مجھے میرے محافظوں سے بچاؤ _ عامر ہزاروی




یہ تصویر اوگی سے تعلق رکھنے والے بائیس سالہ نوجوان بلال کی ہے ، بلال کی جب کمر سیدھی ہوئی تو ماں کی کمر جھک چکی تھی ، اولاد جب طاقت ور ہوتی ہے تو ماں باپ کمزور ہو جاتے ہیں ، جب ہمارے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں تو ماں باپ کے ہاتھ لرزنے لگ جاتے ہیں ، مشرقی معاشرے میں اولاد ماں باپ کا سہارا ہوتی ہے، ریاست کو بڑھاپے سے غرض نہیں ہوتی ، ریاست شہریوں کو کچھ بھی نہیں دیتی ، اب اولاد بھی چھیننے لگ گئی ہے ،
اوگی سے تعلق رکھنے والے بلال اور بلاول تین وقت کی روٹی کے لیے کراچی گئے ، خاندان کو ساتھ لیا اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے مزدوروی شروع کر دی ، تین روز قبل دونوں بھائی ایک شادی پر جا رہے تھے کہ کراچی تیموریہ تھانے کی پولیس نے دونوں بھائیوں کو حیدری کے قریب روک لیا ، دونوں بھائیوں سے رشوت مانگی اور نوبت توں تکرار تک پہنچ گئی ،
پولیس نے دونوں کو اٹھایا اور تھانے لے گئے ، دونوں پر خوب تشدد کیا ، ایک بھائی پر مہربانی کرتے ہوئے اسے جمال گوٹھ پل کے قریب زندہ چھوڑ دیا ، اور کہا پیچھے مڑ کر دیکھا تو گولی مار دی جائے گی ، دوسرے کو پاس ہی رکھا ، تشدد سے شاید دل ٹھنڈا نہیں ہوا تھا،
بلاول زندگی لیکر گھر آ گیا جبکہ بلال کو دوسرے روز تھانے کے اندر ہی قتل کر دیا گیا ، ماورائے عدالت قتل کو پولیس مقابلے کا رخ دینے کی کوشش کی گئی مگر ایک نہتا شہری پولیس کا مقابلہ کہاں کر سکتا ہے ؟
بلال مر چکا ، اس کی لاش دفنا دی گئی ، لاشوں کا کیا وہ دفنا ہی دی جاتی ہیں ، مگر ماں کہتی ہے میرے بیٹے کو انصاف نہ ملا تو میں خود سوزی کر لونگی ،
بلال کو انصاف شاید نہ ملے اور یقینا نہیں ملے گا ،یہاں پہلے کس کو انصاف ملا ہے ؟ نقیب اللہ محسود جیسے جوان رعنا کو انصاف نہیں ملا تو کسی اور کو کیا ملے گا ؟
ریاست اب ایک مہربانی کر دے ، مجھے روٹی نہ دے ، مجھے پانی بھی نہ دے ، مجھے چھت اور انصاف بھی نہ دے ، صرف مجھے میرے محافظوں سے بچا لے ، وہ مجھے نہ ماریں میں زندگی خود جی لونگا _

اپنا تبصرہ بھیجیں