Home » کوئی پیمانہ کہاں درد میرا ناپے گا- خیر النساء بٹ
پاکستان

کوئی پیمانہ کہاں درد میرا ناپے گا- خیر النساء بٹ

کوئی پیمانہ کہاں درد میرا ناپے گا
عرصہ ظلم تو منت کش تقویم نہیں
ہاں مگر اس سے زیادہ نہ بڑھی
اس سے لمبی نہ ہوئی ظلم کی تاریخ کبھی

1947ء میں تقسیم ہندوستان کے برطانوی منصوبے کے تحت وہ علاقے جہاں مسلم اکثریت تھی وہ مسلمانوں کے لئے مخصوص ہوئے جبکہ ہندو اکثریت والے علاقے بھارت میں شامل کر دیئے گئے۔ لیکن ہندو راجہ نے اپنی مکارانہ سازشوں کے ذریعے انگریزوں کے ساتھ ریاست کشمیر کا سودا کر لیا۔ اس وقت کشمیر میں 80% آبادی مسلمانوں کی تھی۔ مسلمانان کشمیر ہندو بنیے کے اس غاصبانہ قدم پر اقوام متحدہ میں گئے۔ اقوام متحدہ کے کہنے پر کشمیر میں رائے سازی کروائی گئی۔ کشمیری عوام نے ریفرینڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا جس کو بھارت نے مسترد کر دیا۔ کشمیری عوام تن و تنہاہ 75 برس سے اپنی آزادی کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں گئی۔کوئی عالمی قوت ان کو ان کا حق دلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ایک طرف کشمیری مسلمان دہائیوں پہ دہائیاں گزر جانے کے باوجود استقامت کا پہاڑ بنے کھڑے ہیں۔ ان کی داستان حریت نڈر کشمیریوں کی شجاعت اور جرأت مندی کی بے مثال تصویر ہے۔ اب تک کئی نسلیں اپنی جان، مال کا نذرانہ پیش کر چکی ہیں۔ ہندو بنیے کی سفاکیت اور درندگی ایمان و یقین کی دولت سے لبریز کشمیریوں کو اپنی جدوجہد سے دور نہ کر سکی۔ یہ بھارت کی خام خیالی ہے کہ وہ تشدد و جبریت کے ذریعے اپنے ناپاک عزائم کو پا سکتا ہے۔ اتنی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی اس کا کوئی بھی حربہ اس سرفروش قوم کو بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ سکا۔

جبکہ دوسری طرف پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی اس مسئلے کی سنجیدگی اور پیچیدگی کو محسوس ہی نہیں کیا۔ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل اسی میں ہے کہ پاکستان کے حکمران ہندو بنیے سے تعلقات استوار کرنے کے بجائے کشمیریوں کو ان کا حق دلوائیں۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے اس فرض سے فرار حاصل کرتے رہے تو روز قیامت لاکھوں کشمیری ان کا گریبان پکڑے کھڑے ہوں گے۔ وہ روز محشر اتنی جانوں کا حساب کہاں سے دیں گے؟ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جس نے ایک انسانی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائیثں اور جس نے ایک انسان کو ختم کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ نجانے اسلام کے علمبردار حکمرانوں کی یہ بے حسی اور خاموشی کب ختم ہو گی۔

کشمیر کی بہنیں آج بھی ابن قاسم کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ بے بس ضرور ہیں مگر مایوس نہیں ہیں بلکہ منتظر ہیں کسی مسیحا کی کہ وہ آئے اور ان کو ظلم کی اس چکی سے نجات دلوائے جو بہت طویل ہو چکی ہے۔ ان کے دلوں میں اسلام اور پاکستان کی محبت کا سمندر آج بھی اسی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ آج بھی کشمیری مائیں شجاعت کی تصویر بنی اپنے جگر پاروں کو تحریک حریت کے لئے تیار کر مری ہیں۔ کشمیری بچے ازادی کے نغمے سنتے اور حریت کے خواب دیکھتے ہوئے جواں ہوتے ہیں۔

حقوق انسانی اور امن و سلامتی کے عالمی اداروں کو چاہئے کہ اس نازک معاملہ کو سنجیدگی سے حل کریں۔ مظلوم مسلمانوں کو ان کا حق دلوایا جائے۔برسوں سے جاری خاک اور خون کے اس کھیل کو بند کروایا جائے۔ جانوروں کے حقوق پر بات کرنے والے گاجر مولی کی طرح کٹتے انسانوں کے حق میں بھی کوئی آواز بلند کریں تا کہ کشمیر کی سر زمین بھی سکھ کا سانس لے سکے۔اوراس کے بے یارو مدد گار باشندوں کا اذیت ناک سفر اختتام پزیر ہو۔
توڑ اس دست جفاکش کو یا رب جس نے
روح آزادی کشمیر کو پامال کیا !