سالار شہیدان حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت آج دنیا بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے




امامت و ولایت کے تیسرے درخشدہ ستارے، نواسہ رسول جگر گوشہ بتول، سالار شہیدانِ حضرت امام حسین علیہ السلام کا یوم ولادت باسعادت آج دنیا بھر میں عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

ماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے۔

اس مبارک مہینے میں گلستان محمدو آل محمد کے ایسے سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ایمان کو معطر کئے ہوئے ہیں۔

شعبان کی تین تاریخ کو جگر گوشہ بتول ، آسمان امامت و ولایت کے تیسرے درخشندہ ستارے، سالار شہیدان حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپؑ کے نور وجود سے مدینۃ النبی کے بام و در روشن و منور ہوگئے۔

مزید پڑھیں: سید الشہداء شباب اہل الجنّۃ حضرت امام حُسین عَلیہِ اسلام

پیغمبر خدا خاتم النبیاﷺ نے نے آپؑ کی ولادت کے دوران ہی آپ کی شہادت کی بھی خبر دی اور آپ کا نام حسین رکھا، رسول اللہؐ، حسنین کو بہت چاہتے تھے اور ان سے محبت رکھنے کی سفارش بھی کرتے تھے۔

ختمی المرتب رسول اکرمﷺ نے فرمایا “حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، حسین چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہے۔”

آپ ﷺ فرماتے ہیں: “تمہاری سعادت و شقاوت حسین کے ساتھ تمہارے روئیے پر منحصر ہے؛ آگاہ ہو جاؤ کہ حسین جنت کا ایک دروازہ ہے جو بھی اس سے دشمنی کرےگا، خدا اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دے گا۔”

امام حسینؑ اصحاب کسا میں سے ہیں، مباہلہ میں بھی حاضر تھے، آپ علیہ السلام کی شان میں آیۂ تطہیر نازل ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں