بھول نہ جانا پھر پپا ۔۔۔۔ سیدہ رابعہ




موا فیس بک نہ ہوا، بی جمالو ہو گیا ۔ دنیا بھر کی چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ۔ اس کو بی جمالو کا خطاب بھی تو ہم نے ہی دیا تھا ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر یہ بی جمالو نہ ہوتیں تو ہم د نیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے نا بلد ہی رہتے ۔ ہم ان کا یہ خطاب واپس لیتے ہیں اور انکو نام دیتے ہیں مغلانی بوا ۔ پرانے زمانے میں مغلانی بوا نہ صرف رشتے لگاتی تھیں بلکہ دعوت نامے بھی پہنچاتی تھیں ۔ آپس میں ایک دوسرے کی خیر خیریت سے بھی مغلانی بوا سے پتہ چل جاتی تھی ۔ میکے سے بلاوے کا پیغام بھی وہی پہنچاتی تھیں ۔ اب یہ سارے کام ہماری فیس بک بوا انجام دے رہی ہیں ۔ ہم اپنی تازہ ترین تحریر لکھ ہی رہے تھے کہ سعدیہ معظم کا کمنٹ آگیا ۔ لاہور میں رہتی ہیں اور ہماری ہر تحریر کو شوق سے پڑھتی ہیں ۔ انھوں نے ایک خبر ہمیں تصویر کے ذریعے دی ہے اور اس پر لکھنے کی فرمائش کی ہے یہ تحریر ان ہی کی فرمایئش کا نتیجہ ہے . آج مرزا کی زبان لہو لہان تھی ۔ ہمیں حیرت ہو رہی تھی کہ ہمیں دیکھ کر بھی انکی بلبل کی طرح چہکتی زبان کیوں گنگ ہو گئ ہے ۔ ہم نے موقع غنیمت جان کر انھیں دو تین دھکے بھی دیئے ۔ پیٹھ پرایک دھموکا بھی رسید کیا ۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوے ۔ بالکل درخت کے تنے کی طرح استادہ رہے ۔ زیر لب کچھ بڑ بڑا رہے تھے ۔ بڑی دیر کے بعد گویا ہوے ۔
میاں! آج تو میں اپنی قوم اور معاشرے سے بالکل مایوس ہوں ۔ ہم کیا تھے ۔ اور کیا ہو گئے ۔ زبان گنگ ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کو پرسہ دوں اور کس کے نام کی فاتحہ پڑھوں؟ ہم کو یوں لگا جیسے مرزا آج اپنے حواسوں میں نہیں ۔ ضرور کچھ گڑبڑ ہے ۔ انکی طرف کچھ غور سے دیکھا تو برس ہی پڑے ۔ کہنے لگے ۔ تمہیں تو بس ایک ہی کتاب پڑھنے کا شوق ہے ۔ ہر روز اس کی نہ صرف ورق گردانی کرتے ہو بلکہ اسکو رٹ لیتے ہو ۔ بتاو آج کی کیا خبر ہے ۔ ہم سمجھ گئے کہ مرزا کا اشارہ اس خبر کی طرف ہے جس میں ایک دلہن بھاگنے کے لیئے کریم ٹرانسپورٹ کی مدد لے رہی ہے ۔ اور کریم ٹرانسپورٹ نے اشتہار لگایا ہے کہ اگر دلہنوں کو جاے واردات سے فرار ہونا ہے تو کریم بایئک تیر کی مانند انکو اس مقام پر پہنچا دے گی جو انکی منزل مقصود ہے ۔ یہی نہیں بلکہ کریم بایئک ماں کے ڈنڈے سے بھی انکو بھگا کر لے جاے گی ۔ وہ لوگ جو نیب کی تحویل میں ہیں ۔ راتوں رات حوالات سے نکال کر ان کے محل تک پہنچا دے گی ۔ شرجیل میمن کو بھی آفر ہے ۔ اور یہ سب ہورڈنگز پنجاب کے دل لاہور کی شاہراہوں پر آویزاں ہیں ۔ ہم نے طوطے کی طرح ان کے سامنے سب کچھ دہرا دیا ۔ کہنے لگے ۔
کیا یہ ہمارا معاشرہ ہے ۔ ہم کو ساٹھ اور ستر کی دہائی کے اشتہار یاد آتے ہیں ۔ کچھ یاد ہے تمہیں؟ وہ نغمہ ۔ بھول نہ جانا پھر پپا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نورس لے کر گھر آنا اور وہ اشتہار ۔ اے خدا میرے ابو سلامت رہیں ہمیں بھی ایسے اشتہار یاد تھے ۔ جب ببل گم والا اشتہار آتا تو ہم بھی مانو بلی کی طرح سر ہلاتے اور پوتے کے ساتھ آآو کرتے ۔ اب تو ان اشتہارات کی دل کشی کہیں کھو گئی ۔ اب ہمارے اشتہارات میں لڑکیاں بالکونیوں میں کھڑی ہو کر سیٹیاں بجاتی ہوئ چاے بیچتی نظر آتی ہیں ۔ یا پھر ساس آنھیں برتن دھونے پر لگا کر خود اڑن چھو ہو جاتی ہیں ۔ اور صرف اشتہار پر ہی کیا منحصر ہے ۔ سڑکوں پر،مالز میں اور اسکولز کی چار دیواری کے باہر جو ہو رہا ہے کیا ہم اس سے با خبر نہیں ۔ ہم اسکو مغربی معاشرے کا اثر قرار دیتے ہیں ۔ میں نے اس معاشرے کو بہت قریب سے نہیں دیکھا ۔ مگر کسی بھی معاشرے میں اس قسم کی غیر اخلاقی حرکتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ۔ وہاں بھی لڑکیاں گھر سے فرار نہیں ہوتیں ۔ اور نہ ہی کوی ٹرانسپورٹ بھاگنے کا مشورہ دیتی ہے ۔ انکی باقاعدہ انڈراسٹینڈنگ ہوتی ہے ۔ ان کی بھی کچھ اخلاقی اقدار ہیں ۔ اس لیئے ہمیں پہلے اپنی اقدار متعین کرنی ہونگی ۔ کراچی میں تو سڑکوں سے سارے ہورڈنگز چیف جسٹس کے ایک حکم سے اتار لیئے گئے ۔
پنجاب کو کیوں چھوڑ دیا گیا ۔ صرف کریم ٹرانسپورٹ کو بین کرنے سے کیا ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا کل اور بھی ٹرانسپورٹ یہی مقصد استمعال کر سکتی ہے کسی ٹرک پر بیٹھ کر ، کسی گدھا گاڑی پر یا پھر سنجوگتا کی طرح اپنے محبوب کے گھوڑے ہر سوار ہو کر ۔ یہی نہیں کراچی کی سڑکوں پر ایسے غیر اخلاقی اشتہار نظر آتے ہیں جس میں اماں بنگالن محبوب کو قدموں میں گرا نے کا تعویذ دیتی ہیں ۔ ایسے پیر صاحبان کے آستانے ہیں جہاں اولاد نرینہ کے حصول کی وہ گارنٹی دیتے ہیں ۔ ایسے مفتی صاحبان ہیں جن کے سر کی ٹوپیاں قندیل بلوچ پہن کر اتراتی ہیں ۔ ایسے مولوی صاحبان ہیں جو عورت کے عدت کی معیاد سے قبل از وقت نکاح پڑھا دیتے ہیں ۔ کیا یہ سب مغرب کے زیر اثر ہیں ؟ ایسا ہر گز نہیں ۔ تعلیم کی کمی ، مذہب سے سرسری واقفیت ، مذہب کی اصل تعلیم سے ناواقفیت ہی اس کا اصل سبب ہے ۔ ایک ضابطہ اخلاق بنانا چاہیئے ۔ کوئیی بھی اشتہار، کوئیی بھی پمفلٹ بغیر منظوری کے عوام میں نہیں آنا چاہئیے اور ان سب کے لیئے صرف آواز بلند کرنا ہی کافی نہیں ۔ بے شک بائ کاٹ کریں ۔ مگر یہ حل نہیں ۔ اس لیئے کہ ہمارے ملک میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھئ اہم ہے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایسی کمپنیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ضابطہ اخلاق کا پابند بنائیں ۔ ورنہ ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں