کشمیر کا مقدمہ کیا ہے ۔۔۔ ؟




علی گیلانی سے برہان وانی تک … ایک مکمل داستان ہے ۔ ۔۔!
سری نگر کے کوچہ بازار ۔۔۔۔ اننت ناگ کی مسجدوں کے مینار ۔۔کپواڑہ کے کہسار
وادی لہو رنگ میں سیاست کے میدان ہوں یا عوامی میدان ..ہر جگہ ۔۔۔ حریت فکر کے چراغ روشن ہیں
آزادی کے نعرے فضاوں میں موجزن ہیں ۔۔ ظلم وستم، جبر واستبداد کے مقابل عزم وہمت کے کوہ گراں
سینوں پر شہادت کے تمغے سجائے رواں دواں ہیں ۔۔۔ علی گیلانی کے درس حریت کو برہان وانی نے اپنے خون سے تازگی دی ہے
یہی کشمیر کی کل داستان ہے !!! جنت نظیر کشمیر کے ہر دور میں آزادی کی تحریک برپا رہی ہے
سید علی گیلانی اس تحریک کا روشن سورج ہیں ۔ عمر فاروق ، یسین ملک ،سید صلاح الدین ، آسیہ اندرابی اس تحریک کے چمکتے چاند ہیں
افضل گرو ، مقبول بٹ ، عبدالمجید ڈا اس تحریک کے جگمگاتے ستارے ہیں ۔ اسد داود ،مظفر نعیم ، طاہر انقلابی ، مقصود فاروقی جگمگاتے ستاروں کا ناز ہیں
برہان وانی جدوجہد آزادی کا استعارہ اور اس کہکشاں کی شان ہے ۔
95 ہزار شہدا کا قبریں ، ہزاروں عصمت دریدہ خواتین ، جیلوں میں بند ہزاروں اپاہج نوجوان اور پیلٹ گن کا شکار سینکڑوں نابینا افراد اس تحریک کا اثاثہ ہیں
کشمیر کامقدمہ کیا ہے ؟
88سالہ سید علی گیلانی کی حریت فکر سے لے کر جواں سال برہان وانی کی شہادت تک
ایک ہی داستان ہے ۔ آزادی کی پکار ہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں