کب تک خاموش رہو گے؟ – شہلا خضر




وطن عزیز کے معصوم شہری ایک بار پھر المناک سانحے کا شکار ہوۓ . یہ درست ہے کہ موت کا وقت اور دن مقرر ہے …… ﷲ کی مرضی کیے بغیر پتہ بھی ہل نہی سکتا ۔۔۔۔۔ مومن کو ﷲ کی رضا میں راضی رہنا چاہیے اور یہ بھی کہ ﷲ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔۔!
یہ تو ﷲ پاک کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہمارے اعلیٰ دینی عقائد ہمیں ہر بار سہارا دیتے ہیں اور ہمیں اتنے اندوہناک حادثات کے بعد بھی جینے کی امنگ اور حوصلہ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن ہر تھوڑے عرصے بعد وقوع پزیر ہونے والےان حادثات میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اداروں سے کوئی حساب لینے والا موجود نہیں ہے کیا ؟ کیا ارباب اقتدار کا فرض نہی کہ وہ حادثات کی مکمل شفاف اور فوری تحقیقات کروائیں اور غفلت کے مرتکب اداروں کو کڑی سزائیں دلوائیں ؟؟ کیا حکمران پارٹیوں کو عوام نے ووٹ اس لۓ دیا تھا کہ وہ صرف اپوزیشن یا مخالفین کے خلاف کاروائیں کریں ؟؟؟ کیا سالہا سال سے اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے فرض میں عوام کی جان ومال کا تحفظ شامل نہیں ؟؟؟؟ سادہ لوح عوام اپنے مسائل کس کے پاس لے کر جائیں ……..! بدقسمت “پی آئ اے” طیارہ انجن میں خرابی کے باعث ایمر جنسی لینڈنگ کی کوشش میں تباہ ہوا ……..
لیکن وزیر ہوا بازی غلام سرور صاحب…… سارا الزا م ائیر پورٹ کے اطراف کی اراضی میں موجود غیر قانونی تعمیرات پرڈال کر خود اپنی ذمہ داری سے بچنے کا بھونڈا جواز تلاش کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اینکروچ منٹس یا تجاوزات کو بھی اس حادثے کے محرکات میں شامل کیا جا سکتا …….. لیکن غور طلب بات تو یہ ہے کہ یہ عمارات تو سالہا سال سے وہیں پر موجود ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن سول ایوی ایشن کے محکمے نے کبھی اس مسلۓ کی نشاندہی کی اور نہ ہی اس کی سنگینی کا احساس کرتے ہوۓ اس کے سد باب کی کوشش کی …… بد قسمت جہاز نے انجن خراب ہونے کی اطلاع کنٹرول ٹاور کو دی ٫ مگر یہاں بھی سول ایوی ایشن کی وہی مجرمانہ غفلت دیکھنے کو ملی۔ جناح انٹرنیشنل ائیرپورث پر کسی قسم کے حادثاتی لینڈنگ کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے جہاز ہوا میں چکر لگاتا رہا ……. اسی دوران نچلی سطح پر پرواز کے باعث پرندوں سے بھی ٹکرا گیا اور اس کے فوراََ بعد جہاز کے دونوں انجن بند ہو گۓ اوروہ تباہی کا شکار ہوا ……!
فلائٹ آپریشن سے پہلے مکمل چیکنگ کر کے جہاز کو این او سی دینے والے سول ایوی ایشن کے محکمے اپنے فرائض انجام دینے کی کتنی صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں، اس کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں ؟؟ تین ماہ کے دوران مکمل رپورٹ بنانے کی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج تک ہونے والے کسی ایک بھی حادثے کے زمہ داران کو تحقیقات کے زریعے عوام کے رو برو پیش کیا گیا ہے کیا ؟؟ مارگلہ جہازکریش ، چترال فوکر کریش ، تیز گام آتشزدگی ، رحیم یارخان آئل ٹینکر حادثہ اور بلدیہ ٹائون آتشزدگی جیسے ناقابل فراموش خوفناک حادثات میں سے اب تک کسی ایک کی بھی مربوط اور مفصل تحقیقاتی رپورٹس عوام کے سامنے پیش نہی کی گئیں ۔۔۔۔۔۔ اگر ارباب اختیار بحیثیت ملک کے”نگہبان اور سرپرست” کے درد دل کے ساتھ تحقیقات کرتے تو شاید ایسے سنگین حادثات میں کسی حد تک کمی آجاتی ، مگر جب غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تو پھر اربوں روپے کمانے والی کمپنیاں بھی کیوں اپنا سرمایہ حادثات سے بچاؤ کے لۓ حفاظتی انتظامات پر صرف کریں ؟
خدارا ….ِ! چند روزہ اختیارات کو دائمی نہ سمجھیں یہ عارضی ہیں ،اور ان کا جائز اور منصفانہ استعمال “آخرت میں آپ کی بخشش اور ان سے غفلت کڑی سزا کا مستحق بنا ڈالے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب حکام بالا سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی زمہ داری کو سمجھتے ہوۓ جلد از جلز طیارہ حادثہ کی مکمل مربوط اور شفاف رپورٹ منظر عام پر لے کر آئیں ۔۔۔۔اور خود کو اس منصب کا اہل ثابت کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں