مودی جی ۔۔۔ آپ کا دوست! نوازشریف ہو یا عمران خان، ایک ہی بات ہے۔ – شہزاد مرزا




ڈئیر مودی جی ۔۔۔ نمسکار ست سری کال
آپ کے سب مطالبے سر آنکھوں پر مگر مجھے عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے فی الحال جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی لگا کر آپ کا سابقہ مطالبہ فوری پورا کیا جا رہا ہے، باقی سب بھی آہستہ آہستہ پورے ہو جائیں گے، آپ بس تھوڑا حوصلہ رکھیں۔
دیکھیے! ہم دوستی کے طلب گار ہیں، اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے فلم سے کرکٹ تک ہمارا ہر معاملے پر بائیکاٹ کر دیا ہے، یہاں تک کہ کرکٹ ورلڈ کپ کا بھی بائیکاٹ کر رہے ہیں، آپ کے وزرا پاکستان کو تباہ کرنے دھمکیاں دے رہے ہیں، فوج سرحدوں پر آ گئی ہے، حتی کہ اب دریاؤں کا پانی بھی روکنے جا رہے ہیں، مگر ہم نے آپ کی فلموں اور ڈراموں پر بھی پابندی نہیں لگائی، بڑے دھڑلے سے سارے ملک میں نمائشیں جاری ہیں۔ ہمارے اخلاص کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اس سب کے باوجود ہم مذاکرات چاہتے ہیں اور وہ بھی آپ کی شرائط پر، یعنی دہشت گردی کو ایجنڈے پر لا کر۔
آپ کے آرمی چیف نے ہمیں اسلامی نظریہ چھوڑ کر سیکولر بننے کی تلقین کی تھی تو جناب اپنی کچن کابینہ میں زیادہ تر سیکولر افراد منتخب کر کے اس مطالبے کی طرف بھی پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے، اور ویسے بھی ہمارے انٹرٹینمنٹ چینلز دیکھ کر سمجھ جائیں، اس طرف تیزی سے کام جاری ہے۔ ہماری حکومت نے طے کیا ہے کہ حج پر چاہے سبسڈی نہ دے سکیں مگر فلم انڈسٹری کے لیے ضرور دیں گے اور سینما بھی ایک سو سے بڑھا کر 1500 کریں گے۔
جہاں تک کشمیر کی بات ہے اس کا ذکر تو میں نے تقریر تک میں نہیں کیا، اوپر سے کشمیر افیئر کا ایسا منسٹر لگایا ہے جو زیادہ وقت گنڈاپوری شہد کے زیر اثر رہتا ہے، بس سمجھو وہ منسٹری علامتی ہی ہو چکی ہے۔
اور جہاں تک کلبھوشن کی بات ہے تو اس کا نام میری زبان پر بھی کبھی نہ آئے گا۔ قوم سے حالیہ خطاب میں بھی اس کشیدگی کے باوجود خاص خیال رکھا کہ کلبھوشن کا نام نہ آنے پائے۔ الٹا حافظ سعید اور اس کی تنظیموں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ امید ہے آپ کے من کو بہت شانتی ملے گی۔ میری طرف سے شبھ کا منائیں قبول کریں۔
۔

اپنا تبصرہ بھیجیں