کورونا وائرس: سوشل میڈیا ٹوٹکوں نے تین سو افراد کی جان لے لی




کورونا وائرس سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا کے ٹوٹکوں پر عمل کرنے والے سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے انٹرنیٹ صارفین سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے دیسی علاج یا گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے بچنے کے لیے اب تک سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد ممنوعہ کیمیکلز کا استعمال کررہی ہے۔

خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں پانچ سالہ بچے کا حوالہ دیا اور بتایا کہ والدین نے کورونا سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے بچے کو میتھانول پلادیا تھا جس کے بعد وہ نابینا ہوگیا۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ میتھانول نامی صنعتی کیمیکل استعمال نہیں کریں البتہ شہریوں نے ہدایت کو نظر انداز کیا اور کیمیکل پی لیا۔

رپورٹ کے مطابق ممنوع کیمیکل پینے سے اب تک 300 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک ہزار سے زائد شہری ایسے بھی ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ ممنوع کیمیکل پینسے سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کرگئی۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس وقت صرف مہلک کورونا وائرس کی وبا کا چیلنج درپیش ہے جب کہ کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ زہریلی شراب پینے سے ہونے والی ہلاکتوں اور بیماریوں کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

واضح رہے کہ کورونا کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ طریقہ علاج بتائے جارہے ہیں، عالمی ادارۂ صحت سمیت دنیا بھر کے ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ گھریلو ٹوٹکوں پر عمل نہ کریں جبکہ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ٹویٹر نے بھی غیرمصدقہ معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینا شروع کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں