Home » آزادی کا جشن – ناہید خان
پاکستان

آزادی کا جشن – ناہید خان

اس سال ہم پاکستانی اپنا 75 واں یوم آزادی ہمیشہ کی طرح نہایت جوش وجزبے سے منائیں گے. ہر طرف چاند تارے والے جھنڈوں کی بہار ہوگی. نوجوان نسل سرتاپا جھنڈوں کے ملبوس پہن کر رقص و سرور میں دھت روڈ بلاک کریں گے۔ کچھ منچلے ہوائی فائرنگ کے ذریعے خوشی کا اظہار ضروری سمجھیں گے کیونکہ گولی کی نمائش کو خوشی کا ٹریڈ مارک سمجھ لیا گیا ہے.

مزارِ قائد پر اس دن الگ ہی بہار ہوتی ہے. نۓ جوڑوں کی زندگی کی پلاننگ کے لۓ یہ آئیڈیل جگہ ہے چناچہ ایک خلقت قائدِ ملت کو اس “سہولت” پر خراج تحسین پیش کرنے کے لۓ جمع ہوگی. اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان….!!!!پڑوسی ملک بھارت میں لاکھ برائیاں کمزوریاں ہیں مگر خبر ملی ہے کہ یہ ملک دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بننے جارہا ہے اور ساتھ ہی اس یوم آزادی پر یہ اپنی مکمل الیکٹرک کار کی نمائش بھی کریں گے۔
ارے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہم بھی اپنا ایک نیا گانا ریلیز کریں گے جسے سن کر عوام اپنے جزبات قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کریں گے۔ 75 سال کم نہیں ہوتے کسی خواب کی تعبیر پانے کے لۓ کسی مقصد کے حصول کی جدوجہد کے لۓ۔ ہم اپنا جائزہ لیں کہ اس عرصے میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔ حقیقت یہ کہ کھونے کو کچھ بچا ہی نہیں۔۔اور پانے کا حال یہ کہ ہر فرد کا بال بال قرض میں جکڑا ہے۔ ہمیں رقص و سرور میں ڈبویا گیا اور ہم کسی معمول کی طرح ڈوبتے چلے گۓ ہمارے زہنوں میں ڈراموں کے زریعے وہ کلچر انڈیلا گیا جو ہمارا تھا بھی نہیں۔ ہمارے ملک میں انڈسٹریوں کی جگہ فوڈ اسٹریٹ کے انبار لگے ہیں! کسی نے کیا سچ کہا تھا “زندہ رہنے کے لۓ کھانا” مگر ہم کھانے کے لۓ جی رہے ہیں۔ کیا اسی لۓ ٹرینیں کٹی پھٹی لاشیں بھر بھر اس پاک دھرتی پر پہنچی تھیں۔۔اور اسی لۓ نعرہ لگا تھا” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ”۔

ہم عہدِ وفا تو کیا کرتے عہد شکنی کا داغ اپنے ماتھے پر سجا بیٹھے ہیں۔۔۔یہ عہد شکنی کا وبال ہی تو ہے جو گٹر، نالوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھارہے ہیں سر تسلیم خم کۓ ظالمانہ ٹیکس اور مہنگائ میں پس رہے ہیں اور ہپناٹائز ہوۓ کہیں زاتی پسند،کہیں شخصیت پرستی میں گرفتار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس دھرتی میں صلاحیتوں کی قلت ہے میرا وطن قدرتی نعمتوں اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے چاہے وہ “کارگل” کے بالائ سرد خانے ہوں یا فضا میں شہادت پانے والی مریم مختار، چاہے آئ ٹی کا شعبہ ہو یا کوئ بھی فیلڈ ہم کسی سے پیچھےنہیں ہیں تو پھر کیوں ہم نے اپنی زندگی کی ڈور دوسروں کے ہاتھ میں تھمادی ہے.

ہمیں اب بیدار ہونے کی ضرورت ہے. شخصیت پرستی کے بتوں کو توڑنے کی ضرورت ہے ،ہمیں خوش گفتاریوں کے سحر سے نکلنا ہوگا اب ہم مزید جھوٹے وعدوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ آزادی اللہ کی عظیم نعمت ہے اور بڑی قربانیوں کے بعد ہمیں حاصل ہوئ ہے۔۔۔اللہ پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور ہمیں عقل و شعور دے۔ آمین

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。