سندھ میں شراب خانہ کھولنے کی شرط کیا ہے؟




کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ ایکسائز سے 29اپریل تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ قانون کے سامنے پیش کریں جس کے تحت صوبے میں شراب خانے کھولے گئے۔

سندھ ہائیکورٹ میں شراب خانوں کو لائسنس کے اجرا کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ سندھ اور ڈائریکٹر ایکسائز بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کن شرائط پر شراب خانوں کو لائسنس جاری کیے جاتے ہیں؟ ہمیں یہ دیکھنا ہے جو لائسنس جاری کیا گیا وہ قانون کے مطابق ہے یا نہیں؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ سندھ نے بتایا لائسنس جاری کرنے کی دیگر شرائط میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ تعلیمی ادارے ،مساجد اور مدارس کے قریب شراب خانے نہیں کھولے جائیں گے۔

ڈائریکٹر ایکسائز نے عدالت کو بتایا کہ لائسنس جاری کرنے سے پہلے ان ساری چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ شراب خانہ وہاں کھولنے کی اجازت ہے جہاں غیرمسلم آباد ہوں۔

انہوں نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ ڈیفنس میں جس شراب خانے کے خلاف درخواست دائر کی ہے ان کو 1985 میں لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ 1985 اور 2020 کے ڈیفینس میں بہت فرق ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ شراب خانوں پر مستقل پابندی کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کر رکھا ہے۔

جس پرعدالت نے سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی نقول بھی 29 اپریل کو طلب کرلیں۔

یاد رہے کہ2017 میں بھی سندھ ہائی کورٹ نے شراب کی 120 دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد شراب خانوں کے مالکان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سندھ میں شراب خانوں کی بندش سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کردیا تھا۔

The post سندھ میں شراب خانہ کھولنے کی شرط کیا ہے؟ appeared first on ہم نیوز.

اپنا تبصرہ بھیجیں