نواب بہاولپور اور قائد اعظم




نامور کالم نگار مشتاق احمد قریشی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔متعلق ان معلومات کو عام لوگوں تک پہنچایا جائے گو کہ یہ تحریر میری نہیں ہے لیکن میرے قلم سے لکھی جا رہی ہے۔ کیا آج کی موجودہ نسل جانتی ہے کہ سر صادق محمد خان عباسی کون تھے ہمیں اپنے محسنوں کو بھولنا نہیں چاہیے۔نواب سر صادق محمد خان ریاست بہاولپور کے آخری حکمران تھے وہ ستمبر 1904ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے تھے انہیں صرف تین سال کی عمر میں ریاست بہاولپور کا نواب بنا دیا گیا تھا تحریک آزادی ہند کے موقع پر ہندو قیادت نے نواب صاحب کو ہر ہر طرح قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی ریاست کا الحاق نئی بننے والی مملکت پاکستان سے نہ کریں اسی طرح پنڈت موتی لال نہرو اور ان کے صاحبزادے جواہر لعل نہرو نے ہندوستان کی تمام مسلم ریاستوں کے حکمرانوں پر زور ڈالا لیکن نہ تو خان قلات اور نہ ہی نواب صاحب بہاولپور ان کے جھانسے میں آئے انہوں نے تحریک پاکستان کے دوران کراچی ،جو اس وقت پاکستان کا دار الحکومت تھا میں موجود اپنی جائیداد الشمس محل اور القمر محل قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی پیاری بہن محترمہ فاطمہ جناح کو
بطوررہائش دے دئیے تھے جو آج کل گورنر ہائوس کہلائے جا رہے ہیں نواب صاحب وہ واحد فرد تھے جنہوں نے پاکستانی کرنسی کی اس وقت گارنٹی دی تھی جب کوئی ملک گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھا نواب صاحب نے نہ صرف پاکستانی کرنسی کی گارنٹی دی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لئے ایک خطیر رقم بھی دی۔ بانی پاکستان قائد اعظم جب حلف اٹھانے کے لئے چلے تو نواب صاحب نے اپنی شاہی سواری قائد اعظم کو پیش کردی جس میں بیٹھ کر قائد اعظم محمد علی جناح بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھانے آئے، نواب صاحب نے یہیں بس نہیں کیا انہوں نے گورنر جنرل پاکستان کی سواری کے لئے اپنی مہنگی ترین کار رولزرائس بھی قائد اعظم کو بطور تحفہ پیش کردی تھی اور قائد اعظم کی رہائش کے لئے اپنا ذاتی محل جو کراچی میں واقع ہے وہ بھی پیش کردیا تھا ایسے ہی جب ایران کے بادشاہ پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئے تو حکومت پاکستان کے پاس ایسے برتن موجود نہیں تھے جو شہنشاہ ایران کے شایان شان ہوتے اس موقع پر بھی نواب صاحب بہاولپور جناب سر محمد صادق خان عباسی نے اپنے شاہی محل کے سونے چاندی کے برتن ایک ٹرین میں بھر کر بھیج دئیے تھے
وہ برتن بھی نواب صاحب نے کبھی واپس نہ لئے ان کی بے لوث خدمات کے صلے میں قائد اعظم نے انہیں ’’محسن پاکستان‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے بھی پاکستان ریاست بہاولپور کی صورت موجود تھا۔ ریاست بہاولپور جس میں ستلج ویلی پروجیکٹ اور بر صغیر کا سب سے بہترین نہری نظام موجود تھا جس کے باعث ریاست بہاولپور کو باغات کی سر زمین بھی کہا جاتا تھا بر صغیر ہند میں ریاست بہاولپور واحد ریاست تھی جس کی سرکاری زبان اردو تھی اور مذہب اسلام تھا۔ اس عظیم ریاست میں صادق ایجرشن کالج، صادق ڈین ہائی اسکول اور جامعہ اسلامیہ جیسے ادارے عوام کو مفت تعلیم دینے کے لئے بنائے گئے تھے یہ وہی ادارے ہیں جن سے پاکستان کے کئی نامور ادیب و شاعر پیدا ہوئے ان میں نمایاں احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، شفیق الرحمان جیسی شخصیات کے علاوہ بھی بہت سی شخصیات جو سیاست اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق تھیں نکلیں نواب صاحب نے اپنے عوام کے لئے مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے بہاول وکٹوریہ اسپتال اور سول اسپتال احمد پور شرقیہ جیسے مراکز قائم کیے جو تمام تر جدید ترین طبی سہولتوں سے آراستہ ہیں یہاں آنے والے
مریضوں کو تمام تر علاج سے لے کر دوا دارو تک کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا بلکہ آنے والے مریضوں کو وظیفہ بھی دیا جاتا تھا۔ نواب بہاولپور نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا انہوں نے ہندو لیڈر شپ کی تمام تر ترغیبات کو یکسر ٹھکرا دیا انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو اپنے عوام اور مسلمانان ہند کی خواہش اور اسلامی رشتے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے عوامی رائے اور خواہش کو ترجیح دی نواب صاحب نے 5 اکتوبر 1947ء کو اپنی ریاست بہاولپور کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا اس طرح بہاولپور پہلی ریاست تھی جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا نواب صاحب نے الحاق کے اعلان کے ساتھ ہی نئی مملکت کے اخراجات کے لئے اپنے خزانے کی منہ کھول دیے اور باون ہزار پائونڈ کی خطیر رقم عطیہ کی اور دس کروڑ روپے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لئے بھی دے جو آج کے حساب سے تقریبا پانچ ارب روپے بنے گی اس کے علاوہ نواب صاحب نے ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کے لئے ریاست کے دروازے کھول دئیے تھے اور آنے والے مہاجرین کے قیام و طعام کا بھرپور بندوبست کیا تھا (اس بات کی گواہی تو میں بھی دوں گا
جب ہمارا خاندان والد صاحب کی سربراہی میں 4 اگست 1947ء کو برٹش ائر ویز کے کارگوجہاز سے ملتان ایئر پورٹ پر اترا تو نواب بہاولپور کے نمائندے ہر آنے والے کا نا صرف استقبال کر رہے تھے انہیں ساتھ لائی ہوئی سواریوں میں بٹھا کر بہاولنگر اور اس کے قرب و جوار میں خالی پڑے مکانات اور حویلیوں میں ٹھہرا رہے تھے ان کے لئے وافر مقدار میں کھانے پینے کا سامان مہیا کر رہے تھے) نواب صاحب بڑے مخلص اور رحم دل واقع ہوئے تھے جب 1935 میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا تھا تب بھی انہوں نے متاثرین کی بھرپور امداد کی تھی۔ حکومت پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق پنجاب یونیورسٹی، ایچی سن کالج، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو بھی بیش بہا عطیات سے نوازا جو کبھی تو زمین کی صورت کبھی عمارتوں کی صورت ہوتے نواب صاحب نے 1942ء میں بہاولپور میں ایک بڑا چڑیا گھر اپنے عوام کی سیر و تفریح کے لئے بنوایا اور ڈرنگ اسٹیڈیم بھی بنوایا جس میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کا پہلا کرکٹ میچ کھیلا گیا تھا۔ حیرت ہے ایسی عظیم شخصیت جس نے نا صرف تعمیر پاکستان میں اپنا بے لوث کردار ادا کیا اپنی دولت اور جاگیر پاکستان کے نام پر قربان کی وہ ریاست جسے اپنے وقت میں ہندوستان بھر میں امیر ترین ریاست ہونے کا اعزاز حاصل تھا وہ پر خلوص شخصیت آج گمنام ہے کوئی نہیں جانتا کہ اس خطے پاکستان کے لئے کیسے کیسے لوگوں نے کیسی کیسی قربانی دی یوں تو خان لیاقت علی خان، نواب محمود آباد، اصفہانی صاحب، سیٹھ آدم جی، سیٹھ حبیب نے بھی نہ صرف ہجرت کی اور اپنا سرمایہ پاکستان منتقل کر کے اس کے مضبوط کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا لیکن نواب بہاولپور جن کا انتقال مئی 1967ء کو ہوا،کے مقام کو کوئی نہ پہنچ سکا۔ افسوس ہے کہ ’’محسن پاکستان‘‘ کی اس عظیم شخصیت کی عظیم خدمات کا جواب پاکستانی قوم نے انہیں فراموش کرکے دیا ہے۔
غیر منقسم ہندوستان میں چھوٹی بڑی 565 ریاستیں تھیں، جہاں راجے مہاراجے، نواب، امیر، میر، مہتر، جام، والی وغیرہ حکومت کرتے تھے۔ان میں سے بعض اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کی فوج اور پولیس
دو دو چار چار سپاہیوں پر مشتمل تھی. قابل ذکر ریاستیں چالیس پچاس ہوں گی. لیکن حیدرآباد ، بہاولپور، کشمیر بیسیوں ملکوں سے بھی بڑی تھیں. 1947 میں ان ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ چاہیں تواپنا علیحدہ وجود برقرار رکھیں یا پھر پاکستان یا بھارت، جس میں چاہیں شامل ہو جائیں ۔ بہاولپور، قلات، مکران، خاران، لسبیلہ، چترال، خیر پور، امب وغیرہ پاکستان کے علاقے میں تھیں۔ ان ریاستوں میں سے سب سے پہلے بہاولپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ اس کا رقبہ بلجئیم، ڈنمارک سمیت اقوام متحدہ کے موجودہ 100 سے زیادہ ملکوں سے زیادہ تھا۔ بہاولپور کے وزیر اعظم مشتاق احمد گورمانی نے 16 اگست 1947 کو ہی قائد اعظم کو الحاق کی درخواست پیش کر دی۔ باقاعدہ الحاق اکتوبر 1947 میں ہوا۔
قائد اعظم اور امیر بہاولپور صادق محمد خان عباسی خامس میں دوستانہ تعلقات تھے جن کا آغاز شاید وکیل اور موکل کے رشتے سے ہوا تھا۔ قائد اعظم نے انہیں سندھ کا گورنر بنانا چاہا تھا لیکن نواب نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ وہ اپنے لوگوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے انہیں بہت پر کشش پیشکشیں کی تھیں کہ ان کی ریاست برقرار رہے گی بلکہ بیکانیر وغیرہ ارد گرد کے علاقے بھی اس میں شامل کردیں گے۔ لیکن نواب صادق نے کہا کہ پاکستان میرے گھر کے سامنے ہے اور بھارت پچھواڑے ۔ شریف آدمی سامنے کے راستےسے ہی گھر جاتا ہے۔
فرض کیجئیے بہاولپور بھارت میں شمولیت کا فیصلہ کرتا تو ہو سکتا ہے نواب سے وعدے پورے نہ کئے جاتے لیکن مغربی پاکستان تقریبا‘‘ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا، ریل کا رابطہ ختم ہو جاتا ۔ ریل کے جس راستے ’’وایا بٹھنڈہ‘‘ پاکستان کے اثاثےاور ریکارڈ دہلی سے کراچی آئے۔ وہ بھی بہاولپور سے گزرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب بہاولپور نے حکومت پاکستان کو ملازمین کی کئی ماہ کی تنخواہیں ، خزانے کیلئے بڑی مقدار میں سونا بھی دیا۔ ان کی رولز رائس گاڑی قائدِ اعظم کے زیر استعمال رہی۔
قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح ملیرکراچی میں نواب بہاولپور کے شمس پیلس میں مقیم رہے۔ نواب نے1949 میں بہاولپور کی فوج بھی پاکستان کو پیش کر دی اور اس کےاخراجات کیلئے سوا کروڑ روپے بھی دئیے۔اپریل 1954 کے آخر میں بھاولپور کو صوبے کی حیثیت دی گئی۔ بہاولپور کی علیحدہ اسمبلی، ہائی کورٹ، سیکریڑیٹ، بنک ، پبلک سروس کمیشن سب کچھہ تھا۔ نواب رسمی سربراہ رہے۔ قائداعظم کے بعد آنے والوں نے ان کی بہن کا خیال نہیں رکھا تو ان کے دوست صادق محمد خان کا کیا خیال رکھتے۔ نواب کے اختیارات اور اندرونی خود مختاری آہستہ آہستہ کم کی جاتی رہی اور بالآخر انہیں بے دخل کردیا گیا۔
حالانکہ سوات ، دیر اور چترال پر 28 جولائی 1969 تک ان کے سابق حکمران برقرار رہے۔ وجہ یہ بھی تھی کہ سوات کے والی کی طاقتور ترین شخصیت ایوب خان سے رشتہ داری ہوگئی تھی۔ سوات کو اب تک ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل ہے۔ وہاں آپ کو کروڑوں کی گاڑیاں بلا ٹیکس چلتی نظر آتی ہیں۔ انڈسٹری کو بھی ٹیکسوں کی چھوٹ ہے۔ جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے کراچی کے صنعت کاروں نے بھی وہاں کارخانے لگائے۔ بہت سی چیزوں پر آپ نے’’میڈ ان سوات‘‘ پڑھا ہوگا۔ اس کے مقابلے میں بہاول پور کو کچھہ نہیں ملا۔۔
مشرقی پاکستان کی آبادی، مغربی پاکستان کے صوبوں اور ریاستوں سے زیادہ تھی ، ظاہر ہے کہ اسمبلی میں اس کی نشستیں بھی زیادہ ہونی چاہئیں تھیں۔۔ لیکن مغربی پاکستان کے مقتدر جاگیر طبقے کو یہ قبول نہیں تھا،۔کیونکہ مشرقی پاکستان میں جاگیرداری تھی ہی نہیں ۔ اس لئے انہوں نے یہاں بھی ختم کر دینا تھی۔۔ اس لئےمشرقی حصے کی اکژیت کا خاتمہ کرنے کیلئے parity (مساوات ) کے معصومانہ نام سے سازش کی گئی کہ مغربی حصے کےصوبوں اور ریاستوں کو اکٹھا کرکے ون یونٹ بنایا جائے اور مشرقی اور مغربی دونوں حصوں کی اسمبلی میں برابر نشستیں ہوں۔ 14 اکتوبر 1955 کو ون یونٹ قائم ہوا اور بہاولپور بھی مغربی پاکستان کے نئے صوبے میں ضم کر دیا گیا۔ بہاولپور کے لوگوں کو شکایت ہے کہ یکم جولائی 1970 کو جب ون یونٹ ختم کیا گیا تو بہاولپور کی ون یونٹ سے پہلے کی علیحدہ حیثیت بحال کرنے کی بجائے اسے پنجاب میں ضم کردیا گیا۔
۔

اپنا تبصرہ بھیجیں