تو سلامت وطن تا قیامت وطن – ماریہ حق




“لوگو! جس کا انتظار تھا وہ آگۓ ہیں”……..”پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں ”
مدینہ کی گلیوں میں جشن کا سا سماں ہے۔ ہر سو چہل پہل ہے۔ سب کے دل بےتاب ہیں ۔ چہرے پھول کی طرح کھلے ہوئے ہیں ۔ آخر کیوں نہ ہو آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جو پہنچ رہے ہیں ۔ ہر طرف مسرتوں کے گیت گانے جا رہے ہیں ۔
طلع البدرعلينا من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا مادعالله داع
ايها المبعوث فينا جئت بالامر المطاع
چھوٹے بچے ڈف بجا بجا کر آپ کا استقبال کر رہے ہیں ۔ ہر دل میں اپنے معزز مہمان کو ایک نظردیکھنے کی تڑپ ہے۔ اور اس ہی غرض سے لوگ اونچی اونچی جگہوں پر چڑھے ہوئے ہیں ۔ یہ منظر اس وقت کا ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی پاک سرزمین پہ قدم رکھا اور آپ کو یہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا جبکہ آپ کے اپنے وطن والوں نے آپ کا ساتھ نہ دیا۔ یہ ہی وہ سرزمین ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی تھی اور اسلام کی پہلی مسجد “مسجد قبا” کی تعمیر کروائی۔
……………………………………………..
منظر بدلتا ہے اور ورق پہلی ہجری سے پلٹتا ہے اور 1366ہجری پہ آکر رک جاتا ہے۔ شہسوار مشرق ایک ریل گاڑی دیکھتا ہے جس کے ڈبوں میں مسلمانوں کی خون آلود لاشیں بھری پڑی ہیں ۔ وہ مزید نظریں دوڑتا ہے تو خستہ حال، بھوکے، پیاسے، غریب، زخمی، تھکے، اور ستاۓ ہوۓ چہروں کو دیکھتا ہے ۔ مگر انکی آنکھوں میں امید، محبت اور خوشی کے ملے جلے جذبات ہیں۔ گدھے گاڑیوں، بیل گاڑیوں اور کچھ پیادہ لوگ ایک جانب چلے جا رہے ہیں۔ دھوپ آنکھوں کو چندھیا دینے والی ہے مگر وہ دھوپ بھی ان آنکھوں میں موجود چمک اور امید کے چراغوں کو مدھم کرنے کے لیۓ ناکافی ہے۔ لوگ ایک جگہ پہنچ کر رک جاتے ہیں اور سجدے میں گر جاتے ہیں۔ وہ دیوانہ وار مٹی کو چوم رہے ہیں۔ جی ہاں یہ منظر ہے رمضان المبارک کا جب برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی حاصل کی اور اسلام کے نام پر بننے والی دوسری ریاست کی بنیاد ڈالی۔ ہندوستان کی گلیاں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی تھیں۔ بٹ کے رہے گا ہندوستان، لے کے رہینگے پاکستان …………. پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اله الا الله …… ہندوستان کی گلیاں اور شہسوار مشرق بھی ان نعروں کا گواہ ہے
منظر بدلتا ہے
منظر 1 :-
وہ پاسپورٹ آفس کے باہر کھڑے ہیں ۔ سورج اپنے عروج پر ہے۔ گورنمنٹ کا ایک ملازم اندر سے نکل کر آتا ہے،”ارے صاحب! کیا ہوا تھک گئے کیا؟ بہت گرمی ہے ناں” …… “ہاں تھک تو گیا ہوں، آخر صبح سے یہاں کھڑا ہوں مگر باری ہے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی”
ملازم قریب آتا ہے اور رازداری سے انکے کان میں کہتا ہے،”صاحب جی مجھے تین ہزار روپے دیں ابھی کے ابھی آپ کا کام ہو جائے گا ” وہ پھینکی ہنسی ہنستے ہیں،”کیا واقعی؟” . ملازم بولتا ہے،”ہاں صاحب واقعی” ……. “کیا میرا ضمیر اتنا گر گیا ہے کہ میں اس چھوٹے سے کام کے بدلے جہنم میں اپنا گھر کروں جہاں کی گرمی کا یہاں کی گرمی سے کوی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ میں اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں آپ چلے جائیں” ملازم کندھے اچکاتا ہوا چل دیتا ہے،” سانوں کی، یہ نہیں دیتا پیسے تو کسی اور سے وصول کرلوں گا ”
منظر 2:-
انکی والدہ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ گاڑی میں انہیں ہسپتال لے کر جا رہے ہیں ۔ جلد بازی میں وہ ایک سنگل توڑ دیتے ہیں ۔ ٹریفک پولیس کی ایک گاڑی انکے تعاقب میں آتی ہے اور انکو رکنے کا اشارہ کرتی ہے ۔ ایک کانسٹیبل نیچے اترتا ہے،” ہاں جی، نکالیے چالان” …..”دیکھیں ابھی ایمرجنسی ہے میں نہیں رک سکتا میں بعد میں آکر چالان بھر دونگا” . “چلیں محترم جلادی سے ہمارے پیسے نکالیں اور چالان معاف کروالیں ورنہ ہم نہیں جانے دینگے” وہ بے بسی سے ایک نظر درد سے تڑپتی ماں پر ڈالتے ہیں اور دوسری طرف ایک بے ایمان ٹریفک کانسٹیبل کو۔
منظر 3:-
کالے شیشوں والی ایک ائیر کنڈیشنڈ گاڑی سگنل پر رکنے کی بجائے اسے کراس کر جاتی ہے۔ پولیس کی ایک گاڑی اس کے تعاقب میں جاتی ہے ۔ “چلیں صاحب چالان ہوا ہے آپ کا “، پولیس کانسٹیبل شیشہ کھکٹاتا ہے۔ شیشہ نیچے اترتا ہے اور ایک مغرور شخص نظر آتا ہے۔ “صاحب آپ کے شیشے بھی کالے ہیں اس کا بھی چالان ہو گا۔” وہ شخص منہ سے کچھ بولے بغیر ھیں سے تین ہزار روپے نکالتا ہے اور کانسٹیبل کےہاتھ پر رکھ دیتا ہے جیسے کہ رہا ہو اپنے پیسے لو اور جان چھوڑو۔ کانسٹبل کے غصے کے مارے جبڑے کھنچتے ہیں ۔ “آپ نے کیا سمجھ رکھا ہے؟ آپ کسی بھی غریب کانسٹیبل کو رشوت دیں گے اور وہ لےلے گا؟ نہیں صاحب ابھی میرا ضمیر زندہ ہے میں یہ کسی صورت نہیں لے سکتا آپ اپنا چالان جمع کرائیں ۔” شہسوار مشرق اس منظر کا بھی شاھد بن جاتا ہے۔
منظر 4:-
پہلی جماعت کی استانی بچوں سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔ “عباد اب آپ کی باری، آپ کھڑے ہو کر بتائیں کہ آپ کیا بنیں گے؟ ” عباد کھڑا ہوتا ہے۔ “مس میں بڑے ہو کر ڈاکٹر بنوں گا”. مس: اچھا! وہ کیوں؟ عباد: مس میں ڈاکٹر بن کر بہت سارے پیسے کمانا چاہتا ہوں۔ میں نے کل ڈیڈی کو بات کرتے سنا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں عباد کو ڈاکٹر بناؤں گا اس فیلڈ میں بہت پیسا ہے۔ استانی کے چہرے سے ہی سن کر مسکراہٹ چلی جاتی ہے۔
منظر 5:-
“کشمیر بنے گا پاکستان”………….”کشمیر بنے گا پاکستان”.
آج صائمہ کے آفس کی طرف سے کشمیر ڈے پر ایک ریلی نکالی تھی۔ “اف! کتنی گرمی ہے مگر کتنا مزا آیا ناں۔ دیکھو کتنی اچھی تفریح بھی ہوگئ “، صائمہ اپنے اونچی ایڑی میں مقید پاوں کو سہلاتے ہوئے بول رہی تھی۔اور شہسوار مشرق اس قوم کی بیٹی کو محض تفریح کے لیے ریلی میں شرکت کرتے دیکھ کر افسوس کر رہا تھا۔
منظر 6:-
عدالت لگی ہوئی تھی ۔ “ملزم پر لگے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کو عدالت باعزت بری کرتی ہے”. کوٹ پینٹ میں ملبوس وہ شخص مغرور مسکراہٹ سے اپنے حمایتوں پر ایک نظر ڈالتا ہے۔ اسکا سیکریٹری آگے بڑھتا ہے اور کانسٹیبل میں آکر بولتا ہے” سر ہم نے سارے ثبوتوں کا بہت مہارت سے صفایا کر دیا تھا بلکہ منسٹر صاحب کو بھی کہہ دیا تھا کہ آپ اندر نہ جانے پائیں ورنہ اس کا کا خرچہ پانی بند کر دینگے، تو آخر آپ کیسے بری نہ کردیئے جاتے” . وہ شخص اکڑتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے جہاں سارے نیوز رپورٹرز اس کی “مظلومیت” کی داستان سننے کو بےتاب تھے۔ مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عرش پہ موجود انصاف کی چکی تھوڑا دھیرے سے چلتی ہے مگر چکی کے پاٹوں میں بہت باریک پستا ہے۔
اب شہسوار مشرق اہل پاکستان کی حالت کو دیکھ کر سوچ رہا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے کہ جس کے لے اتنی قربانیاں دی گئیں؟ کتنی ہی بےگور و کفن لاشیں زمین کی آغوش میں چلی گئیں۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے کہ جس کی خاطر مسلمان کٹ گئےلٹ گئے، مر گئے۔ نہیں! وہ پاکستان ایسا تو نہیں تھا۔ وہ تو اقبال کا خواب تھا ۔ جناح کی امید تھا۔ وہ تو وہ سرزمین تھی کہ جس کی بنیاد لا إله الا الله پہ تھی۔ وہ تو ایسا پاکستان تھا جہاں انصاف تھا، جہاں بے ایمانی نی تھی، جہاں اسلامی دستور تھا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے ائے لوگوں؟ کیا تم اس وقت کو بھول گئے کہ جب تم ہندوستان میں محکوم تھے، تم مظلوم تھے، تم بے بس تھے تو تمہارے رب نے تمہیں ایک الگ ملک سے نوازا جہاں تم آزادی سے جی سکو، جہاں تم سر اٹھا کر فخر سی کہہ سکو کہ ہاں میں مسلمان ہوں اور میں ایک خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ تم کو کیا ہو گیا ہے لوگوں؟ تم کو خدا کا خوف کیوں نہیں رہا؟ تم کیوں بے ایمانیوں میں پڑ گئے ہو؟ تم کیوں عیاشیوں میں مگن ہو گئے ہو؟ لوگو! اٹھو! اٹھو کر دیکھو اپنے وطن کا حال۔ دیکھو تمہارا وطن تمہیں پکار رہا ہے۔ اٹھو اور دیکھو اپنے وطن کو۔ سنبھال لو اسے ائے لوگوں اسے سنبھال لو۔۔۔۔ابھی بھی وقت ہے ۔۔۔اٹھو اور اپنے وطن کو سنبھال لو۔۔۔۔۔
میرے وطن کے اداس لوگو
جھکے سروں کو اٹھا کے دیکھو
قدم تو آگے بڑھا کے دیکھو
ہے اک طاقت تمہارے سر پر
کرے گی سایہ جو ان سروں پر
قدم قدم پر جو ساتھ دے گی
اگر گرے تو سنبھال لے گی
میرے وطن کے اداس لوگو
اٹھو چلو اور وطن سنبھالو

اپنا تبصرہ بھیجیں