سندھ حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن مسترد کردیا




کراچی: سندھ حکومت نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم  کے لیے تسکیل دیے جانے والے10ویں قومی مالیاتی کمیشن کو مسترد کردیا۔

ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل غیر آئینی ہے

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق مشیر خزانہ (وزیر خزانہ کی غیر موجودگی) میں قومی مالیاتی کمیشن کی صدارت نہیں کرسکتے ہیں۔

ترجمان صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت این ایف سی کی تشکیل پر وزیراعظم کو خط لکھے گی۔ اس معاملے میں ہرفورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے دو دن قبل قومی مالیاتی کمیشن دے دیا تھا، جس کے تحت وزیراعظم اس کے چیئرمین ہونگے۔

مزید پڑھیں: حکومت کیساتھ 18ویں ترمیم، این ایف سی پر بات کیلئے تیار ہیں، شاہد خاقان عباسی

نئے مالیاتی کمیشن کے تحت مشیر خزانہ اور چاروں صوبائی وزرائے خزانہ اس کے رکن ہوں گے۔ اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ کی غیر موجودگی میں مشیر خزانہ قومی مالیاتی کمیشن کی صدارت کریں گے۔

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے تشکیل دیے جانے والا قومی مالیاتی کمیشن 23 اپریل 2020 سے موثر ہوگا۔

دسویں قومی مالیاتی کمیشن کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری خزانہ بطور ماہر کمیشن کا حصہ ہونگے۔ سابق وزیر اطلاعات اور ماہر تعلیم جاوید جبار بلوچستان کی طرف سے قومی مالیاتی کمیشن کے ممبر ہونگے، جبکہ  ڈاکٹر اسد سعید صوبہ سندھ، مشرف رسول خیبر پختونخوا اور پنجاب سے سابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کمیشن کے ممبر ہونگے۔

The post سندھ حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن مسترد کردیا appeared first on ہم نیوز.

اپنا تبصرہ بھیجیں