کرونا کی کہانی – احمد حاطب صدیقی




جب ہم بڑے ہو جاٸیں گے
دادا میاں کہلاٸیں گے
کچھ ڈگمگا کر آٸیں گے
پھر ڈگمگاتے جاٸیں گے
موٹی سی عینک ناک پر
رکھتے ہوٸے گھبراٸیں گے
بچوں کا اُدّھم دیکھ کر
چیخیں گے اور چِلّاٸیں گے
وہ ڈر کے جب رونے لگیں
ہم اُن کا جی بہلاٸیں گے
مٹی میں مت کھیلا کرو
یوں پیار سے سمجھاٸیں گے
جو گندگی میں جاٸیں گے
بیمار وہ پڑ جاٸیں گے
بیٹھو یہاں آرام سے
اِک بات ہم بتلاٸیں گے
اب غور سے سننا ذرا
چھوٹے تھے ہم تو کیا ہوا
اک دن اچانک چِین سے
دنیا میں پھیلی اِک وبا
اور دیکھتے ہی دیکھتے
لاکھوں ہوٸے اس میں فنا
تیزی سے پھیلا یہ مَرَض
جس کا ”کرونا“ نام تھا
انسان سے انسان کو
چھونے سے بڑھتا ہی گیا
غیروں سے کیا؟ اپنوں سے بھی
کوٸی بشر ملتا نہ تھا
ہر شخص گھر میں قید تھا
دنیا میں سنّاٹا ہوا
اسکول، کالج، مارکیٹ
ہر چیز پر تالا پڑا
گاڑی، جہاز اور ریلوے
سب بند، کچھ چلتا نہ تھا
مومن ہو یا کافر کوٸی
ہر ایک سجدے میں گرا
اللہ کی رحمت نے پھر
ٹالی کسی صورت بلا
لیکن یہ انساں آج بھی
ہے رب کا ناشکرا بڑا

اپنا تبصرہ بھیجیں