یہ کیسا جشن آزادی – سمیرا غزل




یہ زخمی زخمی آزادی
اور زخم یہ سب سے گہرا ہے
کچھ لوگ نظریہ بھول گئے
کچھ زخم یہاں بنگال کے ہیں
کچھ زخم یہاں ہیں کشمیری
کچھ زخم ہیں بم دھماکوں کے
کچھ خانہ جنگی کی باتوں کے
کچھ نفرت اور تعصب کے
کچھ علیحدگی کے نعروں کے
کچھ صوبے الگ بنانے کے
کچھ زخم یہاں کے نسلی ہیں
ساتھ میں روگ لسانی بھی
اس پرچم کے سائے تلے
سب کے پرچم کا سایہ ہے
ہر اک کی ہے پہچان الگ
سب بھول گئے اپنی وادی
میں خوش ہو کر بھی ناخوش ہوں
یہ کیسا جشن آزادی
یہ کیسا جشن آزادی……..!

اپنا تبصرہ بھیجیں