عصمت اسامہ : فکرونظر




صحراۓ تھر کی پیاسی انسانیت
موسم سرما میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ خوردونوش کرتے ہوے , رب کریم کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوۓ ایک لمحہ کے لئے موبائل سکرین پر صحراۓ تھر کے سسکتے بلکتے بچے نظر آجائیں تو جی دہل جاتا ہے کہ یہ بھی پاکستان ہے ! ان تصاویر کو دیکھا تو سوچا کہ شاید میرا قلم کسی کی توجہ اس طرف مبذول کروا سکے جہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے ,جہاں جسم و جاں کا تعلق برقرار رکھنا ہی دائرہ کشمکش ہے , جہاں جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے _ کہا جاتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائ اس نے گویا تمام انسانیت کو زندگی بخش دی !
صحراۓ تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراوں میں گرم ترین صحرا کے طور پر نویں درجے میں ہوتا ہے _یہ وسیع و عریض صحرا پاکستان اور بھارت کے کچھ حصہ پر واقع ہے _تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے یہاں کبھی سمندر ہوا کرتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں نے سمندر کو پیچھے ہٹا دیا اور اب یہ ایک بے آب و گیاہ صحرا ہے _اس ضلع کا ہیڈ کوارٹر “مٹھی ” ہے جبکہ دیگر اہم مقامات اسلام کوٹ , چھاچھرو, ننگر پارکر, کانٹیو ,چیلہار ,کھینسر اور ڈیپلو ہیں_یہاں کی آبادی جھونپڑیوں میں رہتی ہے _مسلمان اپنی جھونپڑی کو مسجد کے گنبد کی مانند گول بناتے ہیں جبکہ ہندووں کی جھونپڑی کی چھت پینسل کی نوک کی مانند ہوتی ہے_صحراۓ تھر میں زندگی , روزگار ,زراعت اور معیشت کا انحصار بارش پر ہے جو بہت کم ہوتی ہے_اس وجہ سے نہ مطلوبہ مقدار میں سبزہ اگتا ہے ,نہ انسانوں کی غذائ ضرورت پوری ہوتی ہے ,نہ جانوروں کو چارہ میسر آتا ہے_پینے کا پانی میسر نہیں ہے ,کنووں کا پانی بہت کڑوا اور ناقابل استعمال ہے_غربت ,فاقہ کشی اور قحط کے سبب نومولود بچے ,پیدائش کے ساتھ ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں_ماںئیں خوفزدہ رہتی ہیں _ضلع کا واحد سرکاری ہسپتال مٹھی میں ہے_ملیریا , گیسٹرو اور وبائ امراض تیزی سے پھیلتے ہیں _یہاں زہریلے سانپوں کی کثرت ہے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین کی عدم دستیابی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے _لوگ قرضے لے کے گزر بسر کرتے ہیں لیکن دانے دانے کی محتاجی ختم نہیں ہورہی _گزشتہ عرصہ میں حکومت سندھ نے فی خاندان پچاس کلو گندم دینے کا اعلان کیا تھا لیکن جن لوگوں کے نام نادرا میں درج نہیں تھے ,ان کو امداد نہ مل سکی _
~ آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہ
پیٹ ہے خالی ,آنکھ میں حسرت ,ہاتھوں میں گلدستہ ہے !
یومیہ ہزاروں خاندان اپنے مال مویشی کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور ہیں لیکن ساری آبادی یہ بھی کرنے پہ قادر نہیں _
خوش آئند امر یہ ہے کہ صحراۓ تھر کو نوازنے میں قدرت نے کمی نہیں کی ہے_کہا جاتا ہے کہ یہاں سنگ مرمر اور چائنا کلے کے ذخائر موجود ہیں جن سے اس علاقے کی حالت بدلی جاسکتی ہے _دنیا کے چند بڑے کوئلے کے ذخائر میں سے ایک تھر میں موجود ہے جس کا اندازہ 170 بلین ٹن ہے ,اسے استعمال میں لا کر پاکستان آئندہ دوسو سالوں تک بجلی کی پیداوار میں خودکفیل رہ سکتا ہے لیکن یہ پراجیکٹ حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں_صحراۓ تھر کی پیاسی انسانیت کا درد کون سمجھے گا ? یہاں جماعت اسلامی کے شعبہ الخدمت نے ایک ہسپتال قائم کیا ہے مگر یہ کام حکومتی سطح پر ہونا چاہئیے _مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بشارت یاد آتی ہے جو انھوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دی تھی _نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان کو بئر رومہ (کنواں) خرید کے عامتہ المسلمین کے لئے وقف کرنے پر جنت کی بشارت دی تھی, کوئ اللہ کا بندہ صحراۓ تھر میں ایک نہر کھدوا کے ایسی ہی بشارت کا حق دار بن جاۓ !!
~مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا
روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا
اہمیت جہد مسلسل کی نہیں کم حامد
صرف تقدیر کا لکھا نہیں دیکھا جاتا !

اپنا تبصرہ بھیجیں