وطن کی داستان – ساجدہ اقبال




برسوں پہلے دیس کی تسبح پڑھتے تھے
راتیں آنکھوں میں کٹتی روز دعاٸیں کرتے تھے
ہم بھت ہی اچھے بچے تھے
اللہ نے سن لی پھر فریاد
ٹوٹیں زنجیریں پہنے ہار
تکبیر لگائی سو سو بار
قسمیں کھاٸیں نیچے مینار
دلوں میں آگٸی ایک بہار
نہ کوٸی سندھی نہ پٹھان
سب تھے ایک دوسرے کی جان
دور ہوے سب رام رام
ہم نے پکڑا ایک قران
پھر نا جانے کیا ہوا
کس کے دھوکے میں ہم آگۓ
ساری قربانی خاک ہوٸی
پر اک صدا پھر آئی ہے
پچھلے سارے ہرجائی ہیں
گن گن کر بدلے لوں گا میں
اس نے جھولی پھلائی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں