Home » اے قائد تجھے سلام -ڈاکٹر فائزہ امجد
پاکستان

اے قائد تجھے سلام -ڈاکٹر فائزہ امجد

امی جان۔۔۔۔
امی جان۔۔۔۔
انوشے ہمیشہ ہی شور کرتی ہوئی اسکول سے گھر داخل ہوتی تھی۔اسکی امی اسے ہمیشہ سمجھاتی تھیں کہ گھر میں داخل ہونے کی دعا پڑھ کے ساتھ سلام کر کے مجھے پکارا کرو۔

چار دن اس بات کا اثر ہوتا تھا۔اسکی یہ عادت کہ جب اسکول میں کوئ غیر معمولی واقعہ ہوتا یا کوئی اہم معلومات ہوتیں جو اسے اسکول سے ذہنی طور پر مطمئن نہ کر سکی ہو تی تو اسکے نتیجے میں اسکے ذہن میں کوئ سوال ہی ہوتا تھا جو وہ جلد از جلد امی سے پوچھ کر مطمئن ہونے کو بے قرار ہوتی تھی۔امی بھی اس کو وہ بات بہت اچھے سے نا صرف سمجھاتی تھیں بلکہ اس سے تبصرہ بھی کرواتی تھیں تاکہ وہ اس نقطے کو اچھے سے سمجھ جائے۔مما بھی بچوں سے باقاعدہ اہم واقعات کے بارے میں بحث و مباحثہ کو ضروری سمجھتی تھیں کہ بچے خالی خولی نصابی کتابوں پر ہی نہ چلتے رہیں۔اس لیئے یہ کوئ نئ بات نہ تھی۔۔۔۔۔

انوشےکہنے کو تو عمر کے دسویں حصے میں تھی اور پنجم جماعت کی طالبہ تھی لیکن یہ عادت اسکی گھٹی میں ڈال دی گئ تھی کہ بات کو غور سے سننا اور اس میں سے نقطوں کو سمجھنا پوچھنا۔۔۔امی کو پتا چل چکا تھا کہ کوئ اہم بات ہے جو مجھے بتانے کو بے چین ہے اسی لیئے بولیں میں آپ کی ہر بات سنوں گی۔ لیکن یونیفارم بدل کر اور فریش ہو کر میز پر پہنچنے کے بعد کھانے کی میز پر بات کرتے ہیں۔مما کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھولتے ہوئے سوری بول کر وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی تو عمر نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔

کھانے کی میز پر آتے ہی انوشے نے مماکو اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے سکول میں 23 مارچ کے حوالے سے ایک پروگرام کروایا جا رہا ہے اور اس میں نا صرف تقاریر ہونگی بلکہ ملی نغمے اور ڈرامے بھی ہوں گے۔میری ٹیچر نے مجھے تقریر کے لیئے موضوع بھی دیا ہے۔”اسلامی ریاست کی ضرورت کیوں؟”مما مجھے 23 مارچ1940 کے اجلاس کے بارے میں پتا ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیوں ایک الگ ریاست بنائ گئ۔میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ الگ ملک نہ حاصل کرتے تو شاید بہت آگے ہوتے۔انوشے بیٹا آپ کو 23 مارچ کے بارے اور کیا پتا ہے؟مجھے بتائیے۔یہ کہ اجلاس بہت ہی بڑا تھا اقبال پارک لاہور میں منعقد ہوا تھا۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں آج مینار پاکستان ہے۔اور یہ اجلاس قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں 23 مارچ 1940 میں منعقد ہوا۔عمر نے جلدی سے لقمہ دیتے ہوئے بتایا۔۔
امی یہ اجلاس کیا ہوتا ہے؟
بیٹا افراد کے ایک بہت بڑے گروہ جس کا نصب العین ایک ہو اور وہ ایک مقصد کے حصول کی جدوجہد کے لیئے ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر اپنے حق کے لیئے آواز بلند کریں۔جیسا کہ اس دن قائد کی راہنمائی میں اجلاس ہوا۔
مما وہ کیوں الگ ریاست چاہتے تھے؟ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
دراصل برصغیر پاک و ہند میں دو بہت بڑی قومیں آباد تھیں۔امی آغاز میں ہی سوال کر ڈالا۔

آپ بتاو وہ کون کون سی قومیں تھیں؟
دونوں نے یک زبان ہو کر بولا مسلمان اور ہندو۔دادا جان تو ہمیں بہت سی کہانیاں سناتے ہیں۔
تو بیٹا یہ دونوں قومیں صدیوں سے اکٹھی رہ رہی تھیں لیکن دونوں کے مذاہب مختلف،زبانیں مختلف،تہذیب مختلف،رہن سہن غرض سوچوں کے دھارے تک ایک دوسرے سے جدا جدا تھے۔یہاں دیکھیئے کہ مسلمان گائے کا گوشت کھاتے اور وہ گائے کی پوجا کرتے۔تو کیا یہ دونوں اکٹھے رہ کر ایک فلاحی ریاست بن سکتے تھے جہاں اتنا بڑا تضاد ہو؟یہاں کوئ حکومت انکے لیے مشترکہ قانون سازی سرے سے ہی کر ہی نہ سکتی تھی۔اگرچہ انگریز دونوں پر حکمران تھےاور جو ہر لحاظ سے مناسب نہیں تھا۔

امی وہ صدیوں سے رہ تو رہے تھے پھر کیوں ان کو جدا کرنا ضروری تھا؟آپ اپنی سوچ کو ذرا اور وسیع کرو اور سوچو جنکے مذاہب مختلف ہوں۔مسلمان ایک خدا کو ماننے والے اور ہندو کئ خداؤں کی پوجا کرنے والے۔مذہب ہی تو ایک بڑا ذریعہ معاشرت بنتا ہے تو اسی سے اختلافات ہوتے تو انگریزی حکومت کی ساری حمایتیں ہندوں کے ساتھ ہوتیں تھیں۔مسلمان تو ہر میدان میں تعلیمی میدان ہو یا کاروباری میدان یا ملازمتوں کی بات کی جائے یا حکومتی سطح کی ہو ہر میدان میں سب سے نچلے درجے پر رکھے جاتے تھے۔ان میں ہماری اپنی کوتاہیاں بھی شامل تھیں۔یہ تو بھلا ہوجائے عظیم راہنماؤں کا سر سید احمد خان،مولانا شوکت علی خان علامہ اقبال اور محمد علی جناح جیسے دوراندیش رہنماوں کے زیر شاہنامہ افراد تک یہ نظریہ پہنچایا گیا ان کو بتایا گیا کہ اس طرح تو برصغیر میں دب کر ختم ہی ہو جائے گے۔الگ اسلامی ریاست کا بننا کتنا ناگزیر تھا۔

1930 میں علامہ اقبال نے جو الگ وطن حاصل کرنے کا جو تصور دیا اس کو ہمارے رہنماوں نے مسلم لیگ(جماعت کا نام) کے پلیٹ فارم سے برصغیر پاک و ہند کے کونے کونے میں افراد تک کو سمجھایا ان کو ایک نصب العین پر اکٹھا کیا۔۔گھر گھر خواتین کو ایک نظریہ کا حامی بنانا بہت کٹھن کام تھا جو کہ رہنماوں نے سر انجام دیا۔
اچھایعنی یہ تو ایسا ہے کہ امی مسلمان ہوتی اور بابا ہندو تو دونوں مجھے عمر اور عفان کو اپنےاپنے دین کے مطابق چلانے کے لئے کھینچا تانی کرتے تو گھر میں نہ نظم وضبط رہتا اور نہ اتفاق و اتحاد بلکہ ایک انتشار کی سی کیفیت ہوتی۔انوشے جذباتی انداز میں بولی۔

جی بیٹا آپ نے اس مختصر سی معلومات سے بالکل صحیح بات سمجھی۔تو آپ نے بتایا اقبال پارک میں جہاں آج مینار پاکستان واقع ہے وہاں تو الگ ریاست کے مطالبے کھلے عام بے خوف و خطر قائداعظم کی صدارت میں حکومت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔یہی وہ خواب تھا جسے علامہ اقبال نے الہ آباد میں 1930 کو پیش کیا تھا اور اسی مطالبہ کو14 اگست 1947 کو قائد نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔۔آج مجھے سمجھ آئ کہ یہ پاکستان اتنی مشکلات اور کٹھن راہوں سے کنکریا چن چن کر حاصل کیا گیا تھا۔۔۔۔

انوشے اور عمر ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے قائد تجھے سلام۔۔۔
پاکستان زندہ باد کا نعرہ کھانے کی میز سے ابھرا۔۔

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。