عالمی یومِ سیاحت – محمد عظیم شاہ بُخاری




اللہ تعالیٰ نے پاکِستان کو بے پناہ حُسن سے نوازا ھے۔ ٰاِس ملک کا ھر خِطہ اپنی مِثال آپ ھے۔ وطنِ عزیز میں آپ کو ھر قِسم کا لینڈ اسکیپ ملے گا۔
شمال مشرِق میں جہاں قراقرم اور ہِمالیہ کے بُلند و بالا اور حسین پہاڑی سلسلے ہیں وہیں شمال مغرب میں کوہِ ہِندوتش اپنی آن بان شان کے ساتھ ایستادہ ہے۔ جہاں ایک
طرف گِلگت کے “نانگا پربت” اور بلتستان کی “گوڈون آسٹن” کی بلندی ہے تو وہیں “راکاپوشی” کا سحر اور چِترال کی “ترچ میر” کی دِلکشی ہے۔ انہی پہاڑوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے مُختلف رنگوں کی بے شمار جھیلیں بِکھیر دی ہیں جن میں ہر ایک کی خوبصورتی اپنی مِثال آپ ہے۔ کہیں “جھیل سیف الملوک” کا سبز پانی ہے تو کہیں “ماہُوڈنڈ جھیل” کا نیلگوں اور “عطاآباد جھیل” کا زمرد کی طرح چمکتا کِنارہ۔ ایک تو بلا کا حُسن اوپر سے محنتی، پُرخلوص، خوبصورت لوگ اور رنگین ثقافت۔
مشرق میں آئیں تو پنجاب کے زرخیز میدان، لہلہاتے کھیت، سورج مُکھی کے پھول، میٹروپولیٹن شہر، بڑے بڑے دریا، صحرائے تھل، صحرائے چولِستان اور رِوایتی کھانے اور رقص آپ کا اِستقبال کرتے ہیں۔ پانچ دریاؤں کی اِس سر زمین میں آپ کو ہر رنگ مِلے گا۔ لاہور کے ذائقہ دار کھانوں اور قدیم فنِ تعمیر کا رنگ، مُلتان کے صُوفیا کا رنگ، مری اور پوٹھوہار کی پہاڑیوں کا رنگ، سیالکوٹ کی قدیم گلیوں اور شاعری کا رنگ، بہاولپور کے شاندار محلات کا رنگ، فیصل آباد کی صنعتوں کا رنگ، غرض اِس دھنک کے ہر رنگ کی اپنی خوبصورتی ہے۔
جنوب میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو “بحیرۃ عرب” کے نیلگوں ساحلوں سے نوازا ہے۔ جس کے کنارے پاکستان کی معاشی و تجارتی شہ رگ “کراچی” واقع ہے۔ کراچی، جو اپنے آپ میں لِٹل پاکِستان ہے، اپنے کھانوں، ساحِلوں، جدید فنِ تعمیر کی حامِل عمارتوں، بندرگاہوں، پارکوں اور تجارت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔مہران کا “صحرائے تھر” اپنے اندر جا بجا مختلف ثقافتی رنگ سموئے ہوئے ہے۔ جہاں ایک طرف “مکلی” کا پُرانا قبرستان ہے تو دوسری طرف ٹھٹھہ کی جامع مسجد اور “کینجھر جھیل”۔ موئنجودڑو کا قدیم ترین شہر بھی سندھ میں واقع ہے۔ ٹوپی، اجرک، سکھر کا لینس ڈاؤن برج، کوٹری و گدو بیراج، اندرونِ سندھ میں بزرگوں کے مزارات، کوٹ ڈیجی، خیرپور کے محل اور گورکھ ہِل یھاں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ جنوب کی سیاحت میں یمارے شیربلوچستان کا بھی حِصہ ہے۔ حب سے لے کر خلیج گوادر تک یہاں کا ساحل حیرت انگیز نظاروں سے بھرا ہے۔ کوہِ مکران کا “ابوالہلول” ، ہنگول نیشنل پارک، مکران کوسٹل ہائی وے اور اسٹولا کا جزیرہ اہم مقامات ہیں۔
پاکستان کے مغرب میں جنوبی پختونخواہ اور شمالی بلوچستان واقع ہیں۔ پختونخواہ کی طرف چلیں تو یہاں کی ثقافت میں بیش بہا خزانے پوشیدہ ہیں۔ لِباس سے لے کر رسم و رواج، کھانے پینے اور رقص میں شُجاعت، بے ساختگی، خالِص پن اور جاہ و جلال کا حسین اِمتزاج مِلتا ہے۔ سجی، کھڑی کباب، چپلی کباب،قہوہ، ٹماٹر کڑاہی مشہور ترین غزائیں ہیں۔۔اس خطے میں سینکڑوں درے ہیں جو پاکستان کو افغانستان سے مِلاتے ہیں۔ مشہور تریں درہ خیبر، کُرم، گامل اور ٹوچی ہیں۔ بدھ مت کی قدیم عبادت گاہوں کے کھنڈرات بھی موجود ہیں۔بلوچِستان کی طرف آ ئیں تو یہاں زیارت، پشین اور اُڑک کی وادیاں اخروٹ،آڑو ، خوبانی، چیری،سیب اور انگور کے باغات سے آپکا استقبال کرتی ہیں۔ درہ بولان، کھوجک، پیر غایب، مہرگڑھ، چِلتن ہزارگنجی پارک اہم مقامات ہیں۔
یہ تو صِرف ٹریلر تھا، اگر آپ پوری ٖفِلم سے لُطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو اپنا بیگ پیک کریں اور نِکل پڑیں اپنے ملک کی سیاحت کے لیئے۔ کیونکہ اپنے ملک میں بِکھری نعمتوں سے اِستفادہ نہ کرنا بھی کفرانِ نعمت ھوگا ۔ اللہ تعالیٰ ماکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔🇵🇰
خُدا کرے کہ میری ارٖضِ پاک پہ اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۃ زوال نہ ھو
یہاں جو بھول کِھلے وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خِزاں کو بھی کُزرنے کی مجال نہ ھو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئ مثال نہ ہو
خُدا کرے کہ نہ خم ھو سرِ وقارِ وطن
اور اِسکے حُسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں