علامہ اقبال کا ایک خط عمران خان کے نام ۔ ثاقب اکبر




عزیزم عمران خان! ان دنوں میں تمھارے حوالے سے بہت مضطرب ہوں ۔ تم نے ویسے تو مجھ سے بڑی عقیدت و محبت کا اظہار کر رکھا ہے۔ مجھے اپنا آئیڈیل کہتے رہے ہو۔ تم نے اپنی تقریروں میں میرے شعروں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ تم نے کئی مرتبہ میرے شعر غلط پڑھے، لیکن میں نے برا نہیں مانا ، کیونکہ میں نے سمجھا کہ تمھاری نیت ٹھیک ہے۔ اگر میں صرف شاعر ہوتا تو اپنے شعر غلط پڑھنے پر تمھیں کبھی معاف نہ کرتا، لیکن میں تو ایک نظریاتی انسان ہوں، میں نے اپنے شعر میں قرآن و اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ میں نے چاہا کہ لوگوں کے سامنے عصر حاضر کی ضرورت اور فہم کے مطابق رسول کریم کی سیرت پیش کروں۔ مجھے بہت اچھا لگتا جب تم اپنی تقریر ” ایاک نعبدو وایاک نستعین“ سے شروع کرتے۔ جب تم نے امریکا کی ”ڈومور“ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آسمان پر فرشتے بھی خوش ہوگئے۔
ایسی جرات اور آزاد منشی کے مظاہرے آسمان والوں کو ہمیشہ خوش کر دیتے ہیں، لیکن ان دنوں آسمان والے تمھاری طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ میرے اضطراب کا تمھیں شاید ابھی پوری طرح اندازہ نہ ہوسکے، کیونکہ تم کچھ زیادہ ہی الجھے ہوئے اور مصروف نظر آرہے ہو۔ اس لیے اپنی ”کلیات“ پڑھنے کی دعوت تو میں نہیں دے سکتا۔ تمھارے بار بار کے اظہار محبت و عقیدت کی وجہ سے تمھیں اپنے چند اشعار کی طرف ضرور متوجہ کرنا چاہوں گا۔ آج کل نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے تم نے جس بلند پروازی کی خواہش سینے میں پال رکھی ہے، اس کی وجہ سے اس شعر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے:
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
عمران خان! میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے بارے میں اور مختلف کاموں کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور فطرت کی آواز ضرور سن لیا کرو۔ میں نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے:
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی
تو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی
عمران خان! پاکستان کے حالات کو بہتر کرنا تمھاری ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اس کے لیے گدا گری کی روش درست نہیں، جیسا کہ میں نے پہلے ہی سمجھایا تھا:
مقام فقر ہے کتنا بلند شاہی سے
روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے
اس حوالے سے یہ شعر بھی دیکھ لو:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
میں نے ہمیشہ آزادی و حریت اور خودی کا سبق دیا ہے۔ یاد رکھو تمھارے ذمہ اپنی قوم کو آزاد منش بنانا ہے، نہ کہ شاہوں اور سلاطیں کا پرستار، اس لیے کہ:
فتنہ ملّتِ بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
البتہ سلاطیں کی پرستاری سے بچنے کے لیے ہر حالت میں جرات رندانہ کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ میں نے تم جیسوں کو نصیحت کر رکھی ہے:
میری میں فقیری میں شاہی میں غلامی میں
کچھ کام نہیں بنتا بے جرات رندانہ
چند شعر اس حوالے سے اور بھی تمھاری توجہ کے طالب ہیں:
نہ تخت و تاج میں، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے
وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا
یہ سنگ و خشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے
اور دیکھو عمران خان! یہاں سنگ و خشت سے مراد ڈالر اور ریال ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عطاء الحق قاسمی جیسے شارحین تمھیں اس کا کچھ اور معنی بتا دیں اور جب بھی آئندہ “ایاک نعبدو وایاک نستعین” پڑھو، تو میرے یہ اشعار پیش نظر رکھو:
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
اور ہاں تم تو پہلے ہی ایک موقع پر آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے خودکشی کرنے کو بہتر قرار دے چکے ہو، گویا تم سمجھتے ہو کہ اپنے آپ کو اور قوم کو پیسوں کی خاطر ذلیل کرنا روحِ پاکستان کے منافی ہے۔ ہاں یہ شعر تو گویا میں نے تمھارے لیے ہی کہا ہے:
سینہ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوزناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر
عمران خان! دیکھو شاہوں کے کاسہ لیس ملاﺅں اور شیخان حرم کی باتوں میں نہ آنا، کیونکہ ان کے بارے میں، میں نے تاریخ کے مطالعے سے شہادت دی ہے۔
یہی شیخ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا
عمران خان! جب میں اس دنیائے دنی میں موجود تھا تو مجھے بھی بہت سے افراد تلقین کرتے تھے کہ میں دیوانوں کی سی شاعری نہ کروں اور زمینی حقائق کے مطابق برسراقتدار لوگوں سے ہم آہنگ ہو جاﺅں، لیکن میں افرنگ کو بہت اچھی طرح سے جان گیا تھا، میرے لیے ممکن نہ تھا کہ میں کلمہ توحید کی روح کو نظرانداز کردوں، چنانچہ میں نے کہہ دیا تھا:
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ
عمران خان آخر میں میں تمھیں توجہ دلاتا ہوں کہ:
پرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے
ہاں جن لوگوں نے میری بات پر توجہ نہیں دی، ماضی میں بھی انھوں نے قوم سے غداری کی ہے اور آئندہ بھی ان سے اسی کی توقع ہے۔ وہ اپنی مختصر سی زندگی اور چند ٹکوں کی خاطر قوم سے غداری کرتے چلے آئے ہیں، یہ ایسے ہی لوگ ہیں، جن کے بارے میں میں نے کہہ رکھا ہے:
قومی فروختند وچہ ارزاں فروختند
امید ہے تم میری دردمندانہ باتوں پر نئے سرے سے غور کرو گے اور اپنی خودی کو بلند رکھو گے، یہاں تک کہ تم اس منزل مراد تک پہنچ جاﺅ:
خودی کو بلند کر اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اگر میری ان باتوں پر توجہ نہ دے سکو تو آئندہ میرے اشعار اپنی تقریر میں مت پڑھنا اور ہاں آئندہ میں غلط اشعار پڑھنے پر بھی معاف نہیں کروں گا ۔
والسلام مصور پاکستان
محمد اقبال ولد مولوی حکیم نور محمد

اپنا تبصرہ بھیجیں