سپاہی مقبول حسین اور پاکستان کی محبت




سپاہی مقبول حسین حب الوطنی اور سرفروشی کی دلگداز داستان کا ایک کلاسیکی کردار ہے۔ یہ کہانی شاید آپ نے بھی سنی ہو مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے‘ کہ کلاسیکی کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ اور پھر سپاہی مقبول حسین نے تو بہادری کی وہ داستان رقم کی ہے جس پر پاکستان کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی اسے خراج پیش کریں گی۔ یہ کہانی ہر نسل دہرائے گی۔6ستمبر کو ایک نصف صدی بیت جائے گی۔ سپاہی مقبول حسین کی کہانی بھی نصف صدی کا قصہ ہے ۔6 ستمبر 1965ءکو تو باقاعدہ پاک بھارت جنگی معرکے کا آغاز ہوتا ہے‘ مگر اس سے بھی ایک مہینہ پہلے اگست1965ءکو جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ چکی تھی اور پاک سرحدوں کے رکھوالے فرض شناسی کی ادائیگی میں کسی بھی معرکے سے نمٹنے کے لیے بیدار کھڑے تھے‘ کشمیر رجمنٹ کا سپاہی مقبول حسین آپریشن جبرالٹر کا حصہ بنتا ہے اور دشمن کی ایک گولی اس نوجوان کو لگتی ہے ۔
یہ زخمی ہو کر گر پڑتا ہے۔ دشمن اسے جنگی قیدی بنا لیتا ہے۔ مگر جنیوا کنونشن کے برعکس جنگی قیدیوں کے ہر قسم کے حقوق سے محروم کر کے سپاہی مقبول حسین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ پھر ستمبر میں 17دن کی جنگ کے بعد بھی سپاہی مقبول حسین کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔ کشمیر رجمنٹ میں اس کا نام لاپتہ سپاہیوں کی فہرست میں درج کر دیا جاتا ہے۔ سال گزرتے جاتے ہیں‘ مگر اس نام کا کوئی سپاہی کسی طور بھی منظر عام پر نہیں آتا۔جنگی قیدیوں کی فہرست میں اس کا نام نہیںہوتا۔ سپاہی مقبول حسین تو اپنی زندگی کے چالیس قیمتی برس خاک وطن پر نثار کر دیتا ہے مگر پیچھے سے اس کے گھر والوں پر کیا بیتتی ہے؟۔ وہ تو گاﺅں سے رخصت ہوتے وقت اپنی ماں سے وعدہ کر کے آیا تھا کہ اگلی بار ماں کی خواہش پر سہرا باندھے گا۔ وہ تو اپنے بھائی سے گلے ملتے ہوئے کہہ کر آیا تھا کہ وطن کی حفاظت کے لیے ایک اہم معرکہ درپیش ہے‘ اس کے بعد جلد گاﺅں آﺅں گا۔
اور پھر گاﺅں میں سپاہی مقبول حسین کی منگیتر نسرین بھی تو تھی جو اپنے حسن سے زیادہ اس بات پر نازاں رہتی کہ اس کا ہونے والا شریک زندگی اس وطن کا ایک بہادر سپاہی ہے۔ سپاہی مقبول حسین تو رخصت لے کر سرحد پر اپنا فرض ادا کرنے چلا جاتا ہے‘ مگر اس کی ذات سے جڑے یہ محبت کرنے والے رشتے ایک جان لیوا انتظار کے کڑے مرحلوں سے گزرتے ہیں۔ جنگی معرکہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ پھر 71ءکی جنگ کے قیدی بھی ایک معاہدے کے تحت واپس گھروں کو آ جاتے ہیں۔ نہیں آتا تو مقبول حسین جو اپنی ماں کی بوڑھی آنکھوں میں ایک ایسا انتظار چھوڑ آتا ہے جسے جھیلتے جھیلتے وہ دنیا سے چلی جاتی ہے اور جاتے سمے ایک دلگداز وصیت کر جاتی ہے کہ مجھے گاﺅں کے داخلی راستے والے قبرستان میں دفن کرنا تاکہ میرا بیٹا جب بھی آئے‘میں اسے سب سے پہلے ملوں۔
اور ماں کا بہادر جوان رعنا سپاہی بیٹا جب وطن کو لوٹتا ہے تو عجب منظر دکھائی دیتا ہے کہ ایک 68برس کا بوڑھا‘ لاغر اور مجہول‘ ذہنی توازن اپنی جگہ پر نہیں‘زبان بات کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اس زبان سے بہادر سپاہی دشمن کی قید میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا کرتا تھا۔ اس جرات رندانہ پر دشمن نے سپاہی مقبول حسین کی زبان ہی کاٹ دی۔!40برس کے طویل سفر کے بعد مقبول حسین کے گاﺅں سب کچھ بدل چکا ہے اس کی خالی آنکھیں‘ اپنی ماں بھائی اور منگیتر کو تلاش کرتی ہیں مگر اس کی جگہ قبریں تھیں۔ قبروں پر لگے کتبے ہیں اور ان کتبوں پر سپاہی کے پیاروں کے نام لکھے ہیں ۔ دشمن کی قید میں اذیتوں کے لامتناہی سلسلے نے سپاہی مقبول حسین کا ذہنی توازن خراب کر دیا ہے۔ اس کی زبان کاٹ دی گئی مگر اس سے وہ اس فخر و انبساط کو
نہیں چھین سکے کہ وہ کشمیر رجمنٹ سے وابستہ پاک وطن کا ایک جانباز سپاہی ہے۔ اسی لیے جب مقبول حسین کے ہاتھ میں قلم اور کاغذ دیا جائے تو وہ بلا تامل اس پر چند ہندسے لکھتا ہے…355139۔تحقیق پر پتہ چلا کہ یہ وہ نمبر تھا جو بطور سپاہی کشمیر رجمنٹ نے اسے الاٹ کیا۔ سپاہی مقبول حسین کی زندگی پر آئی ایس پی آ ر کے تعاون سے پاکستان ٹیلی ویڑن نے ایک ڈرامہ سیریل بھی تیار کیا جو 2008ءمیں آن ایئر گیا ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ڈرامے کی تعارفی تقریب میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز کیانی بھی شریک ہوئے اور پھر سپاہی مقبول حسین کو بھی آپ کی لڑکھڑاتے قدموں اور خالی آنکھوں کے ساتھ سٹیج پر لایا گیا۔ پورا ہال بشمول جنرل پرویز کیانی عقیدت اور احترام سے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے اور تالیاں بجا کر وطن کے عظیم سپاہی کا خیر مقدم کیا۔
نور جہاں کے گائے ہوئے دلگداز جنگی ترانے عقب میں بج رہے تھے۔ حاضرین محفل کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔ مگر سپاہی مقبول حسین تاثرات سے عاری چہرے کے ساتھ یہ منظر دیکھتا رہا۔سپاہی مقبول حسین علامت ہے اس سرفروشی اور جانبازی کی جو اس وقت آپریشن ضرب عضب میں‘ حب الوطنی اور بہادری کی عظیم داستانیں رقم کر رہی ہے‘ ان ماﺅں کو ہمارا سلام پہنچے‘ جو اپنی گود میں پلی ہوئی تمام عمر کی ریاضت کو وطن پر نچھاور کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ جنرل راحیل شریف ایک قومی ہیرو کے طور پر پاکستانیوں کے دلوں میں گھر کر چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاک فوج دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے برسر پیکار ہے۔ اب جنگ صرف سرحد پر نہیں لڑی جاتی یہ ایک مشکل اورگھمبیر جنگ ہے۔ آج بھی آپریشن ضرب عضب میں‘ قربانیاں دینے والے
افسروں اور جوانوں کی کمی نہیں مگر میں خاص طور پر ذکرکرنا چاہوں گی ان جوانوں اور سپاہیوں کا‘ جن کے نام بھی ہم نہیں جانتے‘ جن کی قربانیوں کو تمغوں کی صورت میں کوئی خراج بھی نہیں ملتا‘ جو ایک گمنام سپاہی کی طرح اپنا فرض ادا کرکے صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر اپنے رب کے حضور سرخرو ہو جاتے ہیں۔ سپاہی مقبول حسین بھی بنیادی طور پر ایک گمنام سپاہی ہی تھا۔ وہ دشمن سے بہادری سے لڑا۔ پھر 40برس کے طویل عرصے تک دشمن کی قید میں رہا۔ ظلم اور تشد کی انتہاﺅں کے باوجود اس نے اپنی زبان نہیں کھولی وطن کے راز کو راز میں رکھا مگر قوم بے خبر رہی کہ وہ 40برس تک وطن کی حفاظت کے عظیم جذبے سے سرشار ہو کر کون کون سی قربانیاں دیتا رہا۔ اس نے اپنی زبان کٹوا لی مگر وطن کے خلاف ایک لفظ نہ بولا کیونکہ اس وطن کی حفاظت کا عہد کر رکھا اور وہ اس عہد سے ایک لمحے کے لیے بھی دستبردار نہیں ہوا۔ وہ بہادری‘ فرض شناسی اور حب الوطنی جیسے عظیم جذبوں سے گندھا ہماری تاریخ کا ایک کلاسیکی کردار ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں