سارے کام کاغذوں میں ہو رہے، کسی چیز میں شفافیت نہیں،چیف جسٹس




اسلام آباد: چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، کسی چیز میں شفافیت نہیں، کوویڈ 19 کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات پھر سامنے آئے گی۔

سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ماسک اور گلوز کےلیے کتنے پیسے چاہیے؟ اگر ہول سیل میں خریدا جائےتو2 روپے کا ماسک ملتا ہے تو ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں؟

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں؟ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں، وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے، رپورٹ میں نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کو زکوٰۃ کی تقسیم پر تحفظات،اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب

عدالت نےسیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ کیا حاجی کیمپ قرنطینہ کا دورہ کیا گیا ہے؟

سیکرٹری صحت نے جواب دیا کہ دورہ کیا تو حاجی کیمپ قرنطینہ غیر فعال تھا، ایک کمرے میں پارٹیشن لگا کر4 افراد کو رکھا گیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے گرلز ہاسٹل میں قرنطینہ سنٹر منتقل کیا جہاں48 کمرے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بنیادی سہولیات کے بغیرحاجی کیمپ میں قرنطینہ کیسے بنایا گیا؟ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے کی رپورٹ آئی ہے لیکن اس میں کچھ واضح نہیں۔ این ڈی ایم اے کی نمائندگی کون کررہا ہے؟ ڈی سی اسلام آباد نے عدالت کا آگاہ کیا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز این ڈی ایم اے نے بنایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت ایک درخواست پر دکان اور فیکٹری کھولنے کی اجازت دے رہی ہے۔ سندھ میں پالیسی بنانے کی بجائے فیکٹری کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ملکی حالات بہت خراب ہو چکے ہیں،لوگوں کا کاروبار اورروزگار چلا گیا ہے۔

معززجج نے کہا صوبائی حکومت کا وزیر کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ کرا دیں گے، پتہ ہے کہ صوبائی وزیر کیا کہہ رہے ہیں، یعنی صوبائی وزیر کا دماغ بلکل آؤٹ ہے،دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے مارکیٹیں بند کر کے مساجد کھول دی ہیں، کسی جگہ پر ریگولیشنز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا مساجد سے کورونا وائرس نہیں پھیلے گا؟ 90فیصد مساجد میں میں ریگولیشنز پر عمل نہیں ہو رہا۔ اگر فاصلہ رکھنا ہے تو سب جگہ پر رکھنا ہو گا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب میں 37 صنعتیں کھولی گئی ہیں۔ عدالت استفسار کیا کہ 37صنعتیں کھول دیں باقی صنعتوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ پنجاب سے متعلق جو آپ کاغذ پڑھ رہے ہیں حقیقت اس سے مختلف ہے۔ میں خود پنجاب کا ہوں ، مجھے علم ہے وہاں صورتحال کیسی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی معاملات کے حوالے سے شیڈول 4 کو دیکھ لیں۔ امپورٹ، ایکسپورٹ ،لمیٹڈ کمپنیز،ہائی ویزاور ٹیکس کے معاملات وفاقی ہیں۔ صوبائی حکومت وفاق کے معاملات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ چاروں صوبے اور آئی سی ٹی اپنی پالیسی سازی میں مکمل آزاد ہیں۔ کام کچھ نہیں کیا لیکن ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کے ریوینیو کا راستہ صوبائی حکومتیں کیسے بند کرسکتی ہیں؟
صوبائی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وفاق سے تصدیق ضروری ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ 2014 کے قانون کے تحت کیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا صوبائی حکومت کا اختیار اسی حد تک ہے جو آئین دیتا ہے، کاروبار ی سرگرمیوں پر وفاقی حکومت ٹیکس لیتی ہے، صوبے اس پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں؟

The post سارے کام کاغذوں میں ہو رہے، کسی چیز میں شفافیت نہیں،چیف جسٹس appeared first on ہم نیوز.

اپنا تبصرہ بھیجیں