کورونا وائرس: انسان انسان سے ڈرنے لگا، قریہ قریہ موت کے سائے۔۔۔ تنہائی علاج بن گیا




وبائیں انسانی تاریخ میں بہت آئیں اور گئیں لیکن کورونا کی وبا نے سب کچھ ہی بدل کررکھ دیا ہے انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے یہ کیسا پرند ہے جو کسی کی پکڑ میں نہیں آ رہا۔

وبائیں پہلے بھی پھیلتی رہی ہیں، موت نے پہلے بھی سر اٹھائے ہیں، گلی گلی پہلے بھی جنازے اٹھائے جاتے رہے ہیں، خوف کے بھیانک سائے پہلے بھی پنجے گاڑ چکے ہیں۔ مگر اس بار تو نرالی وبا پھیلی ہے۔ اس بار انسان موت سے نہیں ڈر رہا ہے۔ اس مرتبہ انسان انسان سے ڈر رہا ہے۔

بقول جون ایلیا

اب نہیں کوئی بات خطرے کی ……. اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔ 

جب ہزاروں ٹھکانے لگ گئے تو ہم پر بھید کھلا کہ کوئی کسی کو ہاتھ نہ لگائے، گلے نہ ملے، قریب نہ بیٹھے، بیٹھے تو بیچ میں چھ ہاتھ کا فاصلہ رکھے، غرض یہ کہ اگر کرنا ہی ہو تو دور سے سلام کرے۔

وبائیں زندگیاں چھینا کرتی تھیں، اس نے تو غضب کیا ہے۔ اس وبا نے تو محبتیں ہی چھین لی ہیں۔ دوریاں دو چند ہورہی ہیں، مرض کو کیسے پر لگے ہیں کہ اُڑ کر ایک دوسرے کو لگ رہا ہے۔

کہتے ہیں کہ کچھ نہ کرو، گھر میں بند ہو کر بیٹھ رہو۔ جیسے آیا ہے، ویسے ہی چلا جائے گا۔ کیسا آسان نسخہ ہے۔ ایسا ہی ہوتا تو اٹلی میں سب جی رہے ہوتے اور ایران پر رحمتوں کی جھڑی لگی ہوتی۔

بیماریاں پہلے بھی پھیلتی تھیں اس کا علاج دوائی سے ہوا کرتا تھا۔ یہ کون سا مرض ہے جس کا علاج تنہائی سے ہوتا ہے۔ اگر یہ بے رحم کورونا وائرس آپ کی جان سے چمٹ ہی گیا ہے تو خود کو کسی کمرے میں بند کر لیں، نہ آپ باہر جائیں، نہ کوئی اندر آئے۔

تو کیا کرے، انسان انسان سے بیزار ہو جائے؟ یہ تو بیماری نہ ہوئی، یہ تو انسان دشمنی ہوئی، محبت کی قاتل۔ ہم جو سدا محبتوں میں پلے ہیں، چاہتوں میں بڑے ہوئے ہیں اور قربتوں میں رہ کر ہوش سنبھالا ہے، کیا کریں، سب سے کنارہ کر لیں، تمام سے منہ پھیر لیں۔ نہیں، یہ مرض نہیں کچھ اور ہے، یہ بیماری نہیں، کوئی آسمانی آفت ہے۔

کیا عجب کہیں سے کوئی اُڑن طشتری آئی ہو اور اپنے ساتھ یہ وبا لائی ہو۔ ایسی آفت کہ جس میں وبا تو ہو، وفا نہ ہو۔ جس میں ایسا کچھ ہو جو پہلے کبھی نہ ہوا، جس میں کچھ ایسا کرنا پڑ ے جو پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ جس کے چلن نرالے اور جس کے ڈھنگ انوکھے ہوں۔ اسی لئے تو یہ انسان کے بس میں نہیں آرہی۔

یہ مرض اپنے ساتھ حیرتیں لایا ہے۔ جہاں جہاں پھیلا ہے وہاں عجیب باتیں ہو رہی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ہلاکتوں کی خبروں کی بہتات کے باوجود یوں لگتا ہے جیسے لوگ ان خبروں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا رہے ہیں۔

جیسے لوگوں کو ایک عجیب دیوانگی جیسا یقین ہے کہ جو ہونا ہے اوروں کو ہو، انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ کرفیو لگ رہے ہیں، لاک ڈاؤن ہورہے ہیں، اور سرپھرے لوگ یہ دیکھنے کے لئے گھروں سے نکل رہے ہیں کہ باہر کیا ہورہا ہے۔ ذمے دار لوگ چیخ رہے ہیں چلا رہے ہیں کہ یہ لاک ڈاؤن ہے، مزے کرنے والی چھٹی نہیں گھر بیٹھنے کے لیے چھٹیاں دی گئی ہیں۔

یہ بات سن کر لوگ قہقہے لگا رہے ہیں۔

آج ہمارے سروں پر سوال منڈلا رہا ہے۔ کیا ہم پر کورونا وائرس کی شکل میں عذاب نازل ہوا ہے؟

کیا یہ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح گزر جائے گا یا آج کے بعد ہمارا رویہ بدلے گا؟.

کیا ہمارے سوچنے سمجھنے کے انداز بدلیں گے؟

کیا انسانی جان کی جو قدر و قیمت بازار کے بھاؤ کی طر ح گرتی جارہی تھی، اس قیامت کے بعد وہ ہمیں ہمیشہ سے زیادہ عزیز ہوگی؟

کیا آج کے بعد ہم اپنے ماحول کو صاف رکھیں گے کہ پھر کوئی نیا وائرس سر نہ اٹھا سکے؟

اگر ہم اس وبا سے بچ گئے تو کیا اسی طرح حقداروں کو حق ماریں گے یا حق داروں تک انکا حق پہنچائیں گے؟

طاقت رکھ کر کمزور کا حق تو نہیں ماریں گے؟

خیر کے وسائل ہونے پر دوسروں پر انہیں دوبارہ سے روکے گا تو نہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں