Home » مجھے ایسا پاکستان چاہئیے – طوبیٰ بنت فاروق
پاکستان

مجھے ایسا پاکستان چاہئیے – طوبیٰ بنت فاروق

“ارے یہ کیا ؟ خیریت ہے؟ سب لوگ بلکہ پوری گلی کے مرد کہاں جارہے ہیں؟”، میں نے صبح سویرے کھڑکی سے باہر جھانکا تو بے اختیار منہ سے نکلا۔ کھڑکی سے ہٹ کر وضو کیا اور نماز کو چلا تو معلوم ہوا یہ سب مسجد جارہے ہیں ۔
“اللہ خیر کرے کس کا انتقال ہوا ہے؟” میں سوچنے لگا کوئی جنازہ بھی نظر نہ آرہا تھا.

خیر امام صاحب نے جماعت کروائی ۔ شروع صف سے مسجد کے آخری کونے تک نمازی تھے لیکن بہت پرسکون ماحول۔ نماز کے بعد کچھ دیر درس حدیث ہوا اس میں بھی سب نے شرکت کی۔ میں حیرت سے سب کو دیکھ رہا تھا اور تعجب یہ کہ کسی نے میری حیرت محسوس نہ کی۔ محلے کے سبھی مرد کیا بچے، کیا نوجوان، کیا جوان، کیا بوڑھے سبھی موجود تھے خیر نماز کے بعد روانگی ہوئی۔ وہ تو اچھا ہوا میں نے کسی سے پوچھا نہیں تھا کہ آخر سب جمع کیوں ہیں ورنہ سب کی ہوجاتی۔
“واپس ہوا تو! ارے کل رات تو بارش ہوئی ہے ناں لیکن پھر بھی اتنا صاف ستھرا رستہ۔ نہ کہیں پانی جمع ہے نہ کہیں گندگی کا ڈھیر نہ ہی کیچڑ….!”
مسجد جاتے ہوئے تو اس مخمصے میں تھا کہ سب کیوں جمع ہیں تو رستہ پہ غور نہ کیا تھا لیکن۔ خیر گھر میں داخل ہوا سلام کیا۔ خلاف معمول سب گھر والوں کے جواب کی آواز آئی ۔ مطلب سب نماز کے لئے جاگے ہوئے تھے۔ امی ابو تو اٹھتے ہی تھے پر چھوٹی بہن بھی جاگ رہی تھی، جاء نماز طے کر کے قرآن پاک کھول کر بیٹھ گئی ۔

“واہ!” میں نے اسے دیکھا پر اس کی نظریں قرآن پاک پر تھیں۔ میں بھی سورہ یسین پڑھنے بیٹھ گیا۔ پڑھائی کے بعد ناشتہ کیا گیا بہت خوشگوار ماحول میں ورنہ روز تو چھوٹے بہن بھائیوں کے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے۔ اور تو اور ابو بھی بنا اعتراض کئے خاموشی سے ناشتہ کررہے تھے ۔
میں ناشتے کے بعد اٹھ گیا اور آفس جانے کی تیاری کرنے لگا. کمرے میں سب کچھ سمٹا ہوا تھا حالانکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں جب سویا تو کمرے کی حالت ابتر تھی اور ارادہ یہی تھا کہ صبح پانچ منٹ میں سب صحیح کردوں گا لیکن۔۔۔۔! میرے پاس حیران ہونے کا وقت ہوتا تو ضرور ہوتا لیکن ٹریفک کی وجہ سے میں دس نہیں تو پانچ منٹ پہلے ضرور نکل جایا کرتا تھا۔ تیار ہوکر باہر آیا تو میرا تیار شدہ ٹفن اور پانی کی بوتل ایک طرف میرا انتظار کررہے تھے۔ اب کیا بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ بھی خلاف معمول تھا۔ ٹفن اور بوتل کی شاپر اٹھائے اللہ حافظ کہہ کر باہر اگیا۔

“السلام علیکم بھائی!” عقب سے آواز آئی، مر کر دیکھا تو برابر والا بچہ سکول یونیفارم میں وین کے لئے کھڑا تھا۔ یہاں مجھے دو باتوں پہ حیرت ہوئی اول یہ کہ اس نے مجھے سلام کیا جب کہ ہماری گلی کا ہر بچہ اگلے سے بڑا بدتمیز مانا جاتا ہے سلام تو دور کی بات کچھ پوچھ بھی لو تو جواب نہیں ملتا ۔ اور دوسری حیرت اس بات پر کہ وہ آج وین سے پہلے کیسے کھڑا تھا جبکہ اس کے وین ہارن کی آواز تو کافی دیر تک گلی میں گونجتی ہے اور اندر سے اس کی آواز کہ بس انکل دو منٹ اور..
خیر سلام کا جواب دے کر اپنی پھٹ پھٹی ۔ معاف کیجئے موٹر سائیکل پر سوار ہوا۔ اور آگے بڑھادی۔
سارے رستے سیدھی (بغیر کھڈوں کے) سڑک صاف ستھرا رستہ دیکھ کر حیران ہوتا دفتر پہنچا تو اپنے کولیگ سے سامنا ہوگیا جو میٹنگ روم کی طرف جارہا تھا۔ اب بندہ پوچھے کہ یہ بندہ جو دفتر کے اوقات سے پندرہ منٹ بعد پہنچنا اپنا فرض سمجھتا ہو وہ آج مجھ سے پہلے دفتر میں؟

سلام دعا ہوئی تو معلوم ہوا آج سب اسٹاف کی میٹنگ ہے اور وقت پر پہنچنے کی تلقین بھی ہے. اس بات پہ تو مجھے ہنسی ہی آگئی لیکن نہ جانے کیوں وہ نظر انداز کر گیا۔ میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تو معلوم ہوا کہ آج میں بھی وقت سے پہلے دفتر میں موجود ہوں یاد آیا آج تو ٹریفک ملا ہی نہیں نہ کسی ٹریفک کے بندے میرا مطلب ٹریفک پولیس اہلکار نے روکا نہ کسی موٹر سائیکل یا کار والے سے نوک جھوک ہوئی تو جلدی پہنچنا تو بنتا تھا۔ میٹنگ روم میں پہنچ کر تو میں غش کھانے کو تھا پورا اسٹاف نشستوں پر براجمان تھا اور مینیجر صاحب اپنی نشست پر میں نے جلدی سے سیٹ سنبھالی۔ بیس منٹ کی میٹنگ ٹھیک بیس منٹ بعد ختم ہوئی۔ سب اٹھ گئے اور میں جو چائے ریفریشمنٹ کے انتظار میں تھا سر کھجاتا اٹھ کر اپنے کیبن میں آگیا ۔ آج تو کام میں بھی مزہ آیا چائے لنچ بھی اپنے وقت پر ہوا اور وقت پر واپسی۔
اب گھر جاتے ہوئے سوچ رہا تھا….. آج شاید امی نے کچھ منگوایا ہو۔ ہاں اس روز چکن منگوائی تھی جو میں لانا بھول گیا تھا. مرغی کی دکان کی راہ لی۔ دکان پر پہنچا یقین مانیں دکان پر ایک مکھی تک نہ تھی.

دکان دار بھی صاف نہایا دھویا بیٹھا تھا۔ مجھے سلام بھی کیا خیریت دریافت کی۔ پھر پوچھا جی صاحب کتنا گوشت؟ میں اس کو بتانا چاہتا تھا کہ ایک مرغی زندہ تول کر ذبح کرو پر یہ کیا اس نے مجھ پر پانی کیوں پھینکا؟ نہیں اس نے نہیں پھینکا وہ تو اندر مرغی لینے گیا تھا۔ پھر کیا بارش ہوئی ہے؟ میں نے آنکھیں میچیں توآنکھیں کھل گئیں۔ گڈو کھڑا تھا ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل لئے۔
“بھائی جان مرغی ذبح ہوگئی ہو تو اٹھ کر مجھےاور گڑیا کو سکول چھوڑ آئیں ہماری وین نکل گئی ہے۔” وہ معصومیت سے کہہ رہا تھا اور میں پانی میں بھیگا اتنا خوبصورت خواب ٹوٹ جانے ۔۔۔۔۔
“اوہ تو یہ خواب تھا…..”، میرے منہ سے نکلا۔ ہاں جی موصوف رات کو نیا پاکستان ناول لکھتے لکھتے سوگئے اور اب اپنے نئے پاکستان میں مرغی خرید رہے تھے. کھی کھی کھی۔۔۔ گڈو اور گڑیا دونوں ہنسنے لگے پھر مجھے بستر سے اٹھتا دیکھ کر دروازے کی طرف دوڑے۔ بھائی جان مرغی کا گوشت میں لے آیا تھا آپ دکان والے کو منع کر دیں کہیں وہ تول نہ دے۔

جاتے جاتے گڈو کا جملہ مجھے شرمندہ کر گیا کہ یہ ہر دفعہ کی کہانی تھی مجھ سے منگوایا گیا سودا آخر کو اسے ہی لانا پڑتا تھا ۔
چلو جی خواب توپورا ہوا اور اپنی مرضی کا پاکستان بھی گھوم لیا اور وقت۔ ارے باپ رے۔۔۔ آج تو میٹنگ تھی اور میرے دفتر کا وقت شروع ہوئے پانچ منٹ گزر چکے تھے۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。