Home » ہم ہیں پاسباں اسکے – ریطہ طارق
پاکستان

ہم ہیں پاسباں اسکے – ریطہ طارق

فہد جھنڈیوں پہ جھنڈیاں لگائے جارہا تھا. سارے صحن میں اسکے کے ساتھ جھنڈیاں ہی جھنڈیاں تھیں. داداجان اسکو ڈھونڈتے ڈھونڈتے صحن تک پہنچے تو ہانپ ہی گئے. بوڑھی ٹانگیں اب ایک قدم چلنے پر بھی احتجاج کرتی تھیں۔وہ ساری جھنڈیوں کو صحن کے جغرافیے کے حساب سے ترتیب دے کر ایک کے بعد ایک لگا رہا تھا.

تین دن سے تواتر اس سلسلے نے پورے گھر والوں کو مصروف رکھا ہوا تھا. کبھی امی سے جھنڈیوں کے لیے آٹے کی لئی سی بنواتا کہ جھنڈیوں کو دھاگے سے لپیٹ سکے. کبھی بڑے بھیا سے جھنڈیاں ناکافی ہونے کی شکایت کرتا اور مزید لانے کی ضد بھی کرتا. ابو سے الگ اسرار ہوتا صحن میں جھنڈیوں کے کیلیں ٹھونکنے کا۔ یہ ساری داستان گویا تین دن سے چل رہی تھی. دادا جان سے ابھی تک اخلاقی، اقتصادی و مالی ضرورت پیش نہ آئی تھی۔ دادا جان اس تیز ہوتی جدوجہد کو دیکھتے رہتے اور کبھی ایک آدھ دفعہ نماز کے لیے بھی پوچھ کیا کرتے. کبھی کسی وقت اسکو سورت یاد کرنے کا کہتے اور وہ ٹال مٹول کرکے پھر وہی جھنڈیوں کی سجاوٹ میں مشغول ہوجاتا۔ فہد کے دوست بھی شام ہونے سے پہلے صحن میں مجمع لگا لیتے. یوں گھر کی سرگرمیاں کافی دلچسپ تھیں. مگر دادا جان کسی گہری سوچ میں منحمق تھے،اسی گہری نظر سے اسے دیکھتے رہتے۔

آج تو ان کے دل مضطرب کا پیمانہ انکی قابو میں نہیں رہا تھا. سو وہ صحن میں جیسے تیسے ہی پہنچے. صحن بھی کیا تھا فہد کے بابا نے اپنی خواہش کے مطابق وسیع و عریض رقبے پر صحن کے چار طرف آم، کھجور، پپیتے اور جامن کے درخت لگا رکھے تھے. پھر ایک طرف مرغیوں کا بڑا سا پنجرہ تھا. جسکی پیمائش کی جائے تو کمرہ نما ہی ہو. ایک طرف خوبصورت پھولوں کی نرسری تھی جس پر فہد کی امی اپنی نگرانی میں اپنے ہاتھوں سے دیکھ بھال کرتی تھیں. پپیتے کے پیڑ کے ایک طرف پنجرے میں طوطے فہد کے بڑے بھائی بدر نے رکھے ہوئے تھے۔ سب کے شوق کے ساتھ ایک طرف تخت بھی تھا،جس پر دادا جان تلاوت کرکے اپنے دن کا آغاز کرتے۔ دادا جان نے فہد کو مصروف دیکھا تو اسکو اپنی طرف مخاطب کرکے پوچھا
“بیٹا فہد!! یہ جھنڈیاں کیوں لگارہے ہو”؟
فہد اپنے کام میں مصروف تھا. سرسری نظر ڈالکر جواب دیا،
“دادا جان،14 اگست پر یہی تو کرتے ہیں”۔

داداجان مسکرائے،پھر کہنے لگے.
“اچھا فہد یہ بتاو کہ ہمارے ملک کو 14 اگست میں جھنڈیاں لگا کر کیا حاصل ہوگا؟” فہد تعجب سے دیکھنے لگا،
“دادا جان!خوشی ملے گی، پاکستان کی celebration ہوگی.”
‘اچھی بات ہے. ہمیں اچھا لگے گا مگر ہم کو کیا ایسا کرنا چاہیئے،جس سے ہم اپنے ملک کے لیے ایک اچھے شہری ہوکر اسکو فائدہ پہنچائیں؟”
دادا جان کے سوال پر اسکے ماتھے پہ سوالات کی لکیریں ابھرنے لگیں۔

“دادا جان، مجھے اپنے ملک سے محبت ہے،میں اسکا پر چم لگاتا ہوں اور جھنڈیاں لگاکر بتاتا ہوں کہ میں اپنے وطن سے محبت کرتا ہوں” وہ ایک سانس میں بول کر اپنی بیزاریت کا گویا اظہار کررہا تھا۔
دادا جان نے اسکے قریب ہوتے ہوئے دھیمے سے کہا”فہد!پتہ ہے،پاکستان کو جھنڈیاں لگانے والے بچوں کی ضرورت نہیں ہے. وہ بچے جو نماز نہیں پڑھتے. اپنا دل پڑھنے میں نہیں لگاتے تو پاکستان کہتا ہے. مجھے ایسے بچوں کی ضرورت نہیں ہے. میں تو اچھے نیک لوگوں کا گھر ہوں جو اللہ کی عبادت اور اللہ کے بندوں کی خدمت کرتے ہیں،جو اپنے ہر کام ذمہ داری سے کرتے ہیں.”

“تو دادا جان، جھنڈیاں لگانے سے پاکستان خوش نہیں ہوتا؟اسکے معصوم سوال پر دادا جان نے قہقہہ لگایا اور بولے،
“پاکستان ہم سے ہماری پہچان مانگ رہا ہے،وہ کہتا ہے کہ مجھے کلمے کے لیے بنایا گیا. پہلے کلمے پر عمل کرو . اذان ہو تو مسجد جاو، تلاوت کرو، اپنے ماں باپ کے ساتھ ہاتھ بٹاو، اچھی طرح پڑھائی کرو، غریبوں کی مدد کرو، اپنے پیسے سے لوگوں کی خدمت کرو اور۔۔۔۔۔”
فہد نے بغور دیکھ کر کہا، “اور؟؟؟”
“اور جب کچرا دیکھو تو اسکو زمین پر نہ پھینکو،ادب سے بات کرو، اپنے ٹیچر کا احترام کرو”
“لیکن دادا جان،ہمارے ملک میں تو کوئی بھی ایسا نہیں”
دادا جان نے کہا”جب ہم ایک ایک کرکے ایسے بنیں گے تو قطرہ قطرہ سمندر بن جائے گا.”
“دیکھو اب کل بھی تمہیں امی نے آواز دی نماز کے لیے مگر تم اپنی جھنڈیوں میں لگے رہے. پاکستان کہتا ہے کہ اگر تمہیں میرا پاسبان بننا ہے تو مجھے اللہ سےمحبت کرنے والے بچوں کی ضرورت ہے. جھنڈیاں لگا کر نماز بھول جانے والے بچے کیسے وطن کے پاسبان بن سکتے ہیں؟ پھر وہ شیطان کے ہی پاسبان بنیں گے.”

فہد نے ہنس کر دیکھا اور بولا،”اچھا دادا جان،میں جاتا ہوں نماز پڑھنے.”
“ارے!کہاں جارہے ہو؟”، دادا جان اسکی طرف لپکے
“دادا جان مسجد.” داداجان نے ہنس کر دیکھا اور کہا،
“بھئی وہ جو تمہارے دوست ہیں۔۔۔۔۔زبیر،شبیر اور۔۔۔۔۔”
“اور ذیشان” ، فہد نے انکا جملہ مکمل کیا تھا.
“بھئی انکو بھی لے جاو،اگر وہ بہانا کریں تو کہنا پاکستان نے کہا ہے. پاکستان کی بات تو ماننی پڑے گی …. آخر پاکستان کی سالگرہ ہے،اب اسکی فرمائش چلے گی.”

پھر دونوں پوتے اور دادا کے قہقہوں سے صحن کے در و دیوار بھی جا بجا ہنسنے لگے.

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。