہ کا غم منانے والے بھی چند ہی بچے ہیں ۔ سانحے افراد کی زندگی میں بھی ہوتے ہیں اور قوموں کی زندگی میں بھی۔مگر زندہ قومیں یوں اپنے حافظے سے نہیں کھرچ دیتیں ان اسباق کو ۔ اور اگر بھلاتی ہیں تو تاریخ کے کوڑے دان بھی بہت سی قوموں کی پناہ گاہ ہے۔

جسم کا کوئی حصہ جدا ہوتا ہے تو درد تو ہوتا ہے ۔ وہ درد جو آہ بن جاتا ہے، آنسو بن کے چھلک جاتاہے ، قطرہ قطرہ دل میں اترتا ہے تو دل کا عارضہ بن جاتا ہے ، اعصاب شکن ہوتا ہے ، کمر دہری کردیتا ہے ۔ جسم پر اگر درد اثر نہ کرے تو ہم اسے مفلوج جسم کہتے ہیں ۔ تاریخ مفلوج حافظوں کے کباڑھ خانوں میں نہیں گھستی ۔ ہم نے حافظے سے مٹادیا ، نہ اس درد پر اس کے شایان شان شاعری کی گئ،نہ وہ ادب تخلیق کیا گیا،نہ اس طرح مکالمہ ہوا نہ محاسبہ ۔ نہ درسی کتابوں میں اس طرح اس کا ذکر محفوظ کیا گیا ۔جیسے مذھبی شخصیات کے عرس منا کر انکے مرید انکو سالانہ خراج پیش کردیتے ہیں ہم بھی سولہ دسمبر کی شام غریباں کے بعد سوچتے ہیں کہ اگلے برس بچے تو پھر یہی نوحے ہونگے ۔

کیا کیا ہم نے اپنوں کے ساتھ !ک یوں ہوئے ہم سازشوں کا شکار ! کیوں نہیں پڑھ سکے نوشتہ دیوار!کیوں کمزور سمجھا دشمن کو!کیوں نہیں دیا اقتدار محب وطن لوگوں کو!نظریہ پاکستان کی قدر کیوں نہ پہچانی!جو وطن کے غدار تھے ان کے نام کی یونیورسٹیاں بھی ہیں اس دیس میں اور ایئرپورٹ بھی۔۔بنگلہ دیش میں جو البدر الشمس سے تعلق کے جرم میں پھندوں پر جھول رہے ہیں ہمارے پاس لفظوں کا بھی قحط ہے ان سے اظہار ہمدردی کے لیے۔اپنوں اور بے گانوں میں کیوں خط تفریق نہ کھینچ سکے!مشرقی پاکستان تو چھن گیا مگر بنگلہ دیش بھی آزاد نہ ہوسکا کہ بھائی بھائی کا غم خوار ہی ہوتا۔بھائی تو دشمن کا دوست ہے۔دشمن کے دوست کو بھی گلے نہیں لگا سکتے۔

آج پھر اسٹیج سجے ہیں، اقتدار کی ہما سر پر بیٹھنے کے جو منتظر ہیں وہ حب الوطنی کے صرف دعوے دارایک بازو کٹا کر بھی ہم سفارت کاری میں ناکام،خارجہ پالیسی فلاپپھر دشمن کو کمزور سمجھے بیٹھے ہیں۔جس نظریہ کی بناء پر دیس حاصل کیا تھا اس نظریہ کی آبیاری نہ تعلیمی ادارہ کرتا ہے،نہ میڈیا،نہ والدین کو فرصت۔یہ قوم ترکیب میں بہت خاص ہے۔یہ قوم نظریہ سے بنی تھی،نظریہ سے رشتہ کمزور ہوا تو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ دیکھا۔آج کیا کررہے ہیں اس نظریے کی آبیاری کے لیے ہم ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں