وہ بُجھ گیا ہے – عائشہ غازی




منور حسن اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ چھوٹے پیمانے ان کے ساتھ چلنے کےمتحمل نہیں رہے تھے……. ان کے ساتھ قیمتی تاریخ ، بے مثال کردار ، مہذب سنجیدگی اور جراتِ گویائی کا باب ختم ہوا…….. انکے جانے پر میرے لاشعور نے منور حسن کے نام کچھ لفظ خود ہی ترتیب دے کر مجھ سے کہے ہیں :
فضا پہ چھائی ہوئی
سیاہی بتا رہی ہے …….
کہیں کوئی آخری ستارہ چمک رہا تھا
وہ بجھ گیا ہے…….
جو ظلمتوں میں بھی روشنی پر ڈٹا رہا تھا
کہ جب بڑے نامدار سورج بجھے پڑے تھے……
وہ اک اکیلا نحیف شعلہ کھڑا رہا تھا
ستم کے موسم میں
اپنے قاتل کے منتظر جب
خود اپنی قبروں میں سر جھکائے پڑے ہوئے تھے
کہ جب زبانیں خود اپنے پہرے پہ جاگتی تھیں
وہ بولتا تھا……
وہ ایسی جرات سے بولتا تھا
کہ جیسے قاتل کا تاج شاہی اچھالتا ہو
ہوا کا سکتہ بتا رہا ہے ……
جو اتنے کتبوں کے بیچ زندہ کھڑا ہوا تھا
وہ آخری شخص مر گیا ہے …….!

اپنا تبصرہ بھیجیں