بدعنوانی میں ملوث افسران کو قبل از وقت ریٹائر کرنے کیلئے قانون تیار




اسلام آباد: بدعنوانی میں ملوث افسران کو قبل از وقت ریٹائر کرنے کے لیے قانون تیار کر لیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے رولز جاری کردیے۔ دستاویزات کے مطابق سول سرونٹس ریٹائرمنٹ رولز فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ وزیر اعظم نے سول سرونٹس ریٹائرمنٹ رولز 2020 کی منظوری دی۔

دستاویز کے مطابق رولز کے تحت سول سرونٹس کو براہِ راست ریٹائر کیا جا سکے گا اور اطلاق ان افسروں پر بھی ہو گا جن پر کرپشن کا الزام ثابت ہوا۔ رولز کا اطلاق نیب یا کسی ادارے سے پلی بارگین کرنے والوں پر بھی ہو گا۔

رولز کے تحت ریٹائرمنٹ کے لیے بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جو گریڈ 20 و بالا کے افسران کی براہ راست ریٹائرمنٹ کی سفارشات مجاز اتھارٹی کو بھجوائے گا اور وزیر اعظم گریڈ 22 کے افسر کو ذاتی شنوائی کے لیے نامزد کریں گے۔

قبل از وقت ریٹائرڈ افسران پنشن و مراعات کے حق دار ہوں گے اور متاثرہ افسروں کو اپیل کا حق دیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق بورڈ کے چیئرمین ایف پی ایس سی کے چیئرمین ہوں گے اور بورڈ میں سیکرٹریز کابینہ، اسٹیبلشمنٹ، خزانہ اور قانون شامل ہوں گے۔ جس میں وزارت یا ڈویژن کا افسر بھی شامل ہو گا اور اُس کے سیکرٹری بھی رکن ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں ’  اپوزیشن لیڈر کیخلاف بیانات سے حکومت کی کرپشن چھپ نہیں سکتی‘

گریڈ 17 سے 19 افسران کے لیے الگ بورڈ تشکیل دیا گیا ہے اور اس بورڈ کے چیئرمین متعلقہ ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ سینئر جوائنٹ سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری بھی چیئرمین ہو سکتے ہیں۔

The post بدعنوانی میں ملوث افسران کو قبل از وقت ریٹائر کرنے کیلئے قانون تیار appeared first on ہم نیوز.

اپنا تبصرہ بھیجیں